عمرانی تجربے کے چند تلخ حقائق

پاکستان میں پہلے بھی مسائل تھے مگر وہ درد سری تھی، یہ بے کسی اور مفلسی ہے۔ اس وقت چیلینجز تھے اب بحران ہے۔ تب آندھی تھی اب طوفان ہے۔ اس وقت حکومت میں کوئی اور تھا مگر اب عمران ہے۔

حزب اختلاف کا گڑھ سمجھے جانے والے لاہور میں رکشہ ڈرائیوروں نے اتوار کو مہنگائی کے خلاف احتجاج منعقد کیا (اے ایف پی)

سال 2018 میں پاکستانی قوم کے قرضے اور واجب الادا رقوم 29.879 کھرب روپے کے قریب تھیں۔ تب فوجی سربراہ سے لے کر عمران خان تک، سب معاشی بدحالی اور اس کے دیرپا مضر اثرات پر قوم کی معلومات میں اضافہ کرتے تھے۔

بتایا جاتا تھا یہ ملک اس طرح نہیں چل سکتا۔ ہمارا دفاع برباد ہو جائے گا اور قومی ترقی کے خواب پاش پاش۔

ہمیں سمجھایا جاتا تھا کہ بھوکی ننگی مقروض قوم اس بے یار و مدد گار خچر کی طرح ہوتی ہے جو بد قسمتی کی ٹھوکریں کھا کر خاموشی سے ہر گزرنے والے سے ایک ہمدردانہ نگاہ کا طلب گار ہوتا ہے مگر کوئی پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا۔

نواز شریف کو نکالنے اور اس وقت کی سیاسی قیادت کو جیلوں میں تُننے کی بنیاد مسخ شدہ معیشت ہی بتلائی جاتی تھی۔

یہ ڈرامہ ابھی بھی جاری ہے۔ اگرچہ شاہد خاقان عباسی نے اس ڈرامے کے تخلیق کاروں اور اس کی پُتلیوں کے پڑخچے اڑا دیے ہیں مگر پھر بھی ہر دوسرے روز یہی سننے کو ملتا ہے کہ ہائے پچھلی حکومتوں نے اس ملک کو قرضے کی دلدل میں کس بے رحمی سے ڈبویا۔

اب 2020 کی صورت حال سن لیجیے۔ پاکستان کے قرضے اور مالی واجبات 41.479 کھرب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ یعنی ہم 2018 سے لے کر اب تک تقریباً 40 فیصد زیادہ مقروض ہو گئے ہیں اور یہ سب نئے قرضے ہیں۔

یہ پرانے قرضوں کو اتارنے کے لیے نہیں اس ملک کو چلانے کے لیے لیے گئے ہیں مگر اب کوئی بین نہیں ڈالتا۔ کوئی ملک کو بچانے والا کرائے پر حاصل کیے ہوئے معاشی تجزیہ کاروں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر مرثیہ نہیں پڑتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمران خان جو ہر روز بیان دے کر بتایا کرتے تھے کہ ہر پاکستانی انفرادی طور پر کتنا مقروض ہے اب انڈے اور مرغیوں میں گھسے رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

کبھی زبان نہیں کھولتے، کسی کو نہیں بتاتے کہ انھوں نے اپنے دانش مند دوستوں کے ساتھ مل کر نئے قرضوں کے کتنے پہاڑ کھڑے کیے ہیں۔

کوئی ٹی وی پر بیٹھ کرعوام کے ضمیر کو نہیں جھنجوڑتا، کسی جج کو قوم کے بچوں کے مستقبل کا خیال نہیں آتا۔

ملکی معیشت کی دھلائی اور عوام کی زندگی و کاروبار کی بربادی پر اس خاموشی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان حقائق کو ماننا ایک طرح کا اعتراف جرم ہوگا جو کم ظرفی کے اس دور میں کوئی کرنے کو تیار نہیں۔

اعداد و شمار کچھ بھی کہیں اس امر کے ماننے کی قیمت کوئی چکانے کو تیار نہیں کہ معیشت بچاؤ، نواز بھگاؤ اور عمران کو لاؤ نامی تجربہ بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔

نااہلی کی ایک نہ ختم ہونے والی بارات ہے، جس کا دلہا خوش فہمی کے گھوڑے پر بیٹھا اپنی پسند کا ڈھول بجوا کر دیوانوں سی باتیں کرتا رہتا ہے۔

کبھی ٹیکے، کبھی حوریں، کبھی انڈے اورکھوکھلا اخلاقی اول فول۔ ایک نیوکلیئر طاقت جو اپنی آبادی، جغرافیے اور وسائل کی وجہ سے دنیا کے نقشے پر ایک غیرمعمولی مرکزیت رکھتی ہے، اب آئی ایم ایف کے چیلوں کے ہاتھوں میں پھڑپھڑا رہی ہے۔

گیلپ سروے کے مطابق 80 فیصد پاکستانی بزنس مین یہ سمجھتے ہیں کہ ملکی معیشت غلط سمت جا رہی ہے۔ غور کیجیے لفظ سمت ہے زاویہ نہیں، یعنی معیشت اس طرف جا رہی ہے جس طرف تباہی ہے۔

اگلے 10 سال میں بڑھتی ہوئی آبادی، محدود ہوتے وسائل موجودہ شرم ناک معاشی شرح ترقی کو پاکستان کے خلاف ہونے والی بدترین سازش میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

اگر ابھی تدارک نہ ہوا تو تاریخ کی سفاکیوں کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ اگر کسی جگہ صلاحیت کا کوئی نشان نظر آتا تو اس طرح کی ناامیدی پرورش نہ پاتی۔

نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی تک نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ موجودہ حکمران ناتجربہ کار ہیں، مگر حیرانی ہے کہ عمرانی تجربے کے سائنس دان ابھی بھی اس ٹیسٹ ٹیوب کے ٹکڑوں کو دیکھتے ہوئے اصرار کر رہے ہیں کہ کچھ دن اور انتظار کریں ہو سکتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے اور ہمیں یہ نہ ماننا پڑے کہ اتنا مفصل، اتنا مہنگا پراجیکٹ پٹ گیا ہے۔

ہمیں علم نہیں ہے کہ یہ غلط فہمی عام فہمی سے کب تک ٹکراتی رہے گی۔ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے سے لے کر آئی ایم ایف سے طے کیے ہوئے ٹیکسوں کی وصولی کے اہداف تک سینکڑوں کام ایسے ہیں جو تمام تر دعوؤں کے باوجود آغاز کا مرحلہ بھی طے نہ کر پائے۔

پشاور کی بس سروس وہ استعارہ ہے جو اس حکومت کی استطاعت کو چند کلو میٹرز میں بیان کر دیتا ہے، جو بسیں نہیں چلا سکتے وہ ریاست کیا چلائیں گے اور پھر عوام کی تکالیف اب ناقابل بیان نکتے پر پہنچ گئی ہیں۔

صورت حال کچھ ایسی ہے کہ لوگ چوراہوں پر کھڑے ہو کر کیمروں کے سامنے نام بتا کر بلا خوف گندی گالیاں نکال رہے ہیں۔ کوئی سڑکوں پر گدھے بھگا رہا ہے اور کسی نے فرضی جنازہ اٹھایا ہوا ہے۔

جن کو یہ سب کچھ مبالغہ اور پروپیگینڈا لگتا ہے ان کو حقیقت جاننے کے لیے بازار کا ایک چکر لگانے کی ضرورت ہے یا وہ سبزی منڈی جا کر حکومت کی تعریف کرکے دیکھ لیں ان کو خود پتہ چل جائے گا کہ عوام کی رائے کیا ہے۔

معیشت کے ساتھ دنگا فساد اور عوامی زندگی کی معاشی تباہی کے باوجود بھی عمرانی نظام کی کچھ وقعت برقرار رہتی اگر چند ایک انتظامی امور، اتحادیوں کے ساتھ تعلقات اور حزب اختلاف کے معاملات پر تھوڑی سی دانش مندی کا اظہار ہو رہا ہوتا۔ ایسا نہیں ہے، بلکہ سب کچھ اس کے بر عکس ہے۔

پارٹی کے اندر ٹوٹ پھوٹ ہے۔ اتحادی جو 2018 کے انتخابات میں کان سے پکڑ کر بنی گالہ کے در پر لا کھڑے کر دیے گئے تھے، اب اپنے حجروں میں بیٹھے حکومتی ممبران کو کھری کھری سناتے ہیں۔

عثمان بزدار کو پنجاب میں برقرار رکھ کر صوبے کو گروی رکھوا دیا ہے لیکن اصرار یہی ہے کہ اس اہم وفاقی اکائی  میں اس سے بہتر وزیر اعلیٰ نہیں لایا جائے گا۔

خیبر پختونخوا میں ساز باز کی منڈی لگی ہے لیکن بیان یہی دیا جا رہا ہے کہ یہاں سے ریاست مدینہ کے طالب علم نکل کر ملک کی قسمت بدل دیں گے۔

پنجاب میں آئی جی پولیس ایسے تبدیل کیے ہیں کہ جیسے مائیں شرارتی بچوں کے کپڑے بدلتی ہیں۔ سندھ نے ایک آئی جی کو تبدیل کیا تو اس پر کہرام برپا کر کے قومی مسئلے میں تبدیل کر دیا گیا۔

کسی شعبے میں کوئی اصلاح کا بڑا قومی پروگرام جاری نہیں کیا گیا۔ اب تو شبر زیدی کی ہمت بھی جواب دے گئی ہے۔ کس چاہ سے ان کو لے کر آئے تھے اور کس ندامت اور خفت کے پس منظر میں اب وہ بیماری کا بہانہ بنا کر نامکمل فائلوں کو پھلانگتے ہوئے بھاگنے کو تیار ہیں۔

پاکستان میں پہلے بھی مسائل تھے مگر وہ درد سری تھی، یہ بے کسی اور مفلسی ہے۔ اس وقت چیلینجز تھے اب بحران ہے۔ تب آندھی تھی اب طوفان ہے۔ اس وقت حکومت میں کوئی اور تھا مگر اب عمران ہے۔

جو وزیر اعظم 18مہینے کے بعد تسبیح پھیرتا ہوا یہ کہہ رہا ہو کہ مجھے گمراہ کیا گیا ہے اس کو کب تک خضر راہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہے گا۔

جو وزیر اعظم عدالت سے لڑائی لڑ کر سو بہانے اور حیلے بنا کر قانون بنانے کے باوجود فوج کے چیف کی مدت ملازمت کا نوٹیفکیشن جاری نہ کر پائے وہ ریاست کے امور کی کیا اصلاح کرے گا۔

ان تلوں میں تیل نہیں ہے اور نہ کبھی تھا۔ یہ ایک خوف ناک حقیقت ہے جس سے اب دامن چھڑانا ممکن نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ