مردوں کی ایک سے زائد شادیاں خواتین کے ساتھ ناانصافی: امام جامعہ الازہر

شیخ احمد الطیب کے مطابق یہ روایت قرآن اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے میں کمی کا نتیجہ ہے۔

گذشتہ برس ملتان کے رہائشی  23 سالہ اظہر حیدری نے بیک وقت 2 خواتین سے شادی کی تھی، ان میں سے ایک خاتون وہ تھیں، جن سے ان کی بچپن میں منگنی ہوچکی تھی جبکہ ایک خاتون وہ تھیں، جن سے وہ محبت کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ایک ہی دن دونوں سے شادی کرنے کو ترجیح دی، اس شادی کا کافی دنوں تک چرچا رہا تھا۔ فوٹو: اے پی

قاہرہ: مصر کی تاریخی جامعہ الازہر کے امام شیخ احمد الطیب نے ایک سے زائد شادیوں کو خواتین کے ساتھ ’ناانصافی‘ قرار دے دیا۔

شیخ احمد الطیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا، ’ایک سے زائد شادیاں اکثروبیشتر خواتین اور بچوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔'

انہوں نے مزید کہا، ’یہ روایت قرآن اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے میں کمی کا نتیجہ ہے۔‘

شیخ احمد الطیب نے جمعے کے روز ہونے والے اپنے ٹی وی شو کے دوران بھی اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا، ’وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ شادیاں ایک سے زائد ہونی چاہئیں، سب غلط ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا، ’قرآن کا کہنا ہے کہ اگر کسی مسلمان مرد نے متعدد شادیاں کرنی ہوں تو اسے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا اور اگر وہ انصاف نہ کرسکے تو کثرت ازدواج سے منع کیا جاتا ہے۔'

امام شیخ احمد الطیب کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں کا ایک طوفان آگیا، جس پر جامعہ الازہر نے واضح کیا کہ شیخ نے ایک سے زائد شادیوں پر پابندی کی بات نہیں کی۔

اپنے جمعے کے بیان میں شیخ احمد الطیب نے اس حوالے سے کھل کر روشنی ڈالی تھی کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے بحث میں ترمیم ہونی چاہیے۔

اپنی ٹویٹ میں انہوں نے کہا تھا، ’خواتین معاشرے کا نصف حصہ ہیں، اگر ہم ان کی پروا نہیں کریں گے تو یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم ایک پاؤں سے چل رہے ہوں۔‘

شیخ احمد الطیب کے اس بیان کو مصر کی نیشنل کونسل فار ویمن کی جانب سے سراہا گیا۔

کونسل کی صدر مایا مورسی نے کہا، ’مذہب اسلام خواتین کو عزت دیتا ہے، اس نے خواتین کو انصاف اور وہ حقوق دیئے ہیں، جو اس سے قبل وجود نہیں رکھتے تھے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا