’ہمیں معذور سمجھنے والے خود ذہنی معذور ہیں‘

وہیل چیئر کرکٹر جمعہ خان کہتے ہیں کہ معذور افراد جس جگہ بھی جائیں انھیں رسائی کا مسئلہ درپیش آتا ہے کیونکہ ملک میں بہت کم ایسی عمارتیں ہیں جو معذور افراد کے لیے قابل رسائی ہوں۔

’معذور افراد پاکستانی معاشرے کا اتنا ہی حصہ ہیں جتنے عام لوگ، لیکن اگر انہیں خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ بھی عام لوگوں کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں جو لوگ معذور افراد کو کسی کام کا نہیں سمجھتے، دراصل وہ خود ذہنی معذور ہیں۔‘

یہ کہنا تھا سندھ کے علاقے میر پور خاص کے وہیل چیئر کرکٹر جمعہ خان کا جو پشاور میں معذور افراد کے لیے گذشتہ ہفتے منعقد ہونے والے قومی کھیلوں میں صوبہ سندھ کی نمائندگی کر رہے تھے۔

ان کھیلوں میں گلگت ۔ بلتستان اور اسلام آباد کے علاوہ چاروں صوبوں کے ٹیموں نے حصہ لیا۔

جمعہ خان جب پانچ سال کے تھے تو انھیں سخت بخار ہوا اور انجیکشن لگائے جانے پر وہ پاؤں سے معذور ہوگئے تھے۔

بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیب احمر اور فرنڈز اف پیراپلیجک سنٹر کے باہمی اشتراک سے منعقدہ ان کھیلوں کا مقصد معاشرے میں آگاہی پھیلانا ہے کہ معذور افراد بھی سہولیات ملنے پرعام لوگوں کی طرح ہر کام کر سکتے ہیں۔

جمعہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ بچپن سے ہی عام لوگوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے آ رہے ہیں کیونکہ معذور افراد کے لیے اس قسم کے کھیلوں کے مقابلے بہت کم منعقد کیے جاتے ہیں۔

’حکومت کی جانب سے ایسے کھیلوں کا انعقاد نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری طرف معذور افراد جس جگہ بھی جائیں وہاں انھیں رسائی کا مسئلہ درپیش آتا ہے کیونکہ ملک میں بہت کم ایسے مقامات ہیں جو معذور افراد کے لیے قابل رسائی ہوں۔‘

جمعہ خان نے معاشرتی رویوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’ہمارے یہاں بظاہر معذور افراد کو کسی کام کا نہیں سمجھا جاتا لیکن اصل میں اس ملک کی ہر وہ جگہ معذور ہے جہاں ہماری طرح لوگ نہیں جا سکتے۔‘

’ہم ٹرینوں میں بمشکل سفر کرتے ہیں کیونکہ پلیٹ فارمز پر ریمپز موجود نہیں، ہم گاڑیوں میں بھی سفر نہیں کر سکتے کیونکہ گاڑیوں میں ریمپ کے بغیر ویل چیئر چڑھانا مشکل ہوتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پشاور کا پیرا پلیجک سینٹر معذور افراد کے حقوق اور ان کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لیے گذشتہ کئی دہائیوں سے کام کر رہا ہے۔

سینٹر کے سربراہ سید محمد الیاس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ معذور افراد کے لیے تین اہم نکتوں پر مبنی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے ۔

’ایک تو ان کی بحالی پر کام کرنے کی ضرورت ہے، دوسرا ان کی معاشی مدد اور تیسرا ملک کے اندر اہم مقامات کو ان کے لیے قابل رسائی بنانا نہایت اہم ہے۔‘

انھوں نے بتایا معاشرتی رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضروت ہیں کیونکہ ہمارے یہاں معذور افراد کو وہ پیار اور مدد نہیں دی جاتی جو ملنی چاہیے۔

عمارتوں کو قابل رسائی بنانے کے بارے میں انھوں نے بتایا، ’اگر ایک عمارت میں ریمپ نہیں بنا گیا اور معذور شخص اس میں داخل نہیں ہو سکتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُس معذور شخص میں کوئی کمی ہے بلکہ اصل کمی اور معذور تو وہ عمارت ہے جس میں ریمپ موجود نہیں۔ ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔‘

والدین کیا کر سکتے ہیں؟

کھیلوں میں ایبٹ آباد سے آئی ہوئی ٹیبل ٹینس کی کھلاڑی زینب نور کا کہنا تھا کہ معذور افراد کو سپورٹ دینے میں والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ والدین اگر ایسے بچوں کو معذور نہ سمجھیں اور ان کی تعلیم اور تربیت کا بہتر بندوبست کریں تو وہ معاشرے کے کارآمد شہری بن سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا حکومتی سطح پر بھی اقدامات ہونے چاہییں تاکہ معذور افراد کو تعلیم اور ملازمت کے مواقع فراہم ہو سکیں لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے کیونکہ یہاں ایسے افراد کے ملازمت کے کوٹے پر عام لوگ نوکریاں کر رہے ہیں۔

پاکستان کے ادارہِ شماریات کے مطابق اِس وقت ذہنی معذوروں سمیت دیگر معذور افراد کی تعداد32 لاکھ سے زیادہ ہے، جس میں سے21 لاکھ سے زیادہ شہری جبکہ 11 لاکھ سے زائد دیہی علاقوں میں ہیں۔

تاہم، محمد الیاس نے الزام لگایا کہ معذور افراد کی شماری درست طریقے سے نہیں کی جاتی اور ملک میں ایسے افراد کی آبادی اعداد و شمار سے بہت زیادہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا