حکومت کا نواز شریف کی ضمانت سے تعلق نہیں: فردوس عاشق

مشیر اطلاعات کا کہنا ہے نواز شریف کی سزا ختم نہیں ہوئی بلکہ انہیں عارضی ریلیف ملا، منگل کو اس کیس پر تفصیلی بحث ہو گی۔

لاہور میں ن لیگ کا ایک کارکن نواز شریف کی عبوری ضمانت منظور ہونے کے بعد پولیس اہلکار کو مٹھائی کھلا رہا ہے (اے ایف پی)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر منگل کے روز تک عبوری ضمانت منظور کر لی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی کی سزا کی معطلی کے لیے درخواست جمع کروا رکھی تھی اورجمعے کو اسلام آباد کے ڈویژن بنچ نے اگلی سماعت منگل تک ملتوی کر دی تھی۔

تاہم درخواست گذار نے گذشتہ رات نواز شریف کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد ہفتے کی صبح فوری سماعت کی نئی درخواست دائر کی۔

ہفتے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے نواز شریف کی سزا معطلی اور ضمانت سے متعلق درخواست کی سماعت وقفے وقفے سے تقریباً سات گھنٹے تک جاری رکھی۔

بینچ میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی شامل تھے۔

سماعت کے دوران پورا دن بڑی تعداد میں وکیل، صحافی، سیاسی قائدین اور کارکنان کمرہِ عدالت میں موجود رہے۔

عدالت نے کارروائی کے دوران آدھے آدھے گھنٹے کے دو وقفے دیے، جس دوران وفاقی اور پنجاب حکومتوں اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے نمائندوں کو طلب کیا گیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا استفسار تھا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں اور نیب نواز شریف کی ضمانت کی کھل کر حمایت یا مخالفت کریں اور مخالفت کی صورت میں انہیں نواز شریف کی خراب صحت کی صورت میں ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔

اس مقصد کے لیے عدالت نے وفاقی اور پنجاب حکومتوں اور نیب کا فیصلہ جاننے کے لیے سماعت کے دوران دو وقفے دیے۔

تاہم دونوں وقفوں کے بعد وفاقی سیکریٹری داخلہ اور پنجاب کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ضمانت کی درخواست کی حمایت کرنے کے لیے راضی نہ ہوئے اور نہ انہوں نے نواز شریف کی صحت سے متعلق ذمہ داری قبول کرنے کی حامی بھری۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے بار بار استفسار کیا کہ کیا حکومت نے جیلوں میں موجود بیمار قیدیوں سے متعلق تفصیلات جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی۔

اس سلسلے میں انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے اور جیل خانہ جات سے متعلق قانون کے حوالے بھی دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ صحت کے مسائل کا سامنا کرنے والے قیدیوں کی دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ ملک کی جیلوں میں موجود صحت کے مسائل سے دوچار قیدیوں کی تفصیلات اکٹھی کر کے 15 دن میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے عدالت میں موجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور نیب کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ قانون میں صوبائی حکومت طبی بنیادوں پر قیدی کی سزا معطل کر سکتی ہے۔

نیب کے نمائندے نئیر رضوی نے شام چھ بجے کے بعد عدالت کو آگاہ کیا کہ نیب کو نواز شریف کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا نیب نواز شریف کی بیماری کو مد نظر رکھتے ہوئے انسانی بنیادوں پر ان کی ضمانت کی مخالفت نہیں کر رہی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا انہیں سیاسی فیصلے پوری ہمت اور بہادری سے کرنا چاہییں۔

انہوں نے مزید کہا کمزور فیصلوں کی خاطر عدلیہ کو بدنام کرنا نہایت ہی نامناسب عمل ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ بہت سارے ایسے مقدمات عدالت میں لائے جاتے ہیں جن کا سیاسی اور قانونی حل بڑی آسانی سے ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی حکومتیں عدلیہ کو ایسے مسائل میں گھسیٹ لیتی ہیں جن سے عدالتوں کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد نواز شریف کے لیے دعائیں کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے ن لیگ کے کارکنوں کو کہا کہ وہ تسلی رکھیں کہ نواز شریف کا ٹھیک علاج ہو رہا ہے۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران یک سوال کے جواب میں بتایا کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ نواز شریف کا علاج سروسز ہسپتال میں جاری رہے گا یا وہ کہیں اور علاج کرائیں گے۔

دوسری جانب، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی سزا ختم نہیں ہوئی بلکہ انہیں طبی بنیادوں پر عارضی ریلیف ملا، منگل کو اس کیس پر تفصیلی بحث ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، عدالت نے میڈیکل بورڈ کی تجویز پر عبوری ضمانت دی۔ ’کسی کو سزا سنانا یا سزا معطل کرنا حکومت کا اختیار نہیں ۔‘

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ عدالتی نظام اتناموثر ہو جائے کہ دیگر قیدیوں کو بھی اتنا ہی جلدی ریلیف ملےگا۔ ’نواز شریف کو علاج کے لیے جو ریلیف ملا اس سے انہیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔‘

مشیر اطلاعات کے مطابق، جلد ریلیف سے سابق وزیر اعظم کا سپیڈی ٹرائل کا خواب پورا ہوگا۔ ’حکومت عدالتی احکامات کی پابند ہے، حتمی فیصلہ آنے کے بعدحکومت آئندہ کےلائحہ عمل پر آگاہ کرےگی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان