پانچ فلمیں جو روس افغانستان جنگ پر بنیں

انڈپینڈنٹ اردو کی سیریز ’روسی حملے کے چالیس سال‘ کے سلسلے میں اپنے قارئین کی لیے اس جنگ پر بننے والے وہ پانچ فلمیں ہم منتخب کر رہے ہیں جنہیں فلمی ناقدین کی جانب سے اس سلسلے کی بہترین اور یادگار فلمیں قرار دیا گیا ہے۔

(کولاج: آفیشل پوسٹرز)

(سوویت یونین کی فوجوں نے 27 دسمبر 1979 کو افغانستان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ انڈپینڈنٹ اردو نے اس موقعے پر ایک خصوصی سیریز کا آغاز کیا ہے، جس میں آپ اس تاریخ ساز واقعے کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں تحریریں اور تجزیے پڑھیں گے)


سوویت افغان جنگ کے چالیس سال پورے ہو چکے ہیں۔ ان چالیس برس کے دوران سابقہ دشمن ایک دوسرے کے اتحادیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور سابقہ اتحادی دشمن بن چکے ہیں.

یوں تو ہالی وڈ سمیت دنیا بھر کے سینیماؤں نے افغان جنگ پر سینکڑوں فلمیں بنائی ہیں لیکن انڈپینڈنٹ اردو کی سیریز ’روسی حملے کے چالیس سال‘ کے سلسلے میں اپنے قارئین کی لیے اس جنگ پر بننے والے وہ پانچ فلمیں ہم منتخب کر رہے ہیں جنہیں فلمی ناقدین کی جانب سے اس سلسلے کی بہترین اور یادگار فلمیں قرار دیا گیا ہے۔

’نائنتھ کمپنی‘

سوویت افغان جنگ پر بننے والی فلموں میں سے ایک فلم ’نائنتھ کمپنی‘ ہے جو 2005 میں ریلیز ہوئی اور یہ جدید روسی سینیما میں ایک بہترین اضافہ تھا۔ اس فلم کی عکس بندی اور ویژول افیکٹس اس کو باقی روسی فلموں کے مقابلے میں ممتاز مقام دیتے ہیں۔

اس فلم کی کہانی افغان جنگ کے دوران سوویت فوج کی نائنتھ کمپنی پر گزرنے والے ایک حقیقی واقعے پر مبنی ہے۔ اس کمپنی سے تعلق رکھنے والے 39 روسی فوجی 3234 نامی پہاڑی پر افغان جنگجوؤں کے درمیان گھر جاتے ہیں۔ جنگ کے آخری دنوں پر مبنی یہ جھڑپ جس میں ان فوجیوں کو دو سو سے دو سو پچاس جنگجوؤں کے حملے کا سامنا ہوتا ہے۔ نائنتھ کمپنی کے فوجی یکے بعد دیگرے تین حملوں کا کامیابی سے دفاع کرتے ہیں جن میں ان کے کئی فوجی ہلاک ہو جاتے ہیں جب کہ کئی زخمی بھی شامل ہوتے ہیں۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ سوویت فوج کی قیادت مشکل میں پھنسے ان فوجیوں کو مکمل طور پر بھول جاتی ہے کیونکہ اسی دوران افغانستان سے سوویت انخلا کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

حقیقت میں اس واقعے کی تاریخ کافی مختلف ہے۔ افغان جنگجوؤں کے ان حملوں میں 6 سوویت فوجی ہلاک جب کہ 28 زخمی ہو جاتے ہیں۔

ہلاک ہونے والے چار فوجیوں کو بعد از مرگ سوویت یونین کے ہیروز کو دیے جانے والے گولڈن سٹار سے نوازا گیا جب کہ جھڑپوں کے دوران ان کا یونٹ اپنی اعلیٰ کمان سے مکمل رابطے میں تھا جس کی جانب سے انھیں مسلسل کمک فراہم کی جا رہی تھی۔

’دا کائٹ رنر‘

مصنف خالد حسینی کے ناول پر مبنی یہ فلم 2007 میں ریلیز کی گئی۔ کہانی کا آغاز سال 1978 میں کابل شہر کے دو لڑکوں کے پتنگ اڑانے کے منظر سے ہوتا ہے جب نہ کابل میں روسی تھے نہ طالبان، نہ امریکی تھے اور نہ ہی بدامنی۔

عامر بھی باقی لڑکوں کے ساتھ مل کر پتنگ اڑایا کرتا تھا اور جب کسی کی پتنگ کٹ جاتی تو باقی لڑکے رقص کرکے اپنی خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ عامر کا دوست حسن ان کے گھریلو ملازم کا بیٹا ہے۔ حسن ان کے محلے میں سب سے اچھا پتنگ باز تھا۔ وہ کٹی پتنگ کے زمین پر واپس آنے کا مقام اور وقت درست بتانے کا ماہر تھا۔

کہانی آگے بڑھتی ہوئے کئی دلچسپ نشیب و فراز سے گزرتی ہے۔ کابل سے شروع ہونے والی یہ کہانی امریکہ کے شہر سان فرانسسکو اور پھر واپس کابل پلٹتی ہے اور پھر سال 2000 میں افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے واقعات اس فلم کے پس منظر کو بیان کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ناقدین اس فلم کو حقیقت کے قریب تر خیال کرتے ہیں اور اس فلم کی عکس بندی، جذباتی مناظر اور جان دار جملے یقینی طور پر دیکھنے لائق ہیں۔

 

ریمبو 3

1988 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں ہالی وڈ اداکار سلویسٹر سٹالون اپنے روائتی ماچو مین کردار میں نظر آئے۔ فلم میں سلویسٹر سٹالون کا کردار ایک ایسے سابق فوجی کا ہے جو ویت نام کی جنگ میں حصہ لے چکا ہے اور اب اسے افغانستان میں موجود اپنے سابق کمانڈر کو مشکل سے نکالنا ہے۔ یہ کمانڈر سوویت فوج کی حراست میں ہے اور ریمبو نہ صرف اپنے سابقہ کمانڈر کو چھڑانا چاہتا ہے بلکہ وہ سوویت فوج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر افغانستان کے عوام کو بھی ان کے قبضے سے آزادی دلوانا چاہتا ہے۔

جنگ و جدل سے بھرپور اس فلم میں پر تشدد مناظر اور گالیوں سے لبریز جملوں کی بہتات ہے۔

فلم کا اختتام سکرین پر چلتے ایک پیغام سے ہوتا ہے جس کے مطابق یہ فلم سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑنے والے افغان جنگجوؤں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بنائی گئی تھی لیکن ناقدین نے نشاندہی کی ہے کہ نائن الیون کے بعد اس پیغام میں ترمیم کر کے یہ خراج تحسین ’افغانستان کے بہادر عوام‘ کے لیے کر دیا گیا۔

’چارلی ولسنز وار‘

حالیہ برسوں میں آنے والی کئی فلمیں ہمیں عراق اور افغانستان میں جاری جنگوں کی طوالت کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہیں لیکن ان جنگوں کی بنیاد کیسے پڑی اس حوالے سے ’چارلی ولسنز وار‘ نے کچھ حد تک تفصیلات کو بڑے پردے کی زینت بنایا ہے۔

2007 میں آنے والی یہ بائیوگرافیکل کامیڈی ڈرامہ فلم امریکی کانگریس کے رکن چارلی ولسن کی کہانی ہے جو سوویت افغان جنگ کے دوران افغان جنگجوؤں کو منظم اور ان کی حمایت کرنے کے لیے آپریشن سائیکلون نامی پروگرام کی بنیاد رکھتے ہیں۔

یہ فلم اسی کردار کے گرد گھومتی ہے جو سوویت فوج کے خلاف افغان جنگجوؤں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرتا ہے۔ اس جنگ میں امریکہ نے افغان جنگجوؤں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کی تھی لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد انہیں گروہوں میں سے ایک گروہ افغانستان میں برسراقتدار آتا ہے جو امریکہ اور مغرب ممالک نظریات رکھتا ہے۔

اس فلم میں چارلی ولسن کا کردار معروف ہالی وڈ اداکار ٹام ہینکس نے ادا کیا ہے جبکہ ان کی ساتھی کا کردار اداکارہ جولیا رابرٹس نے ادا کیا ہے۔ فلم میں پاکستان کے اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیا الحق کا کردار بھارتی اداکار اوم پوری نے ادا کیا۔

’دا لیونگ ڈے لائٹس: جیمز بانڈ زیرو زیرو سیون‘

جیمز بانڈ سیریز کی یہ فلم 1987 میں ریلیز ہوئی۔ یہ اس سیریز کی سولہویں فلم تھی جس میں جمیز بانڈ کا کردار ٹموتھی ڈالٹن نے ادا کیا۔

اس فلم کی کہانی جمیز بانڈ کی روسی خفیہ ایجنسی کے منصوبوں کو ناکام کرنے اور اس کے ایجنٹوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے گرد گھومتی ہے۔ یورپ سے ہوتے ہوئے ایشیا تک اور ہیروں اور اسلحے کے سمگلروں سے لے کر افغان جنگجوؤں کے کردار اس کی کہانی کو تہہ در تہہ مزید دلچسپ بناتے ہیں۔ خفیہ طور جمیز بانڈ کے ساتھ مل کر کام کرتے ایک سوویت جنرل کو بچانے کے دوران جیمز بانڈ کے کردار کو حیرت انگیز کارنامے سر انجام دیتے دکھایا گیا ہے جو کہ یقنناً جمیز بانڈ سیریز کی فلموں کا ہی خاصہ ہے۔

فلمی ناقدین نے ٹموتھی ڈالٹن کی تو بھرپور تعریف کی لیکن ان کی ساتھی اداکارہ مریم دابو کو وہ پذیرائی نہیں حاصل ہو سکی جس کی توقع جیمز بانڈ سیریز کے خواتین کرداروں سے کی جاتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم