آزادی مارچ کو پنجاب میں سکیورٹی نہیں مل رہی: جے یو آئی ف

جے یو آئی ۔ ف کے امیر پنجاب نے صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے مبینہ طور پر مولانا فضل الرحمٰن کو غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے لاحق شدید خطرات پر مبنی خط کو مسترد کر دیا۔

جب سے مارچ پنجاب میں داخل ہوا ہے اس کے راستوں پر انٹرنیٹ بند کیا جارہا ہے تاکہ سوشل میڈیا پر ہم اپنا پیغام نہ پہنچا سکیں: جے یو آئی امیرِ پنجاب (اے ایف پی)

جمعیت علمائے اسلام ۔ ف نے الزام عائد کیا ہے کہ آزادی مارچ کو پنجاب میں سکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی۔

جے یو آئی۔ ف کے امیر پنجاب ڈاکٹر قاری عتیق الرحمٰن نے منگل کو ملتان سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارچ کو سندھ میں مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی لیکن جب سے قافلے پنجاب میں داخل ہوئے ہیں، نہ مولانافضل الرحمٰن کو سکیورٹی دی جارہی ہے اور نہ ہی دیگر عہدے داروں کو تحفظ فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

پنجاب انٹیلی جنس سینٹر (پی آئی سی) محکمہ داخلہ پنجاب نے پیر کو ایک خط کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کو آگاہ کیا ہے کہ مختلف غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں آزادی مارچ پر دہشت گرد حملہ کر سکتی ہیں۔

 خط میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ بھارتی ایجنسی ’را‘اور افغانستان کی’ این ڈی ایس‘مولانا فضل الرحمن کو ٹارگٹ کر سکتی ہیں اوراس مقصد کے لیے مقامی ٹارگٹ کلنگ گروپوں سے رابطہ کیا جارہا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے یہ خط ڈی پی او رحیم یار خان کے ذریعے مولانا فضل الرحمٰن کو بھجوایا ہے، جس کے مطابق پاکستان کےکسی بھی بڑے شہر میں آزادی مارچ کو دہشت گرد حملہ کا نشانہ بنایاجا سکتا ہے۔

خط میں دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمن کو قتل کرنے کے عوض دس لاکھ ڈالرز کی آفر کی گئی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا دہشت گردی کے لیے چمن بارڈر کے ذریعے خود کش جیکٹ بھی بھجوادی گئی ہے۔

اس کے علاوہ سکیورٹی حکام نے ایک ہدایت نامہ بھی بھجوایا، جس میں کہا گیا ہے کہ بغیر چیکنگ کے آزادی مارچ میں کسی کو شرکت کی اجازت نہیں،گاڑیوں کو اندر نہیں جانے دیاجائے گا،دوران سفر مارچ کے شرکا جلد از جلد سفر طے کریں اورجہاں رکنا ہو وہاں جگہ کو اچھی طرح چیک کیا جائے۔

تاہم، ڈاکٹر عتیق نے کہا ہے کہ حکومتِ پنجاب آزادی مارچ کو ناکام بنانے کے لیے افواہیں پھیلا رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ پولیس نے دہشت گردی کے خطرے سے متعلق خط تو مولانا فضل الرحمٰن کو بھیجا ہے لیکن سکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی۔ ’ہمارے جذبے جواں ہیں، کسی قسم کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں اور اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اسے حکومتی سازش سمجھا جائے گا۔‘

’حکومت سکیورٹی کیا دے گی، ہماری میڈیا کوریج پر بھی پابندی ہے، جب سے مارچ پنجاب میں داخل ہوا ہے اس کے راستوں پر انٹرنیٹ بند کیا جارہا ہے تاکہ سوشل میڈیا پر بھی ہم اپنا پیغام نہ پہنچا سکیں۔‘

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت میں غیر سنجیدہ لوگ ہیں، ان سے بات کرنا بھی مناسب نہیں سمجھتے کیونکہ انہیں سکیورٹی کا کہا جائے تو مذاق اڑاتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنے زیادہ لوگوں کے لاہور میں قیام اور کھانے پینے کے کیا انتظامات ہیں؟ توانہوں نے بتایاکہ مارچ کا پڑاؤ مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہوگا،جہاں جلسہ بھی ہوگا اور مولانا فضل الرحمٰن کے علاوہ شہبازشریف،قمر الزمان کائرہ و دیگر اپوزیشن رہنما خطاب کریں گے۔

ڈی آئی جی اشفاق خان کے مطابق پولیس نے لاہور میں آزادی مارچ کے بھر پور انتظامات کر رکھے ہیں اور بدامنی کے خدشے کو مد نظر رکھتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایاکہ آزادی مارچ کے راستوں پر چیکنگ کی جارہی ہے اور جہاں سے آزادی مارچ گزرے گا ان شاہراوں کو بند کر دیاجائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان