’مولانا کا دھرنا‘

گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران فوج کی طرف سے سیاسی امور پر مسلسل تین بیانات ان دعوؤں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کر رہی ہے۔

مولانا پر لازم ہے کہ وہ اپنے اونچے استھان سے اتر کر معروضی حقائق کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں اور ذاتی مفاد کی نسبت ملکی اور ریاستی مفاد کے پیشِ نظر فیصلے کریں(تصویر: اے ایف پی)

پیشین گوئیوں کے برعکس، مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا پوری آن بان سے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ گذشتہ دنوں کی ٹھنڈی بارش اور ناگہانی سردی بھی مولانا کے پیروکاروں کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکی۔ ان نامساعد حالات میں انہوں نے واقعتاً قابلِ رشک عزم اور حیرت انگیز نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں آسائشوں میں پرداختہ وزیر اعظم عمران خان اپنے ہاتھ کھڑے کرکے فیصلہ سازی کے تمام اختیارات اپنی اُس مذاکراتی ٹیم کو دے چکے ہیں جو مولانا کو کسی نہج پر لانے میں پہلے ہی ناکام ہو چکی ہے۔

دھرنے سے متعلق گرما گرم مباحث نے کئی اہم اور متنازع سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان میں سے چند ایسے اہم سوالات پر نظر ڈالیں جو پاکستان کے مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر طویل المعیادی اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔

اول اور یقیناً سب سے اہم سوال یہ ہے کہ دھرنا کب تک جاری رہے گا؟ 31 اکتوبر کو آزادی مارچ کی دھرنے میں کایا کلپ کے بعد یہ دلچسپ سوال نہ صرف تجزیہ کاروں بلکہ عوام کی ہمہ گیر توجہ کا بھی مرکز بنے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کے عزیز از جان، الہڑ اور بے پرواہ وزیر ریلوے کے دعوؤں کے باوجود مولانا کسی جلدبازی کے موڈ میں نہیں دکھائی دیتے البتہ انہوں نے دھرنے کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے کچھ رد و بدل ضرور کی ہے۔  ہجوم کو ڈی چوک نہ لے جانے کے فیصلے میں کچھ نادیدہ قوتوں کی ناقابلِ مزاحمت ترغیب کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا لیکن زیرک بینی کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ پڑاؤ وسیع تر جگہ پر ہی رکھا جائے۔ اب عید میلاد کے موقع پر دھرنے کے اجتماع کو سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مولانا کے کل کے سخت بیانات سے یہی ظاہر ہوتا  ہے کہ ان کے مقاصد کے حصول تک دھرنا جاری و ساری رہے گا۔

اس سے منسلک دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا اس دھرنے سے آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اس سلسلے میں گہرے ابہام کی وجہ سے اس سوال کا کوئی آسان جواب میسر نہیں ہے۔ مولانا کے بنیادی مطالبے وزیر اعظم کا استعفیٰ اور فوج کی شمولیت کے بغیر نئے انتخابات ہیں۔ بعد کے بدلتے ہوئے منظرنامے ان میں کچھ لمحاتی رد و بدل کی وجہ بنے۔ وزیر اعظم کے استعفے کے لیے اعلان کردہ تین آخری تاریخیں گزرنے کے بعد کوئی نئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی لیکن استعفے کا مطالبہ اپنی جگہ من و عن موجود ہے۔ مولانا نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل یا اس سلسلے میں پہلے سے تشکیل شدہ پارلیمانی کمیٹی کے احیا کی حکومتی تجاویز یکسر مسترد کر دی ہیں۔ تمام جماعتیں اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ احتجاج اور دھرنے سے کسی حکومت کو نہیں ہٹایا جا سکتا۔ ہاں اگر معاملات  بے قابو ہو جائیں یا فوج موقع سے فائدہ اٹھانا چاہے تو یہ ممکن ہے۔ ان حالات میں مولانا کا استعفے پر مصر رہنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ 

ہمارا تیسرا سوال یہ ہے کہ دھرنے سے ابھی تک مولانا نے کیا پایا اور کیا کھویا ہے؟ بظاہر دو بڑی سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور منظم دھرنے کے انعقاد پر مولانا کے سیاسی قد کاٹھ میں توقع سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ وقتی طور پر ہی سہی، اس وقت پاکستان کی سیاست میں انہیں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تاہم اپنے اگلے اقدام کے بارے میں انہوں نے کھل کر بات نہیں کی اور لوگوں کو تخمینہ اندازی پر چھوڑ دیا ہے۔ دھرنے کی ناکامی کی صورت میں ایک وقتی دھچکا تو ضرور لگے گا لیکن ان کے پیروکاروں کا یقین ان پر کم ہو گا، نہ ان کی تعداد میں کوئی خاص کمی آئے گی۔ البتہ مستقبل میں مولانا کی کسی بھی حکومت میں شمولیت کے مواقع معدوم ہونے کا بھرپور امکان ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چوتھا اہم سوال فوج اور سول اداروں کے تعلقات پر مولانا کے حالیہ بیانیہ کا احاطہ کرتا ہے۔ بقول مولانا، انتخابی عمل میں فوج نے مداخلت کر کے عمران خان کو عوام کا ووٹ چوری کرنے کا موقع فراہم کیا۔ فوجی ذرائع نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے لیکن گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران فوج کی طرف سے سیاسی امور پر مسلسل تین بیانات ان دعوؤں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کر رہی ہے۔ ایک بیان میں فوجی ترجمان نے انکشاف کیا کہ آرمی چیف نے پارلیمنٹ کے ممبران کو تمام قومی معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ کور کمانڈروں کی میٹنگ کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز میں بھی سیاسی پہلو واضح ہے۔ ان بیانات سے تو عام آدمی کو یہی لگے گا کہ پسِ پردہ فوج نے حکومت کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے اور فوج کی حمایت کے بغیر حکومت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوسکتی۔ اسٹیبلشمنٹ کے دیرینہ حامی ہونے کی شہرت رکھنے کے باوجود حالیہ تاریخ میں فوج کے خلاف ایک واضح موقف پیش کرنے والے مولانا پہلے سیاستدان ہیں۔ لیکن یہ بارِ گراں وہ کب تک اٹھائے رکھیں گے، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

آخری لیکن اہم سوال یہ ہے کہ مولانا کے دھرنے پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا موقف کیا ہے۔ یہاں پر شروع سے ہی ’صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘ کے مصداق ایک قسم کا ابہام غالب ہے۔ اپنا اپنا مستقبل بچانے کے لیے دونوں بڑی سیاسی جماعتیں دو مُکھی کھیلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ظاہر ہے مولانا کی مقبولیت ان جماعتوں کے انتخابی امکانات پر منفی اثر ڈالے گی۔ دونوں نے مظاہروں سے صرف اس حد تک نپا تلا واسطہ رکھا ہوا ہے کہ مولانا اگر کامیاب ہوتے ہیں تو مالِ غنیمت ان کے ہاتھ لگے لیکن اگر ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ہاتھ دھو کر صاف نکل لیں۔ مولانا اس بات سے یقیناً بخوبی آگاہ ہوں گے لیکن ان کی مجبوری یہ کہ وہ ان پارٹیوں کی حمایت کے بغیر چل نہیں سکتے۔

مثبت حل نکالنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

حکومت، حزبِ اختلاف، فوج اور حقیقت میں تمام افراد اور اداروں کو ملک کو اس غیریقینی صورت حال سے فوری طور پر نکالنے کے لیے یکجا ہو کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ اگر مطلوبہ لوازمات پورے ہو سکتے ہیں تو حکومت ہٹانے کے دیگر آئینی و قانونی طریقے موجود ہیں لیکن کسی بھی غیر آئینی طریقے سے حکومت کو نکال باہر کرنا ملک کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ 

دانش مندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ انتخابی دھاندلی کے خلاف بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی اپنا کام کرتی رہتی۔ بہرحال اب پہلے اقدام کے طور پر حکومت کا کمیٹی بحال کرنے یا ایک نیا عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی تجاویز اچھی اور قابلِ عمل تجاویز ہیں جو مولانا کو قبول کر لینی چاہیں۔ اسی کے ساتھ پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ ​​کے پانچ سالہ پرانے کیس کا فیصلہ بھی فوری طور پر ہو جانا چاہیے۔ حکومتی وزرا کی ماضی کی مبینہ بدعنوانیوں کے بارے میں بھی اسی زور شور سے تحقیقات ہونی چاہییں جس طرح حزب اختلاف کے لیڈروں کے معاملے میں کی گئیں۔ بلاامتیاز احتساب کے اس عمل سے تحریک انصاف کو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے میں کچھ مدد ملے گی۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ حکومت کی توجہ معاشی حالات کی بہتری اور گورننس کے شدید بحران حل کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے لیکن وزیر اعظم ہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ ان نازک حالات میں ضروری ہے کہ وہ ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیں اور مولانا فضل الرحمٰن سے بالمشافہ ملاقات کرکے ایسا حل تلاش کریں کہ کسی بھی فریق کی سبکی نہ ہو۔ مولانا پر لازم ہے کہ وہ اپنے اونچے استھان سے اتر کر معروضی حقائق کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں اور ذاتی مفاد کی نسبت ملکی اور ریاستی مفاد کے پیشِ نظر فیصلے کریں۔

اداروں کے صبر کو ایک حد سے زیادہ آزمانے سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔ یہ ذہن نشین رہے کہ اگر عقل و خرد کا دامن چھوڑ دیا گیا تو مولانا کا دھرنا وزیر اعظم کے استعفے کا باعث تو نہ بنے گا لیکن ملک کے لیے شدید مشکلات پیدا کر جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ