پاکستان نے استنبول میں گذشتہ 80 برسوں میں ہونے والی شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے تباہی اور اموات پر گہرے دکھ کا افسوس کرتے ہوئے ترکی کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے جمعے کو ایکس پر اپنے الگ الگ پیغامات میں سیلاب سے ہونے والی تباہی اور اموات پر دکھ کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے زخمیوں کی جلد صحت یابی اور لاپتہ افراد کی بحفاظت تلاش کے لیے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اس مشکل وقت میں ترکی کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
Deeply saddened by the loss of precious lives and the devastation caused by the severe flooding in Istanbul. I extend my heartfelt condolences to my dear brother, President Recep Tayyip Erdoğan, and to the bereaved families. I pray for the swift recovery of those injured and the safe recovery of those still missing. Pakistan stands in solidarity with the brotherly people of Türkiye and is ready to extend all possible assistance during this difficult time. @RTErdogan
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 16, 2026
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور ’مشکل وقت میں ترکی کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ تمام افراد کے لیے ہمت اور حوصلے کی دعا کی۔‘
President Asif Ali Zardari has expressed deep sorrow over the loss of precious lives and the extensive damage to homes and property caused by devastating floods in Istanbul, Türkiye. The President conveyed his heartfelt condolences to President Recep Tayyip Erdoğan @RTErdogan and the bereaved families, expressing solidarity with the people of Türkiye in this difficult time and wishing strength to all those affected.
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) October 16, 2026
استنبول میں بدھ (14 اکتوبر) کی صبح شدید بارش شروع ہوئی تھی، جس میں دن بھر شدت آتی گئی۔ اس کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہو گیا اور اچانک سیلابی صورت حال پیدا ہوئی۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں تیز بہاؤ کے ساتھ گاڑیوں کو بہتے ہوئے دیکھا گیا۔
سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد جمعے کو بھی امدادی سرگرمیاں جاری رہیں۔ حکام کے مطابق شہر میں کم از کم 80 سال کے دوران ہونے والی شدید ترین بارش کے باعث آنے والے سیلاب کے نتیجے میں اموات کی تعداد بڑھ کر تین ہو گئی جبکہ پانچ افراد لاپتہ ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق استنبول کے گورنر داؤد گل نے کہا: ’ہم یہاں1942 میں ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے استنبول میں سب سے زیادہ بارش کی بات کر رہے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر کے مطابق استنبول کی بلدیاتی ٹیمیں اور فائر فائٹرز جمعرات کو سکولوں، فٹ بال گراؤنڈز، گیراجوں اور دیگر مقامات پر صفائی اور بحالی کے کاموں میں مصروف تھے۔ وہ سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکالنے اور کیچڑ صاف کرنے میں مصروف تھے۔
گورنر نے بدھ کی شام اعلان کیا تھا کہ استنبول بھر میں سکول پیر تک بند رہیں گے۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ ’انتہائی ضرورت کےعلاوہ‘ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور بیسمنٹ میں رہنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ ’رات زیادہ محفوظ اور اونچی منزلوں پر گزاریں۔‘
اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق شہر کے بعض علاقوں خصوصاً سریئر میں بجلی اور پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ وہاں دکانداروں کو کیچڑ سے اپنا سامان نکالنے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔
وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق بدھ کو استنبول ایئرپورٹ آنے والی43 پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا۔ ایشیائی حصے میں واقع صبیحہ گوکچن ایئرپورٹ آنے والی تین پروازوں کا رخ بھی موڑا گیا جبکہ تیز ہواؤں کے باعث اس ایئرپورٹ سے پروازوں کی روانگی عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔
ترکی کے آفات سے نمٹنے کے ادارے آفاد نے شدید بارش کے باعث پیش آنے والے واقعات سے نمٹنے کے لیے ایک ہنگامی مرکز قائم کر دیا ہے۔
توقع ہے کہ ہفتے کے اختتام تک شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔