لاہور سے غائب ہونے والے طالب علم رہنما محسن ابدالی گھر واپس آ گئے

انڈپینڈنٹ اردو کی نمائندہ کو ان کے قریبی ساتھی نے تصدیق کی کہ وہ شام چھ بجے گھر پہنچ گئے تھے۔

محسن ابدالی پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ زراعت میں ایم فل کے طالب علم ہیں (تصویر سوشل میڈیا)

پروگریسیو سٹوڈنٹ کلیکٹیو (پی ایس سی) کے سرگرم کارکن محسن ابدالی جنہیں چند نامعلوم افراد جمعرات کی صبح چار بجے کے قریب لاہور کے علاقے باغبان پورہ میں واقع ان کی رہائش سے اٹھا کر لے گئے تھے، اطلاعات کے مطابق وہ گھر واپس آ چکے ہیں۔

محسن ابدالی پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ زراعت میں ایم فل کے طالب علم ہیں۔ ان کے اٹھائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ’ریلیز محسن ابدالی‘ کے نام سے ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا تھا جس میں لوگ ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے بذریعہ فون محسن کے چھوٹے بھائی عمر ابدالی سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا تھا کہ’علی الصبح چار بجے کے قریب گھر کے دروازے پر دستک ہوئی، میرے والد بشیر احمد خان دروازہ کھولنے گئے تو محسن بھی ان کے ہمراہ  تھے۔ دروازہ کھولا تو سامنے چھ پولیس اہلکار اور تین سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد کھڑے تھے۔

’یونیفام میں ملبوس افراد نے نیلی جیکٹیں پہن رکھی تھیں جب کہ اوپر کالی چادریں اوڑھی ہوئی تھیں۔ ان سب کے منہ ڈھکے ہوئے تھے، سوائے ایک کے، جن کو یہ سب ’سر‘ کہہ کر مخاطب کر رہے تھے، ان کے پاس اے کے 47 رائفلز بھی تھیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا: ’ان لوگوں نے میرے والد کو اندر دھکیلا اور گھر کے اندر گھس آئے اور محسن کا پوچھنے لگے۔ محسن کے سامنے آنے پر انھوں نے اسے پکڑ لیا اور جب والد صاحب نے انھیں چھڑوانے کی کوشش کی تو ان کو پیچھے رہنے کے لیے ڈرایا دھمکایا گیا۔‘

عمر نے بتایا کہ اہلکاروں نے گھر میں موجود دونوں لیپ ٹاپ اٹھا لیے جن میں سے ایک ان کا تھا جسے وہ بعد میں وہیں چھوڑ گئے۔ اس کے علاوہ انھوں نے محسن کا موبائل فون بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمر نے بتایا کہ یہ لوگ دو کالے رنگ کی ویگو گاڑیوں میں تھے جبکہ جنھیں ’سر‘ کہہ کر بلایا جارہا تھے وہ بغیر نمبر پلیٹ کی سفید کرولا میں تھے۔

انھوں نے تھانہ باغبان پورہ میں درخواست دائر کر دی تھی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس تعاون نہیں کر رہی اور کہہ رہی ہے کہ انھیں اس واقعے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

سماجی کارکن اور ممبر حقوق خلق موومنٹ عمار علی جان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ محسن طلبہ حقوق کے لیے سرگرم تنظیم کے رکن ہیں۔ وہ طلبہ یک جہتی مارچ میں بھی شامل تھے اوراسلام آباد میں پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین اور محسن داوڑ کی رہائی کے لیے ہونے والے احتجاج میں گرفتار عمار رشید سمیت 29 طلبہ کی بازیابی کے لیے منگل کو لاہور میں ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ اور عوامی ورکرز پارٹی کے منعقدہ احتجاج میں آگے آگے تھے۔

عمار کہتے ہیں کہ وہ اسے حراست نہیں بلکہ اغوا سمجھتے ہیں کیونکہ محسن کا کچھ پتہ نہیں اور ابھی تک انھیں کسی تھانے میں پیش نہیں کیا گیا۔ ’ہم ان کی بازیابی کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے اور اگر آج محسن کو نہ چھوڑا گیا تو احتجاج کریں گے۔

پولیس کے بیان میں تضاد

محسن کے غائب ہو جانے کے حوالے سے جب تھانہ باغبان پورہ سے جمعرات کی صبح 11 بجے رابطہ کیا گیا تو ایس ایچ او قمرعباس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’محسن کے گھر دراصل ضلع بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں کے تھانے بخشن خان کے اے ایس آئی شاہد پرویز آئے تھے اور محسن کو چیک مسترد ہونے (cheque dishonor) کے کیس میں پکڑ کر لے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں تھانہ باغبان پورہ کچھ نہیں کر سکتا  اور محسن سے اہل خانہ کا رابطہ بخشن خان تھانے کی پولیس ہی کروائے گی۔

ایس ایچ او قمر عباس نے بتایا: ’ہمیں نہیں پتہ کہ محسن کا رابطہ ان کے گھر والوں سے ہوا یا نہیں، ویسے بھی ابھی تو وہ سفر میں ہوں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ساری معلومات انھوں نے عمر کو دے دی ہیں۔ تاہم آدھے گھنٹے بعد ہی ایس ایچ او قمر عباس نے خود نمائندہ انڈپینڈنٹ اردو کو فون کرکے بتایا کہ ’بخشن تھانے والے محسن ابدالی نہیں بلکہ طاہر رفیق نامی آدمی کو لے کر گئے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ محسن  کو کوئی اور ٹیم لے کر گئی ہے، جس نے ہمیں ابھی تک تھانے میں کوئی اطلاع نہیں دی۔‘

ایس ایچ او کے اس بیان پر پروگریسیو سٹوڈنٹ کلیکٹیو کے رکن علی اشرف نے بتایا کہ محسن کا کہیں کسی بینک میں کوئی اکاؤنٹ نہیں اور فراڈ کیس میں کوئی منہ ڈھانپ کر علی الصبح گرفتار کرنے نہیں آتا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان