ماحول دوست ’یورو فور‘ عام آدمی کو کتنے میں پڑے گا؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آئندہ یورو فور تیل درآمد کرنے کے اعلان کے بعد پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی ہے۔

(فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستان میں خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی، خاص طور پر لاہور اور پنجاب میں ہر سال سموگ سے انسانی جانوں کو لاحق شدید خطرات کے باعث حکومت نے درختوں اور جنگلات کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے علاوہ اعلیٰ معیار کی پیٹرولیم مصنوعات بھی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہفتے کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے یورو ٹو تیل کی درآمد بند کرکے یورو فور تیل درآمد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے سموگ ختم کرنے کی پالیسی تیار کرلی ہے، جس کے تحت یوروٹو کی بجائے یوروفور تیل درآمد کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فی الحال ہم یورو فور پر منتقل ہو رہے ہیں لیکن امید ہے کہ 2020 کے آخر تک سارا تیل یورو فائیو پر منتقل ہو جائے گا، جس سے فضا میں آلودگی 90 فیصد کم ہوجائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا: ’ہم مہنگا تیل درآمد کریں گے، آپ سوچ لیں پیسے پیارے ہیں یا جان؟‘

وزیراعظم نے لاہور میں 60 ہزار کنال پر جنگلات آگانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے کو آنے والی نسلوں کے لیے سنجیدہ لے رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی یورو فائیو معیار کی پیٹرولیم مصنوعات استعمال کر رہے ہیں اور ہائبرڈڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کو بھی وقت کے ساتھ یورو فور کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی۔

یوروفور کیا ہے اور اس کا کیا فائدہ ہے؟

وفاقی ادارہ برائے تحفظِ ماحولیات کے سابق ڈائریکٹر جنرل آصف شجاع یورو ٹو سے یورو فور کے معیار پر منتقلی کو ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’اٹھارویں ترمیم سے پہلے کلین فیول پروگرام کے تحت یورو ون سے یورو ٹو کے معیار کا ڈیزل اور پیٹرول استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا تھا کیونکہ پیٹرول اور ڈیزل میں سلفر کی مقدار کم کرنا ضروری تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یورو ٹو سے آکٹین نمبر جلنے کی صلاحیت بڑھائی گئی اور وزارتِ پیٹرولیم نے آئل ریفائنری انڈسٹری کو قائل کیا کہ وہ ریفائننگ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کے جلنے سے پیدا ہونے والی آلودگی کم کرنے میں مدد کریں۔‘

انہوں نے بتایا اس کے لیے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے انجن میں بھی تبدیلی ضروری تھی، کیونکہ صرف درآمد شدہ گاڑیوں کے انجن ہی یورو ٹو کے معیار کا پیٹرول اور ڈیزل استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کے انجن بھی اَپ گریڈ کرائے گئے۔

وزیراعظم کی جانب سے یوروفور کی درآمد کے اعلان کے بعد اس کے مہنگے ہونے کے حوالے سے بحث شروع ہوئی۔ تاہم آصف شجاع نے دعویٰ کیا کہ یورو فورتیل کی قیمتوں کا عام آدمی پر زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ تیل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے مطابق ہوتا ہے، اس سے آئل ریفائنریز کی سطح پر کنٹرول کیا جاسکے گا۔

آصف شجاع کے مطابق اٹھارویں ترمیم کے بعد ماحولیات میں بہتری کا نظام صوبوں کو سونپا گیا لیکن کسی صوبائی حکومت نے اس طرف توجہ نہ دی۔

انہوں نے بتایا پورے ملک میں پانچ ایئر کوالٹی مانیٹرنگ پوائنٹ بنائے گئے، جن میں سے دو لاہور، دو کراچی اور ایک اسلام آباد میں ہے، جب کہ ماہرین کے مطابق 60 ہزار آبادی کے لیے ایک ایئر مانیٹرنگ یونٹ لازمی ہے۔

آصف شجاع کے مطابق یہاں استعمال ہونے والے پیٹرول اور ڈیزل میں سلفر کی مقدار ایک فیصد ہے، آئل ریفائنری انٹرسٹری کو اسے 0.5 فیصد پر لانے کا پابند کیا جانا چاہیے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ مقدار 0.5 فیصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک تو کم سلفر والا کروڈ آئل خریدنے سے اس کی قیمت تھوڑی زیادہ ہوتی ہے دوسرا آئل ریفائنریز کے ذریعے لو سلفر کروڈ کیا جاسکتا ہے۔ اس کا قیمتوں پر زیادہ فرق نہیں پڑتا اور فی لیٹر دو روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کون کون سے ملکوں میں یورو فور تیل یا اس سے بہتر معیار کا آئل استعمال ہو رہا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’امریکہ اور یورپ  میں الٹرا ڈیزل استعمال ہو رہا ہے۔ چین میں بھی بہتر معیار کا تیل استعمال کیا جارہا ہے، اسی طرح بھارت میں بھی یورو سکس کوالٹی کا تیل استعمال کیا جا رہا ہے جب کہ ایران بھی پاکستان کی طرح اب تیل کا معیار بہتر کر رہا ہے۔‘

منصوبے کو کامیاب کیسے بنایا جاسکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں آصف شجاع نے بتایا کہ چاروں وزرائے اعلیٰ اور ماہرین سمیت 45 اراکین پر مشتمل تحفظِ ماحولیات کونسل پہلے سے موجود، جسے چاہیے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے معیار کو یوروفور پر منتقل کرنے کے سنجیدہ قدم پر عمل درآمد یقینی بنائے اور اس سلسلے میں فیکٹریوں کو پابند کرے، جب کہ ضرورت کے مطابق ایئر کوالٹی مانیٹرنگ کو بڑھا کر ہفتہ وار رپورٹ مرتب کی جائے اور اس کا موازنہ کیا جاتا رہے، تب ہی یہ معاملہ حل ہوسکتا ہے۔

کیا یوروفور پر منتقلی سے آلودگی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرنے والی فیکٹریوں، گاڑیوں کے دھویں، کوڑا اور فصلیں جلانے پر سخت قانون سازی کرکے اس حوالے سے عملی قدامات ضروری ہیں۔

آصف شجاع کے مطابق محکمہِ فوڈ اینڈ ایگریکلچر کی ایک تحقیق کے مطابق 43 فیصد ماحولیاتی آلودگی گاڑیوں کا ایندھن جلنے سے، 25 فیصد فصلیں جلانے اور انڈسٹری سے نکلنے والے دھویں سے اور 20 فیصد سلفر ڈائی ایکسائیڈ  اور نائٹروجن سے پھیل رہی ہے۔ جب کہ دھویں میں پرٹیکولیٹ میٹر (پی ایم) کی مقدار 2.5 ہونے سے چھوٹے چھوٹے ذرات نکل کر سانس کے ذریعے انسانی خون میں شامل ہو جاتے ہیں، جس سے خطرناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کے ایک ماہر عمیر نصیر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ماحولیاتی آلودگی نے ویسے تو پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے لیکن جنوبی ایشیا میں یہ سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’دنیا ہائبرڈ ٹیکنالوجی اور الیکٹرک ٹیکنالوجی پر منتقل ہو رہی ہے، لہذا ہمیں بھی مستقبل میں آلودگی کم کرنے والی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی ابھی سے بنانا ہوگی۔‘

عمیر نصیر کے مطابق بھارت، پاکستان اور چین کے بعد ایران میں بھی سموگ پھیل چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اس پورے خطے کو مل کر موثر اور جامع حکمت عملی بنانا ہوگی۔ ’اس کے لیے نہ صرف آئل ریفائنریز کے ذریعے یوروفور کے معیار کی پیٹرولیم مصنوعات پر توجہ دینا ہوگی بلکہ انڈسٹری اور دیگر ذرائع سے پھیلنے والی آلودگی پر بھی قابو پانا ہوگا۔‘

یورو ٹو سے یورو فور پر منتقلی مجبوری تو نہیں؟

ڈان اخبار میں 21 ستمبر 2018 کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق کویت پیٹرولیم کمپنی (کے پی سی ) نے پاکستان کو جولائی میں بتا دیا تھا کہ وہ اپنی فیول مارکیٹ اور سپلائی نیٹ ورک کو اَپ گریڈ کرلے کیونکہ کمپنی 2020 کے اوائل سے یورو ٹو تیل کی سپلائی نہیں کر سکے گی۔

خبر کے مطابق پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) ایک طویل مدتی معاہدے کے تحت اپنی ڈیزل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آدھی سے زائد درآمد کویت پیٹرولیم کمپنی سے ہی کرتا ہے۔

تاہم کویتی کمپنی نے پاکستان سٹیٹ آئل کو پچھلے سال بتایا کہ اگر وہ اس کا طویل مدت تک کلائنٹ بنا رہنا چاہتا ہے تو2020 تک اسے ہر صورت یورو فور ٹیکنالوجی اپنانا ہو گی۔

کے پی سی نے یورو ٹو آئل فراہم نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ اپنے کاروبار کو یورو فور اور فائیو پر منتقل کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پی ایس او نے پچھلے سال خدشہ ظاہر کیا تھا 500 پی پی ایم (سلفر پارٹیکل پرملین) پر مشتمل یورو ٹو کے مقابلے میں یورو فائیو(10 پی پی ایم) عالمی مارکیٹ میں تقریباً ایک ڈالر تک مہنگا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں دستیاب اعلیٰ درجے کے فیول زیادہ موثر اور ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ نسبتاً مہنگے ہوتے ہیں۔

پاکستان دسمبر 2016  تک 0.5 فیصد سلفر والا ہائی سپیڈ ڈیزل (5000 پی پی ایم) درآمد کرتا تھا، تاہم بعد میں اسے 0.05 فیصد والے یورو ٹو(500 پی پی ایم) پر منتقل کر دیا گیا۔

اس وقت یورو تھری (350 پی پی ایم) میں 0.035 فیصد سلفر، یورو فور(50 پی پی ایم) میں 0.005 فیصد اور یورو فائیو(10پی پی ایم) میں 0.001 فیصد سلفر پایا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت