ریپ کیس میں 27 ملزمان کو کُل 322 سال قید کی سزا

برطانوی عدالتوں کو بتایا گیا کہ گروہ نے 12 سال تک کی کم عمر لڑکیوں کو جان بوجھ کر اس لیے نشانہ بنایا کیوں کہ وہ کمزور اور سماجی طور پر تنہائی کا شکار تھیں۔

(پکسا بے)

برطانیہ میں ایک اور شخص کو نوعمر لڑکی کے ریپ کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ ہیڈرزفیلڈ میں کی گئی جنسی زیادتی کے جرم میں 27 ملزمان کو مجموعی طور پر 322 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

جب لیڈز کراؤن کورٹ نے بنارس حسین کو دس سال قید کی سزا سنائی تو 36 سالہ مجرم نے جج کوکہا کہ یہ ’انصاف کا قتل‘ ہے۔

بچی کے ساتھ ریپ کیس میں ویسٹ یارکشائر پولیس کے آپریشن ’ٹینڈرسیا‘ کی تحقیقات کے بعد اب تک مجموعی طور پر 27 افراد کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔

اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس مقدمے میں مجرمان کو 300 سال سے زیادہ کی قید سنائی گئی ہے۔

ہیڈرزفیلڈ میں ولیم سٹریٹ کے رہائشی بنارس حسین کو اس آپریشن کے نتیجے میں قائم کیے گئے پانچویں مقدمے کی سماعت کے اختتام پر پیر کو قصوروار ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی۔

جمعے کو جج جیفری مارسن کیو سی نے مقدمے میں پانچ دیگر مدعا علیہان کو بھی مجموعی طور پر 45 سال قید کی سزا سنائی۔ جج کا اس موقع پر کہنا تھا کہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی ’باطل اور شیطانی‘ عمل ہے اور رحم سے انکار کے مترادف ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پیر کو مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے کہا کہ وہ سزا سے متعلق ریمارکس کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے تاہم انہوں نے حسین سے کہا: ’میں نے کہا تھا کہ کیسے لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا ارتکاب کرنے کے لیے ان کو ایشیا سے تعلق رکھنے والے متعدد مردوں نے تیار کیا تھا۔‘

جج نے کہا: ’میں نے ان تکلیف دہ اثرات کے بارے میں بات کی تھی، جن کا اُن لڑکیاں نے زیادتی کے بعد سامنا کیا۔ آپ نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے اندازہ ہو کہ آپ کو اپنے کیے پر پچھتاوا ہے۔‘

ریپ کا جرم ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب متاثرہ لڑکی کی عمر 14 یا 15 سال کی تھی۔ جج نے بنارس حسین سے کہا: ’آپ نے اس بچی کے ساتھ زیادتی کی جب متعدد دیگر افراد نے بھی ان کے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔‘

وکیل نِک ورسلے نے اپنے موکل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حسین کا جرم اتنا ’ہولناک یا شدید‘ نہیں تھا جتنا کچھ دوسرے ملزمان نے کیا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا: ’ریپ کے وقت حسین کی عمر 22 سے 24 سال کے درمیان تھی، وہ ایک سخت محنتی شخص تھا اور باپ کے چھوڑ جانے کے بعد اپنی بیمار ماں کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔‘

حسین کی سزا کے بعد آپریشن ٹینڈرسیا کی تحقیقات کے نتیجے میں قائم پانچ مقدموں میں مجموعی طور پر ملزمان کو 322 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

جمعے کو 31 سالہ عمر زمان، جو پاکستان فرار ہوگئے تھے اور 32 سالہ سیمول فکرو کو ریپ کیس میں قصوروار ثابت ہونے پر آٹھ، آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

ایک اور 32 سالہ شخص کو ریپ کے الزام میں 14 سال قید، دوسرے 32 سالہ شخص کو بھی اسی الزام میں آٹھ سال قید اور 38 سالہ شخص کو عصمت دری کی کوشش کے الزام میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔ قانونی وجوہات کی بنا پر ان کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔

عدالتوں کو بتایا گیا کہ وسیع پیمانے پر گروہ نے 12 سال تک کی کم عمر لڑکیوں کو جان بوجھ کر اس لیے نشانہ بنایا کیوں کہ وہ کمزور اور سماجی طور پر تنہائی کا شکار تھیں۔

مغربی یارکشائر پولیس کے ڈیٹکٹیو چیف انسپکٹر رچرڈ میک نامارا نے کہا: ’ہم ان چھ مجرموں کو دی گئی سزا کا خیرمقدم کرتے ہیں، خواہ وہ اسے غیر اخلاقی کیوں نہ قرار دیں۔‘

رچرڈ نے کہا: ’ان افراد نے تین کمزور لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور ان کے ادا کیے گئے جملے ان کی سفاکی کی عکاسی کرتے ہیں۔‘

’ہم امید کرتے ہیں ان افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جاتے دیکھ کر ان بہادر متاثرین کو کچھ سکون ملا ہوگا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ