پرنس اینڈریو کا انٹرویو: جنسی تشدد کے متاثرین کو نہ بھولیں

اس انٹرویو کے بعد ہمیں اُس حقیقی کہانی کی اہمیت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے جو اس تنازع کا مرکز ہے یعنی شہزادہ اینڈریو کے دوست جیفری ایپسٹائن نے کھلے عام خواتین اور لڑکیوں کی عزت پامال کی ہے۔

انٹرویو کے دوران   پرنس اینڈریو   اپنے دوست کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار بننے والی خواتین یا بچوں کی بات کرنے کی بجائے ان پر لگائے گئے الزامات کے اپنے اور اپنے خاندان پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں ہی بات کرتے رہے۔ (تصویر: ویڈیو سکرین گریب)

پیزا، پسینے میں شرابور شہزادہ اور باعزت مرد۔ گذشتہ شب ٹی وی پر نشر ہونے والے ان لمحات سے یادگار اور کیا ہو سکتا ہے اور یقینی طور پر ایملی میٹلس کے ڈیوک آف یارک شہزادہ اینڈریو سے کیے گئے انٹرویو کے نشر ہونے کے چند منٹوں بعد ہی ٹوئٹر پر طوفان بدتمیزی اٹھ کھڑا ہوا۔ تاہم اس بے ہودگی کے درمیان ہمیں اُس حقیقی کہانی کی اہمیت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے جو اس تنازع کا مرکز ہے یعنی شہزادہ اینڈریو کے دوست جیفری ایپسٹائن نے کھلے عام خواتین اور لڑکیوں کی عزت پامال کی ہے۔

شاید سب لوگ اس بات سے متفق ہوں گے کہ یہ انٹرویو شاہی خاندان کی نمائندگی کرنے والے شخص کا غلط اقدام تھا اور افسوس ناک طور پر ڈیوک نے متاثرہ خواتین کے لیے اپنی حمایت یا اُن کے بارے میں اپنی تشویش کے اظہار کا موقع بھی گنوا دیا۔

اس پورے انٹرویو میں سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ اضافی موقف بیان کرنے کا موقع دیے جانے کے باوجود ڈیوک اپنے دوست کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار بننے والی خواتین یا بچوں کی بات کرنے کی بجائے ان پر لگائے گئے الزامات کے اپنے اور اپنے خاندان پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں ہی بات کرتے رہے۔

اور اسی مسٔلے کا سامنا ’می ٹو‘ مہم میں بھی رہا ہے۔ اگرچہ یہ بات حوصلہ افزا تھی کہ سالوں کی خاموشی کے بعد بڑے ناموں کو ان کے طرزِ عمل کی وجہ سے احتساب کا سامنا کرنا پڑا تاہم یہ رپورٹنگ ان ہیروز پر ہی مرکوز رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس میں کچھ سوالات جیسا کہ ’ہالی وڈ فلم پروڈیوسر وائنسٹین کیسے اتنا طویل عرصہ قانون کی گرفت سے بچے رہے؟‘ جائز سوال تھے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ متاثرہ افراد کی کہانیوں کو نظرانداز کر دیا جائے۔ جیسا کہ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ برطانیہ میں ریپ کے مقدموں میں سزا کی شرح کم ہوئی ہے اور تمام نہیں تو اکثر ریپ کرائسس سینٹرز کو مالی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ہائی پروفائل جنسی تشدد کے بارے میں آگاہی سے بھی متاثرہ افراد کے لیے مثبت تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔

اس سے مجھے متاثرہ افراد کی کہانیاں بیان کرنے کے لیے تحریک ملتی ہے۔ ایک ویب سائٹ، جہاں جنسی تشدد سے متاثرہ افراد کے انٹرویوز ہوں جو خود اپنے الفاظ میں اپنی کہانی بیان کریں۔

ایسے تمام متاثرہ افراد، جن کو کئی وجوہات کے باعث عدالتوں میں بولنا مشکل لگ رہا تھا، اس ویب سائٹ پر اپنی کہانیاں بیان کرنے کے بعد بولے کہ وہ خود کو طاقت ور محسوس کر رہے ہیں۔

دوسری جانب کئی متاثرین اپنے کیریئر یا گھریلو زندگی متاثر ہونے کے خوف سے اپنا نام خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کو خوف ہے کہ کوئی ان پر اعتبار نہیں کرے گا یا ان کو ٹرول کا نشانہ بنایا جائے گا۔ تاہم ورجنیا رابرٹس جیسی بہادر متاثرہ خاتون کے برعکس گمنام رہنے سے ان کہانی غیر اہم یا کم قابلِ یقین نہیں ہو جاتی۔

ایملی میٹلس نے بھرپور کوشش کی کہ انٹرویو کو اُن متاثرہ خواتین پر مرکوز رکھا جائے۔ اگرچہ ڈیوک کی جانب سے اس موضوع پر گفتگو کرنے سے گریز کرنے کے باوجود وہ بار بار ان سے ایپسٹائن کے دیگر جرائم کے حوالے سے ورجنیا رابرٹس کے دعوؤں پر سوالات کرتی رہیں۔

آپ نے شہزادہ اینڈریو یا ایپسٹائن سے متعلق کوئی بھی تاثر قائم کیا ہو لیکن وہ انٹرویو بلا شبہ جنسی تشدد کے خاتمے کی تحریک کے لیے اہم موڑ تھا، لیکن ہمیں سوشل میڈیا پر اٹھنے والے مزاح کے طوفان کے پیچھے نہیں چھپنا چاہیے۔ جب یہ گرد بیٹھے گی اور ہم پیزا ایکسپریس کے لطیفے سن کر تھک جائیں تو ہمیں ورجنیا رابرٹس کی میراث کو جاری رکھنا چاہیے اور معاشرے کی قیادت کرنے والی متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کی کہانیوں کو سننا اور ان پر یقین کرنا چاہیے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر