21 سالہ ویٹ لفٹر رابعہ شہزاد کی طاقت کا راز کیا ہے؟

رابعہ شہزاد دنیا بھر میں کئی ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپس میں پاکستان کے لیے میڈل حاصل کر چکی ہیں اور اولمپکس 2024 میں پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتی ہیں۔

رابعہ شہزاد سندھ کی کم عمر ترین اور واحد خاتون ویٹ لفٹر ہیں جنہوں نے کئی ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپس میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ حال ہی میں 21 سالہ رابعہ نے ویلش اوپن ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں 49 کلوگرام خواتین کیٹیگری میں چاندی کا تمغہ اور ہیمپشائر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں سونے کا تمغہ حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

رابعہ کراچی میں واقع آئی بی اے یونیورسٹی کی طالبہ ہیں جہاں سے وہ بی بی اے کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور مستقبل میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں تعلیم حاصل کر کے اپنے والد کے کاروبار میں ان کی مدد کرنا چاہتی ہیں۔

 رابعہ ویٹ لفٹنگ سے پہلے پاور لفٹنگ کیا کرتی تھیں لیکن ان کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ وہ ایسے کھیل کی ماہر ہوں جس کی اولمپکس میں پاکستان کی جانب سے نمائندگی کر سکیں۔ان کی خواہش ہے کہ وہ 2024 کے اولمپکس میں پاکستان کے لیے ویٹ لفٹنگ میں گولڈ میڈل جیت کر لائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رابعہ نے انڈپیںڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ ابھی خود اپنی کوچنگ کرتی ہیں لیکن ان کی خواہش ہے کہ انہیں کوئی کوچ ٹرین کرے تاکہ وہ اولمپکس کے لیے تیاری کرسکیں۔

 ان کے مطابق صحت کا خیال رکھنا ویٹ لفٹنگ کے لیے انتہائی ناگزیر ہے اس لیے وہ ایک خاص قسم کی خوراک کے ذریعے خود کو سلم، سمارٹ اور تندرست رکھتی ہیں جس کا نسخہ انہوں نے ہمارے ساتھ بھی شئیر کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل