ایران نے ’غیر ارادی ‘ طور پر طیارے کو مار گرایا:جواد ظریف

ایران کے وزیر خارجہ کے مطابق یہ ’انسانی غلطی‘تھی۔ جواد ظریف نے مسافروں کے لواحقین سے اظہار افسوس کرتے ہوئے معذرت چاہی ہے۔

ریسکیو ٹیم کا ایک رکن آٹھ جنوری، 2020 کی صبح تہران میں ہوائی اڈے کے قریب گرنے والے یوکرینی جہاز کا  ملبے کے قریب کام میں مصروف ہے (اے ایف پی)

ایران کے سرکاری ٹی وی نے عسکری ذرائع کے حوالے سے ایک خبر میں تسلیم کیا کہ ایران نے بدھ کو ’غیر ارادی ‘طور پر ایک یوکرینی مسافر طیارے کو میزائل مار کے گرا دیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ہفتے کی صبح سامنے آنے والے بیان میں کہا گیا کہ طیارے کا گرائے جانا ’انسانی غلطی‘ تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آٹھ جنوری کی صبح وکرین انٹرنیشنل ایئر لائنز کا بوئنگ 737 طیارہ تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے ٹیک آف کے چند منٹوں بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار 176 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

طیارے کے گرنے سے چند گھنٹے قبل ایران نے عراق میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔

ابتدا میں ایرانی ٹی وی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حادثے کی وجہ فنی خرابی ہے لیکن امریکہ اور کینیڈا نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایران نے طیارے کو میزائل سے گرایا ہے۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا تھا: ’ایسی اطلاعات ہیں کہ ایرانی حدود میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے اس پرواز کو گرایا گیا‘ اور ’یہ شاید غیر ارادی طور پر ہوا ہو گا۔‘

پروازوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق، فلائٹ پی ایس 752 یوکرین کے دارالحکومت کیف جا رہی تھی۔ 

ایرانی خبررساں ادارے ارنا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا ایران نے ’یوکرین اور بوئنگ کمپنی دونوں کو دعوت دی ہے کہ وہ حادثے کی تحقیقات میں شامل ہو جائیں۔‘

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک ٹویٹ میں طیارے کو میزائل سے مار گرانے کی تصدیق کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار افسوس اور معافی طلب کی ہے۔

’یہ ایک افسوس ناک دن ہے۔ مسلح افواج کی ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا کہ یہ ایک انسانی غلطی تھی جس کی وجہ امریکی مہم جوئی تھی۔ ہمیں افسوس ہے، ہم معذرت خواہ ہیں اور تعزیت کرتے ہیں اپنی عوام سے اور حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کے اہل خانہ سے اور باقی تمام اقوام جو اس سے متاثر ہوئیں۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا