افغان سرحد کی بندش کے بعد پاکستان میں عسکریت پسندی کے واقعات میں کمی، رپورٹ

تھینک ٹینک سی آر ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے ساتھ سرحدی راستے بند کرنے کے بعد سے پاکستان میں عسکریت پسندوں کی پرتشدد کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں کمی آئی ہے۔

21 اکتوبر 2025 کو صوبہ ننگرہار میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان بند طورخم بارڈر کراسنگ کے قریب سامان بردار ٹرک رک گئے (اے ایف پی)

اسلام آباد میں قائم تھینک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 11 اکتوبر 2025 کو افغانستان کے ساتھ سرحدی راستے بند کرنے کے بعد سے پاکستان میں عسکریت پسندوں کی پرتشدد کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ 

اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد اسلام آباد نے پڑوسی ملک کے ساتھ تمام سرحدی راستے بند کر دیے تھے، جن میں طورخم اور چمن جیسے اہم تجارتی راستے بھی شامل ہیں، جو اب تک بند ہیں۔

سرحدی راستوں کی بندش نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو مفلوج کر دیا ہے اور سرحدوں کے اطراف تجارتی سامان سے لدے ہزاروں کنٹینرز، ٹرک اور دوسرئ گاڑیاں کھڑی ہیں۔

سی آر ایس ایس نے سالانہ سکیورٹی رپورٹ 2025 میں اکٹھے کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا کہ گذشتہ سال کے آخری مہینے (دسمبر) کے دوران پاکستان میں عسکریت پسندی کی جانب سے حملوں میں تقریباً 17 فیصد کمی واقع ہوئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ نومبر 2025 میں ایسے واقعات میں 9 فیصد کمی دیکھنے کو ملی۔ 

اسی طرح رپورٹ مٰں بتایا گیا کہ 2025 کی آخری سہ ماہی کے دوران شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان عسکریت پسندی کے تشدد کے نتیجے مٰن ہونے والی اموات میں بھی کمی آئی، جو نومبر میں تقریباً چار فیصد اور دسمبر مٰں 19 فیصد رہی۔

رپورٹ کے مطابق، ’مجموعی تشدد میں تقریباً 34 فیصد اضافے کے ساتھ، سال 2025 پاکستان کے لیے ایک دہائی میں سب سے زیادہ پرتشدد سال رہا۔ 

’ملک کو 2021 سے مسلسل پانچ سالوں تک تشدد میں مسلسل اضافے کا سامنا کرنا پڑا، جس میں افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے ساتھ ہی 2021 میں تشدد میں اضافہ تقریباً 38 فیصد، 2022 میں 15 فیصد سے زیادہ، 2023 میں 56 فیصد، 2024 میں تقریباً 67 فیصد، اور 2025 میں 34 فیصد دیکھنے کو ملا۔‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’2024 اور 2025 کے تقابلی جائزے سے پتا چلتا ہے کہ ملک میں دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی سے منسلک تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس میں اموات 2024 میں 2555 سے بڑھ کر 2025 میں 3417 تک پہنچ گئیں، یعنی 862 اموات کا اضافہ۔‘

سی آر ایس ایس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’تشدد میں سب سے زیادہ اضافہ خیبرپختونخوا میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں اموات 2024 میں 1620 سے بڑھ کر 2025 میں 2331 ہوگئیں، 711 کا اضافہ ہے) جو قومی سطح پر اموات کے اضافے کا 82 فیصد سے زیادہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ کے مطابق ’بلوچستان میں بھی پرتشدد واقعات میں اضافے کا رجحان رہا اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں اموات 787 سے بڑھ کر 956 ہو گئیں۔ 

تشدد کے علاقائی اثرات

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کے شمال مغربی خیبر پختونخوا اور جنوب مغربی بلوچستان کے صوبوں میں تشدد بہت زیادہ مرتکز رہا، جہاں 2025 کے دوران تمام اموات کا 96 فیصد اور تقریباً 93 فیصد پرتشدد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ تھا، جہاں تشدد سے ہونے والی کل ہلاکتوں میں سے 68 فیصد (2331) سے زیادہ متاثر ہوئے، اور تشدد کے واقعات میں سے تقریباً 63 فیصد (795)، اس کے بعد بلوچستان، جو کہ 28 فیصد (956) ہلاکتوں اور تشدد کے واقعات میں سے 30 فیصد (386) سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب اور سندھ میں نسبتاً کم تشدد دیکھنے کو ملا۔ 

’پنجاب میں تشدد کے 25 واقعات ریکارڈ کیے گئے جن کے نتیجے میں 40 اموات اور 24 زخمی ہوئے، جو کہ کل ہلاکتوں کا محض 1.15 فیصد ہے، جب کہ بعد میں 51 واقعات میں 56 اموات اور 40 زخمی ہوئے، جو کل کا 1.73 فیصد بنتا ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) میں اگرچہ واقعات کی تعداد کم رہی، لیکن زخمیوں کے اعداد و شمار نسبتاً زیادہ تھے۔

اسلام آباد میں مجموعی طور پر 103 زخمی ہوئے اور جموں و کشمیر میں 38 ریکارڈ ہوئے۔ دونوں جگہ صرف پانچ واقعات ہوئے تھے۔

سی آر ایس ایس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں عشکریت پسندوں کی کارروائیوں سے سب سے کم متاثرہ خطہ گلگت بلتستان رہا جہاں گذشتہ سال کے مقابلے، اگرچہ یہاں اموات کی تعداد بہت کم ہے، لیکن اس خطے میں چار گنا سے ریکارڈ کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا