آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے؟

لگتا ہے کہ مولانا کو یقین ہے کہ اسلام آباد آکر انہیں کم از کم 21 نہیں تو 14 توپوں کی سلامی تو ضرور ہی ملے گی۔ ویسے بھی اسلام آباد کی خشک ہواؤں میں آج کل چودہ لوگوں کے بارے میں سرگوشیاں کافی مضبوط ہوتی جا رہی ہیں۔

بظاہر تو سب کچھ پرسکون نظر آ رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان مطمئن ہیں۔ ان کی باڈی لینگوئج پرسکون ہی نہیں پراعتماد بھی ہے۔ ان کے شب و روز کے معاملات پر بھی قطعی فرق نہیں پڑا۔

وہ روزانہ معمول کے مطابق نہ صرف ورزش کر رہے ہیں بلکہ اپنے آفس کے کام بھی معمول کی طرح سرانجام دے رہے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی اگر کوئی فرد واحد اطمینان کی کیفیت میں نظر آتا ہے تو وہ وزیر اعظم ہی ہوتے ہیں۔ وزرا ان کے البتہ کافی پریشان اور مضمحل نظر آتے ہیں۔ کمروں اور راہداریوں میں سرگوشیاں سوال کرتی نظر آتی ہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔

اقتدار کے ایوانوں کی غلام گردشیں تو یہ خبریں بھی پھیلاتی نظر آتی ہیں کہ گاڑیوں پر سبز جھنڈے لہرانے والی کئی شخصیات نے اپنے مستقبل محفوظ بنانے کے لیے ہاتھ پاوں مارنے شروع کر دیے ہیں کہ کب نجانے کیا ہو جائے؟ وزیر اعظم کو ان سب کی خبر بھی ہے لیکن پھر بھی پرسکون اور پراعتماد ہیں۔ فی الحال ان کی نظر ایف اے ٹی ایف کے 18 اکتوبر کے فیصلے پر ہے۔ اگر یہ فیصلہ پاکستان کے لیے مثبت نکل آیا تو عمران خان حکومت کی معاشی پوزیشن نہ صرف ملک کے اندر بلکہ باہر بھی مستحکم اور مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہی وہ تاریخ ہے جب بلاول بھٹو کراچی سے حکومت مخالف جلسوں کو عوامی رابطہ مہم کا نام دے کر اپنی تحریک کا آغاز کریں گے اور ان کا بنیادی نعرہ ہو گا معیشت کی تباہ حالی۔

خدانخواستہ اگر ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ پاکستان کے حق میں نہیں آتا تو مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور بلاول بھٹو کی حکومت مخالف عوامی جلسہ تحریک کو مزید بنیاد مل جائے گی۔ بظاہر حکومت اور فوج اسی ایک صفحے کی شاندار تحریر کے تانے بانے بن رہی ہے جو روز اول سے  اس سٹرکچر کے لیے رقم ہے۔ سعودی عرب ایران مصالحت کا باب اس کی واضح مثال ہے۔ یقیناً وزیر اعظم کو تگڑی تھپکی ہے کہ گھبرانا نہیں ہے اسی لیے تو ان کے معاملات رولر کوسٹر رائیڈ کی مانند فراٹے بھر رہے ہیں۔

ادھر ایران سے واپسی، ادھر برطانوی شاہی جوڑے سے ملاقاتیں، ساتھ ہی سعودی عرب روانگی۔۔۔ لیکن اگر دوسری جانب نظر دوڑائی جائے تو کما حقہ، مولانا فضل الرحمان کی گفتگو اور چال ڈھال میں وہی اعتماد اور اطمینان نظر آتا ہے۔ نہ چہرے پر شک و شہبات کا شائبہ نہ انداز میں کوئی لرزش کا سایہ۔ جس قسم کی تیاری کی ویڈیوز جے یو آئی کی سامنے آئی ہیں اور جیسے مولانا سلامی کے چبوترے پر پورے قد سے ایستادہ سلامی لینے کی پریکٹس کر رہے ہیں واضح نظر آتا ہے کہ انہیں بھی کوئی تگڑی تھپکی ہے کہ گھبرانا نہیں ہے۔

لگتا ہے کہ مولانا کو یقین ہے کہ اسلام آباد آکر انہیں کم از کم 21 نہیں تو 14 توپوں کی سلامی تو ضرور ہی ملے گی۔ ویسے بھی اسلام آباد کی خشک ہواؤں میں آج کل 14 لوگوں کے بارے میں سرگوشیاں کافی مضبوط ہوتی جا رہی ہیں۔ وزرا کہتے ہیں کہ مولانا سے بات کر لیں گے۔ انہیں اب بھی غیر مرئی یقین ہے کہ بات بن جائے گی لیکن فی الحال بات بنتی تب تک نظر نہیں آتی جب تک مولانا کے اعلانیہ (اور غیر اعلانیہ) مطالبات میں سے وہ نکتہ یا نکات تسلیم نہ کر لیے جائیں جن پر مولانا پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فی الحال اعلانیہ طور پر تو یہ مطالبہ وزیراعظم کے استعفے کا ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت اسے مانے گی نہیں اور مولانا فضل الرحمان اس سے پیچھے ہٹیں گے بھی نہیں۔ درمیانی راستہ بھی کوئی نہیں۔ مولانا اگر اسی مطالبے سے دستبردار ہو گئے تو نہ صرف اپنی سیاست پر خودکش حملہ کریں گے بلکہ عمران خان کو بھی نئی زندگی بخش دیں گے۔ فی الحال تو مولانا کے مان جانے کی باتیں محض حکومتی خواہشات کے پینترے ہی لگتے ہیں جس سے وہ نہ صرف مولانا کے عملاً جاں نثار کارکنوں اور شاگردوں کو ایک طرف کمزور کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اپوزیشن کے دل میں مولانا کے عزائم کو لے کر وسوسے اور وہم ڈالنا چاہتے ہیں۔

فی الحال پیپلز پارٹی نے تو جزوی طور پر مولانا کی حمایت کر رکھی ہے لیکن ن لیگ کو تاحال سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کس کشتی میں سوار ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت ن لیگ کے بارے جو بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں وہ بھی سیاسی پلان کا حصہ ہوں تا کہ مستقبل قریب میں بوقت ضرورت کام آ سکیں اور شہباز شریف کو آئندہ کی کسی بھی ممکنہ تبدیلی کی صورت میں محفوظ آپشن کے طور پر سامنے لایا جا سکے یہ بھی ممکنات میں شامل ہے کہ اسلام آباد آتے آتے یا یہاں پہنچ کر مولانا فضل الرحمان کے مطالبات میں کچھ تبدیلی (بقدر اضافہ) ہو جائے یا دھرنے کی سیاسی سمت میں موڑ آ جائے تو یو ٹرن تو کم از کم نہیں ہوگا۔

سب سے کڑی تنقید مولانا پر دھرنے کے لیے مذہب کارڈ کے استعمال کی ہے۔ مولانا چل پڑے تو چلتے چلتے واضح ہو جائے گا کہ اس شق کا آسرا کیوں رکھا گیا۔ پنڈی اسلام آباد کی خفیہ کی مصدقہ اطلاع تو بہر حال موجود ہے کہ کم از کم ایک لاکھ 95 ہزار بندہ صرف یہاں سے مولانا کو جوائن کر سکتا ہے۔ حکومت کے گرنے کا خطرہ بہرحال موجود ہے لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ عمران خان اور اتحادی شکست اتنی آسانی سے تسلیم نہیں کریں گے۔

مولانا تو کہتے ہیں کہ دھرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور ایک جگہ تو کہہ گئے کہ 27 اکتوبر کو نکلنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ لیکن مقاصد اتنی جلدی حاصل کر لینا مولانا صاحب کے لیے حلوہ بھی ثابت نہیں ہو گا۔

ایک طرف عمران ہے دوسری طرف فضل الرحمان۔ اعتماد اور اطمینان ادھر بھی ہے اور اُدھر بھی۔ تیاریاں ادھر بھی ہیں اور ادھر بھی۔ حواری ادھر بھی جم کر کھڑے ہیں اور ادھر بھی۔ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی۔۔۔ عمران اور فضل الرحمان کا میچ ٹی 20 ثابت ہو گا، ون ڈے یا ٹیسٹ یا کسی ناگہانی صورت حال کے نتیجے میں کوئی فارمولا اپناتے ہوئے کسی نتیجے کا اعلان ہو جائے ۔۔۔آنے والے دن بہر حال انتہائی دلچسپ اور حیران کن ثابت ہونے جا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ