گرل فرینڈ کی تلاش اور انہیں چاند پر لے جانے کا منصوبہ ترک

یوساکو مائزاوا کا کہنا ہے کہ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہوں۔

مائزاوا،سپیس ایکس بی ایف آر کے پہلے نجی مسافر اکتوبر 2018 میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

جاپان کے ارب پتی شخص جنہوں نے چاند کے سفر کے لیے ایک گرل فرینڈ تلاش کرنے کا آن لائن اشتہار دیا تھا، انہوں نے اب اپنی اس کوشش کو ترک کر دیا ہے۔

یوساکو مائزاوا کا ارادہ تھا کہ نجی سپیس فلائیٹ کے ذریعے چاند کے گرد سفر سے پہلے وہ ایک ہمسفر کی تلاش کے لیے ایک ٹی وی شو کا سہارا لیں گے۔

مقابلے کے بعد وہ فاتح خاتون کو اپنا ہمسفر بنانا چاہتے تھے۔ تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ نجی وجوہات کے باعث وہ اپنی تلاش اور مجوزہ ٹی وی شو منسوخ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس تلاش کے لیے تقریباً 28 ہزار خواتین نے درخواستیں جمع کرائی تھیں اور وہ ان تمام امیدواروں سے ان کے وقت کے ضائع ہونے کے لیے معذرت خواہ ہیں۔

یوساکو مائزاوا نے ملبوسات کی فروخت کے لیے آن لائن کمپنی لانچ کی تھی جس کے بعد ان پر دولت کے دورازے کھل گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی دولت کو غیرمعمولی منصوبوں کے لیے استعمال کیا جس میں خلا کے سفر کے علاوہ خود کو سب سے زیادہ ری ٹویٹ کیے جانے والا شخص بنانے کے لیے انعامی رقم کا اعلان جیسے اقدامات شامل ہیں۔

مائزاوا چاند کے سفر کے لیے پہلے ہی سپیس ایکس کو خطیر رقم ادا کر چکے ہیں۔ 2023 تک یہ نجی خلائی کمپنی کا خلا میں سیاحت کے لیے پہلا سفر ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلے پہل انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے ہمراہ چھ سے آٹھ فنکاروں کو خلا میں لے کر جائیں گے جن سے امید تھی کہ وہ مائزاوا کے سفر کی دستاویز بنائیں گے۔

تاہم اس مہینے کے شروع میں 44 سالہ ارب پتی شخص کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسے جیون ساتھی کی تلاش کر رہے ہیں جس کے لیے اس سفر میں ایک نشست خالی رکھی گئی ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے 20 سال سے بڑی ایسی خواتین کو درخواستیں جمع کرانے کے لیے کہا تھا جو ’سنگل‘ ہوں اور انہیں خلائی سفر میں دلچسپی ہو۔

رواں ماہ ان کا کہنا تھا کہ تمام امیدواروں میں سے ایک خاتون کا انتخاب ’فل مون لوورز‘ نامی ایک ڈاکیومنٹری میں کیا جانا تھا اور جیتنے والی خاتون کو اس سفر پر روانہ ہونے کا موقع ملنا تھا۔

مائزاوا نے اس منصوبے سے دستبرداری کا اعلان کئی سلسلہ وار ٹویٹس کے ذریعے کیا جس میں انہوں نے ان خواتین سے معافی طلب کی جنہیں اس اعلان سے مایوسی ہوئی ہے۔

اپنی ٹویٹس میں انہوں نے لکھا: ’نجی وجوہات کی بِنا پر میں نے گذشتہ روز ابیما ٹی وی کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا کہ میں میچ میکنگ ڈاکیومنٹری میں حصہ نہیں لے سکتا۔ لہذا میں نے ان سے درخواست کی کہ اس شو کو منسوخ کر دیا جائے۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ ’شو کے بارے میں میرے حقیقی اور دیانت دارانہ عزم کے باوجود میرے ابھی بھی اس شو میں شرکت کے حوالے سے ملے جلے جذبات ہیں۔ یہ سوچ کر کہ 27 ہزار 722 پُرجوش اور باہمت خواتین نے درخواست دینے کے لیے اپنا قیمتی وقت صرف کیا ہے، مجھے اپنے اس خود غرضی پر مبنی فیصلے پر اور اس کا اعلان کرتے ہوئے انتہائی افسوس کا احساس ہو رہا ہے۔‘

’میں سمجھتا ہوں کہ میں نے تمام امیداروں اور ابیما ٹی وی کے پروڈکشن عملے سمیت بہت سے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ میں اپنے ان نامناسب اقدامات پر ہر ایک سے معافی طلب کرتا ہوں۔ میں واقعتاً اپنے دل کی گہرائی سے معذرت خواہ ہوں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا