بلے بازوں پر خوف طاری کرنے والے وقار کے لیے بریڈمین ایوارڈ

اپنے پورے کریئر کے دوران بلے بازوں پر ہیبت طاری کرنے والے پاکستانی بولر وقار یونس کو سر ڈان بریڈمین ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

وقار یونس کو اس اعزاز پر دنیا بھر سے مبارکباد کے پیغامات بھیجے جا رہے ہیں (اے ایف پی)

اپنے پورے کریئر کے دوران بلے بازوں پر ہیبت طاری کرنے والے پاکستانی بولر وقار یونس کو سر ڈان بریڈمین ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

پاکستان کے فاسٹ بولر اور موجودہ بولنگ کوچ وقار یونس کو گذشتہ رات آسٹریلیا میں بریڈمین اعزازی بیٹ دیا گیا۔ وقار یونس یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کرکٹر ہیں۔

اس حوالے سے بریڈمین میوزیم بورل کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’وقار یونس کو میدان میں اور میدان سے باہر ان کی کرکٹ کے لیے خدمات پر بریڈمین آنری 2019 منتخب کیے جانے پر بہت مبارک ہو۔‘

اعزازی بیٹ جو پاکستانی فاسٹ بولر کو دیا گیا ہے پر سر ڈونلڈ بریڈمین اور وقار یونس کے اپنے اصل دستخط موجود ہیں اور دونوں ہی کرکٹرز کے ہاتھ سے بنے پوٹریٹس بھی بنے ہیں۔

وقار یونس کو اس اعزاز پر دنیا بھر سے مبارکباد کے پیغامات بھیجے جا رہے ہیں جن میں کرکٹ مداح، اور غیر ملکی کھلاڑی تو ہیں لیکن ان کے ساتھ کھیلنے والے چند کھلاڑیوں نے ان کے لیے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔

ویڈیو پیغام جاری کرنے والے پاکستانی کرکٹرز میں رمیز راجہ، مشتاق احمد اور شعیب اختر شامل ہیں۔

سابق کپتان رمیز راجہ نے اس حوالے سے کہا: ’وقار میں آپ کے لیے بہت خوش ہوں، بریڈمین اعزازی فہرست میں شامل ہونے پر۔ یہ ایک باعث فخر لمحہ ہے آپ کے لیے۔ یہ ہمارے لیے بھی فخر کی بات ہے، کیونکہ آپ ایک زبردست بولر اور اس کھیل کے بہترین سفیر ہیں۔‘

اسی ویڈیو پیغام میں سابق لیگ سپنر مشتاق احمد نے وقار یونس کو کچھ اس انداز میں مبارک باد دی: ’ہائی وقار، مبارک ہو بڈی، سر ڈان بریڈ مین آنری ایوارڈ ایک بڑی کامیابی ہے۔ مجھے آپ پر فخر ہے۔ آپ نے ملک کی خدمت بہت اچھے انداز میں کی، آپ کو اور آپ کی پوری فیملی کو بہت مبارک ہو۔ بیسٹ آف لک۔‘

وقار یونس کے ساتھ کئی میچوں میں نئی گیند شیئر کرنے والے اور دنیا کے تیز ترین بولر شعیب اختر بھی اس موقع پر کافی خوش دکھائی دیے، جن کا کہنا تھا کہ ’یہ ایوراڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی ہونے پر آپ کو مبارک ہو۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ آپ اس کے مستحق تھے، کیونکہ میں نے آپ جیسا بہترین فاسٹ بولر نہیں دیکھا۔ اگر آپ نہ ہوتے تو شاید میں فاسٹ بولر نہ ہوتا، لوگوں پر خوف طاری نہ کر پاتا۔ میرے لیے مثال بننے کے لیے شکریہ۔‘

ان تمام پیغامات پر وقار یونس نے ان کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

وقار یونس کے کریئر پر نظر

اپنی تیز رفتار گیندوں اور خاص طور یارکرز کی وجہ سے وقار یونس نے اپنے پورے کریئر کے دوران دنائے کرکٹ پر راج کیا۔ وسیم اکرم کے ساتھ ان کی جوڑی کو ہمیشہ ’ڈیڈلی کامبینیشن‘ کہا جاتا رہا۔

وقار یونس نہ صرف تیز گیندے کرواتے بلکہ مشکل وقت میں اپنے ریورس سوئنگ یارکرز کے مدد سے کئی مرتبہ پاکستان کو ہار کے منہ سے نکال کر لائے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں انھوں نے صرف 87 میچوں میں 373 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ ان میں 22 مرتبہ میچ میں پانچ وکٹیں اور پانچ مرتبہ 10 وکٹیں بھی شامل ہیں۔

اگر ان کے ایک روزہ میچوں کا ریکارڈ دیکھا جائے تو انھوں نے 262 میچ کھیل کر 416 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی فاسٹ اور اتنے لمبے رن اپ سے بولنگ کرنے والا بولر کرکٹ کے دونوں فارمیٹس میں ایک جیسی کاکردگی دکھا سکے۔

اس کے علاوہ وہ دو مرتبہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ بہت رہ چکے ہیں جبکہ پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی کوچنگ بھی کر چکے ہیں۔

وقار یونس اس وقت بھی جب انھیں یہ اعزاز دیا گیا ہے وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ ہیں اور ٹیم کے ہمراہ آسٹریلیا میں موجود ہیں جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی جانی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ