دروازہ کھولیے

عزت کمانے کے لیے اور محبت حاصل کرنے کے لیے دیواریں گرانا پڑتی ہیں، اناوں کا خون کرنا پڑتا ہے، سوچ کو وسیع اور دلوں کو بڑا کرنا پڑتا ہے۔ فاصلے تو جپھیاں ڈالنے سے کم ہوتے ہیں۔ احترام خوف سے تو پیدا نہیں کیا جا سکتا۔

آپ کے دفاتر بڑی بڑی دیواروں اور سیاہ گیٹوں کے پیچھے ہیں۔ آپ کے گھروں اور دفتروں کو جانے والے راستے بند ہیں (پکسابے)

بڑی دردمندی سے، انتہائی خلوص اور سچے دل سے کہہ رہا ہوں۔ کھول دیجیے تمام کھڑکیاں اور دروازے۔ مت انتظار کیجیے کہ کوئی دیواریں پھلانگ یا گرا کر اندر آئے۔ آپ کی عزت ہماری عزت، آپ کی حرمت ہماری حرمت اور آپ کا گریبان ہمارا گریبان ہے۔ نہ لے جائیں صورت حال کو اس جانب جب خوف کی حدیں تمام ہو جائیں۔ جان سے گزر جانے اور سرفروشی کی تمنا تمام تمناؤں پو بھاری پڑ جائے۔

بندوق کی طاقت یا پیسہ نہیں بلکہ کسی بھی انسان یا ادارے کی اصل طاقت اس کا اعتبار یا ساکھ ہوا کرتی ہے۔ اعتماد قائم کرنے اور ساکھ  بنانے میں زمانے لگتے ہیں۔ مگر انہیں گنوانے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔ آئیے بیٹھیے، بات کیجیے۔۔۔۔۔ مگر آقا اور غلام والی نہیں، حاکم اور محکوم کے انداز سے بھی نہیں۔ برابری کی بنیاد پر عزت اور احترام کے ساتھ، ایسی بات چیت جس کا مقصد حدود کا تعین ہو، آئین کی پاسداری اور قانون کی عمل داری ہو۔ جس میں ہم ایک بار پھر سے یہ طے کر دیں کہ کس کا کیا کام ہے۔ ہمیں باہمی عزت اور احترام سے کیسے جینا ہے اور اعتماد کو کیسے قائم رکھنا ہے۔

یقین کیجیے ایسی بات چیت کی ضرورت ہم سے زیادہ آپ کو ہے۔

ہم تو گلی کوچوں میں گھومتے ہیں، کچے پکے گھروں میں رہتے ہیں۔ زندگی کو قریب سے دیکھتے ہیں، ان لوگوں میں رہتے ہیں جو دکھ جھیلتے، زبان کے تھپیڑے کھاتے اور آپ کے دیے ہوئے زخموں سے چور ہیں۔ ہم عوام کے نبض شناس ہیں۔ ہم نرم گرم کو براہ راست برتتے ہیں۔ لہذا ہمارا یقین کیجیے کہ ہم آپ سے بہتر خود کو اور اپنے جیسے ان کروڑوں لوگوں کو سمجھتے ہیں جو آپ کے نزدیک شاید کمی کمین ہیں۔

ذرا غور فرمائیے چند قدم پیچھے ہٹ کر تو سوچیے آپ کھڑے کہا ہیں۔ آپ کے دفاتر بڑی بڑی دیواروں اور سیاہ گیٹوں کے پیچھے ہیں۔ آپ کے گھروں اور دفتروں کو جانے والے راستے بند ہیں۔ جہاں آپ رہتے یا کام کرتے ہیں وہاں پرندہ پر بھی نہیں مار سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ کے دفاتر اور مکان عالی شان قید خانے ہیں۔ خاردار تاروں اور اونچی فصیلوں میں گھرے، الگ تھلگ، سیاہ، خوفناک دروازوں والے قید خانے۔ آپ کی بم پروف گاڑیوں میں قدرتی ہوا کا گزر ہے نہ فطری آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ ان گاڑیوں کے سیاہ شیشوں کے پیچھے آپ کو کوئی دیکھ پاتا ہے نہ آپ کو دنیا جیسی ہے ویسی نظر آتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آپ کی گاڑیوں کے آگے پیچھے بچتے ہوٹر انہی کو ڈراتے ہیں جن کی محبت اور اعتماد کی آپ کو ضرورت ہے۔ آپ کی آمد ان کے لیے عزرائیل سے کم نہیں جن کے دم سے آپ کے تمام سلسلے چل رہے ہیں۔

آپ ہر اُس آواز کا گلا گھونٹ رہے ہیں جو آپ کو آئینہ دکھاتی ہے۔ آپ ہر اس تصویر کو مٹانے کے درپے ہیں جو آپ کو حقائق سے روشناس کروا سکتی ہے۔ آپ کی معلومات اور علم کا انحصار بابووں کی سیکنڈ ہینڈ رپورٹس پر ہے۔ جہاں آپ کو سب اچھا نظر آتا ہے۔ یا پھر غداروں، تخریب کاروں، فسادی، ملک دشمن اور غیر محب وطن لوگوں کی طویل ہوتی فہرستیں ہوتی ہیں۔

یہ آپ نے کیا کر دیا ہے؟ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ نفرت اور بداعتمادی کی دیواریں کھڑی کر کے آپ محبت اور عزت کی توقع کر سکتے ہیں؟ دیواریں تو علامت ہیں فاصلوں کی، بد اعتمادی کی، نفرت کی۔

عزت کمانے کے لیے اور محبت حاصل کرنے کے لیے دیواریں گرانا پڑتی ہیں، اناوں کا خون کرنا پڑتا ہے، سوچ کو وسیع اور دلوں کو بڑا کرنا پڑتا ہے۔ فاصلے تو جپھیاں ڈالنے سے کم ہوتے ہیں۔ احترام خوف سے تو پیدا نہیں کیا جا سکتا۔

آئیے گفتگو کریں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ چند قدم پیچھے ہٹھنے، اناوں کے بتوں کو قربان اور ان محنت کش ہاتھوں کی عزت کرنے میں بڑائی ہے جن کے ٹیکسوں سے آپ کے عالی شان قصر چلتے اور آپ کی آن بان اور شان قائم ہے۔

پاکستان کے ان حقیقی مالکوں کے حقوق پر مزید قابض مت رہیے۔ عوام کو ان کے حقوق دیجیے اور لوٹ جائیے اس کام کی طرف جو آپ کا اصل کام اور ذمہ داری ہے۔ یقین کیجیے جب آپ اپنی حدود میں رہے گے، اپنے حلف کا پاس کریں گے، آئین سے وفاداری نبھائے گے، پاکستان کے عوام کی عزت صرف زبانی کلامی نہیں عملی طور پر کر کے دکھائیں گے تو آپ زندہ و پائندہ رہیں گے۔ ہمارے دلوں کی دھڑکن بنیں گے اور ہمارا فخر بنیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر