کیا ہماری اہمیت ہمارے قد کاٹھ پر توجہ دیے بغیر نہیں جانی جاسکتی؟

کیا ہم اپنی جلد میں مطمئن نہیں رہ سکتے اور ہماری اہمیت ہماری قد کاٹھ پر توجہ دیئے بغیر نہیں جانی جاسکتی؟

وہ اشتہار جس نے تنازع کھڑا کر دیا۔ 

میں نے اپنی آدھی زندگی لندن انڈرگروانڈ میں گزار دی، ایک جگہ سے دوسری جگہ ایک غار کے چوہے کی طرح آتے جاتے، ٹرین چھوٹ جانے، برے لوگوں کا سامنا کرنے اور پریشان سیاحوں پر چیختے ہوئے کہ ’ہم مچھلیاں نہیں ہیں‘ جو بھری ہوئے ٹرین پر چڑھنے سے قبل سوار مسافروں کو اترنے نہیں دیتے۔

پرانے وقتوں میں میں سو جاتی (پی کر ہوش کھو دینا پڑھا جائے) اور اس وقت ہوش میں آتی جب زون چھ کے بیابان علاقے پہنچ چکی ہوتی۔ مجھے یقین ہے کہ بعض لوگ محض اس لیے کوکفاسٹر کے آخری سٹیشن آباد ہوگئے ہوں گے کیونکہ وہ شب کی آخری ٹرین میں وہاں پہنچے ہوں گے اور گھر کے لیے ٹیکسی تلاش کرنے سے بہتر یہی رہ جانے کو قرار دیا۔

میں نے اکثر اپنے آپ کا جائزہ لیا ہے۔ انڈرگروانڈ ٹرین میں سفر کے تجربے میں اشتہارات کا بہت عمل دخل ہے۔ یہ لندن کی توند کے نیچے لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں۔

یہیں پروٹین ورلڈ نے دل کھول کر عورتوں کو جو پژمردہ حالت میں کام پر جاتی ہیں ایک خوبصورت بکینی میں ملبوث ماڈل کی’بیچ باڈی‘ کی شبہہ سے مقابلہ کرنے کی دعوت دی۔ اس مہم نے اپنی مصنوعات استعمال کرنے کا قدرے مطالبہ کیا تاکہ آپ اضافی وزن کم کرسکیں اور ساحل پر آنے والوں کو حیرت میں ڈال سکیں۔ انڈرگراونڈ ٹرین استعمال کرنے والوں نے تنگ آ کر ان پوسٹروں کی شکل تبدیل کر دی اور لندن کے میئر صادق خان نے اشتہار پر پابندی لگا دی۔ بہترین فیصلہ۔ عورت ہونے کے چیلنج پہلے ہی کافی ہیں اور اس قسم کے اشتہارت کے ذریعے انہیں یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ آپ ایک خاص طریقے سے نظر آنی چاہیے ورنہ آپ خوش نہیں ہوں گی۔ اس طرح کے رویے سے نمٹنا کسی بھی عمر کے حصے میں مشکل ہے، لیکن نوجوان لڑکیوں کے لیے یہ خاص طور پر کافی نقصان دے ہوسکتا ہے۔

مجھے معلوم ہے، میں جانتی ہوں۔ ’اگر کوئی بات آپ کو بری لگے تو اس جانب بس دیکھیں ہی نہ! اسے آف کر دیں۔‘ خوب، لیکن آپ سٹیشن کا پلیٹ فارم تبدیل کرتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کرکے اچھے کی امید یقینا نہیں کرسکتے ہیں۔ آپ کو زبردستی اشتہارات جن میں سے بعض کافی تکلیف دے ہوتے ہیں دیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ میرا خیال نہیں کہ ایک ایسی دنیا میں بسنے کی خواہش ہونی چاہیے جہاں کارپوریشنیں آپ کو ایک مخصوص انداز میں دکھائی دینے کے بعد ہی اچھا محسوس کرنے کے بارے میں بتا رہی ہوں۔

ٹرانسپورٹ فار لندن یا ٹی ایف ایل جس کا ڈیڑھ ارب پاونڈز کا کاروبار ہے اب درو دیوار پر کیا چسپاں کرتی ہے کے بارے میں زیادہ احتیاط کر رہی ہے اور سٹی ہال کے قریب حالیہ دنوں میں ’د ومن وی سی‘ نامی ایک مقابلے کا انعقاد کیا۔ اس میں دوسرے نمبر پر میک گیری بوون آئیں اور اب ان کے اشتہارات انڈگراونڈ بھر میں لگے ہیں۔ اس کے پیچھے خیال یہ تھا کہ ایسی تصاویر لگائی جائیں جہاں نئی مائیں اپنے انڈویئرز میں اپنے آپریشن کے نشانات، کھچی ہوئی جلد اور پستان اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اپنے بچوں کو گود لیے ہوئے دکھائی دیں۔ اس کے نیچے دی گئی عبارت تھی: ’کیا یہ خوبصورت نہیں؟‘ ہاں یقینا وہ ہیں۔ تمام جسم دلچسپ اور زبردست ہیں، اور جس نے ابھی ہی ایک مکمل انسان کو دنیا میں لایا وہ یقینا ایک عجوبہ اور طاقت کا مظہر ہے۔

میں اس مہم کے بارے میں کچھ برا نہیں کہنا چاہتی، لیکن یہ ایک مسئلہ کے حل کی تلاش ہے؟ کیا ہم اپنی جلد میں مطمئن نہیں رہ سکتے اور ہماری اہمیت ہماری قد کاٹھ پر توجہ دیئے بغیر جانی جائے؟ یہ درست ہوگا اگر میں یہ اعتراف کروں کے زچگی کے بعد مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں تھی کہ میری توند فرنی کی طرح تھی، اور خوبصورت دکھائی دینا میری آخری ترجیع تھی۔ درحقیقت اس بات کا خیال نہ کرکے میں ایک میٹھی سی آذادی حاصل کی۔

اپنے سب سے چھوٹے بچے کی پیدائش کے پانچ سال بعد میری توند اب بھی ایسی دکھائی دیتی ہے جیسے کہ یہ حاملہ ہے۔ میں اس بارے میں کچھ کر بھی نہیں سکتی۔ یہ ٹھیک ہے، کیونکہ مجھے اس کے اختتام پر ایک بہت بڑا تحفہ ملا، جو میری توند پکڑ کر ’جیلی بیلی‘ گائے گا جس سے میری انا کو تسکین ملی گی۔

مجھے معلوم ہے کہ بچہ ہونے کے بعد آپ کا جسم مختلف دکھائی دیتا ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی احساس ہوتا ہے کہ یہ آپ کا جسم ہی نہیں۔ کیا یہ صرف میں ہوں یا فینسی پتلون کے ڈائریکٹرز ہیں جو بیٹھے ایک دوسرے سے پوچھیں: ’ٹھیک ہے، خواتین کا کون سا گروہ جسمانی کارکردگی کی تشخیص کے زیادہ معترف ہیں؟ میں جانتی ہوں! چلو لٹکتے پستان والی چنتے ہیں؟‘

میں معذرت خواہ ہوں دولت بنانے والوں کی مخالف ہونے کی، یہ لوگ ہمیں اشیا فروخت کر رہے ہیں۔ مجھے ایسا کاروبار نہیں چاہیے جو مجھے بتائے کہ میرا جسم ٹھیک ہے۔ ہر سٹریچ مارک، زخم، جنوب کی جانب کھچے پستان اور لٹکتی توند ہی نے مجھے میرے اپنے ہنستے کھیلتے بچے دیئے۔ یہ ہی وہ واحد توثیق ہے جو مجھے چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ