ایک کسان کے بیٹے کی کہانی

ہسپانیہ میں پاکستان سے آ کر آباد ہونے والے ایک کسان کا بیٹا جو وہاں مزدوروں کا جواں سال منتخب رہنما بن گیا ہے۔

(اے ایف پی فائل)

ڈاکٹر ہما جمشید چاہے کچھ ماہ کے لیے بارسلونا میں کونسلر منتخب ہوئیں مگر سیودادانوس جماعت کی طرف سے طاہر رفیع کے بطور کونسلر انتخاب نے پاکستانی نژاد ہسپانویوں کے لیے اُمید کے در وا کیے کہ یہ دوسرے پاکستانی ہیں جو اس سطح تک پہنچے جس کا براہ راست مطلب یہی لیا گیا کہ مٹی میں نم ہے اور ساقی بھی تیاری کر رہا ہے۔

چوہدری پرویز انور وڑائچ گجرات پاکستان سے ہیں۔ 2003 میں وہ ہسپانیہ کی تارکین وطن کو قانونی درجہ دینے کی پالیسی کے تحت کاتالونیہ کے صوبہ لیریدا میں وارد ہوئے۔ لیریدا زرعی اعتبار سے کاتالونیہ کا زرخیز صوبہ ہے۔ پاکستانی یہاں بہت کم تعداد میں آباد ہیں اور جو ہیں ان کی اکثریت زراعت سے منسلک ہے۔

پرویز انور کے وسائل محدود تھے اور مسائل لامحدود مگر انہوں نے لیریدا میں کسان بن کر رہنے کو ترجیح دی۔ ہزار یوروز جتنی محدود تنخواہ تھی مگر بیوی بچوں کو 2008 میں پاکستان سے بلوا لیا۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ سب سے بڑے بیٹے حسنین وڑائچ، وہی جو پاکستان قونصل خانہ کے ساتھ بھی منسلک رہے۔ بیٹی بین الاقوامی کمپنی میں افسر ہے اور باقی کہانی احمد سردار سے متعلق ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

23 جنوری 2020 درمیانی شب موبائل پر پیغام موصول ہوا۔ نمبر انجانا تھا مگر عادت سے مجبور واپس کال داغ دی۔ دوسری طرف ہسپانوی لہجے میں ڈوبی اردو میں ایک جوان کی آواز تھی۔ رسمی تعارف پھر مُختصر گُفتگُو کے بعد جوان نے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور ساتھ ہی ’زبان مانگی‘ کہ جب تک اُن کا ’کام تمام نہ ہو جائے‘ کسی سے کُچھ نہ کہا جائے۔ سو زبان دے دی گئی۔

ویسے بھی مختصر دورانیے میں جو کچھ سنایا جا چکا تھا اُس کے بعد پس و پیش لایعنی تھا۔ دو فروری شام پانچ بجے کچھ تصاویر اور ایک ویڈیو موصول ہوئی اور اگلے دن شب ساڑھے آٹھ بجے سوشلسٹ جماعت کے بارسلونا کے مرکزی دفتر کے باہر ملاقات طے پائی اور ہم چشم ماروشن دل ما شاد وہاں پہنچ گئے اور وہاں سے بارسلونا کے ضلع یوبریگات کے شہر کورنَییادے یوبریگات جہاں احمد سرداراپنے والدین کے ساتھ دو سال سے مقیم ہیں۔

احمد سردار بارسلونا میں پاکستانی طلبہ کی تنظیم ایکوپ کے سیکٹری جنرل رہ چکے ہیں۔ اے کوپ پاکستانی طلبہ کا نمائندہ پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں کاتالان اور ہسپانوی زبان کے ماہر طلبہ مختلف جامعات میں اپنے جواہر آزما بھی رہے ہیں اور علم کے میدان میں داد بھی پا رہے ہیں۔

 احمد سردار جامعہ لیریدا سے امور کاروبار و تجارت میں سند یافتہ ہیں۔ پھر میڈرڈ سے کاروبار اور تجارت کے انتظامی امور میں ایم فل کیا اور کاتالونیہ کے مرکزی صوبائی بینک لاکائشا کے ساتھ منسلک ہو گئے۔ لاکائشا میں ملازمت اختیار کرنے سے قبل دو سال خود زراعت میں والد کے ساتھ کام کیا۔

ایک کسان کا کسان بیٹا جامعہ لیریدا سے ہی سیاسی طور پر متحرک رہا اور زمانۂ طالب علمی سے ہسپانیہ کی موجودہ حکمران سوشلسٹ جماعت کے نوجوانوں کے باب سے منسلک ہو گیا۔ دو سال قبل احمد سردار نے لاکائشا بنک بارسلونا مرکزی شاخ میں کام شروع کرنے کے ساتھ آزادانہ طور پر سوشلسٹ جماعت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

جامعہ لیریدا سے مدد بھی پہنچی اور دو سال کی محنت کے بعد اس کو سوشلسٹ جماعت نے بارسلونا میں جوانوں کے کاروباری امورکا براہ راست سیکریٹری منتخب کیا ہے۔ یہ سوشلسٹ جماعت کا بارسلونا میں جوانوں کے امور سے متعلق چار میں سے ایک مرکزی عہدہ ہے جو ہسپانیہ بھر  میں پروان چڑھنے والی پاکستانی نوجوان نسل کی بڑی کامیابی ہے۔

احمد سردار وڑائچ نشانِ راہ نہیں بلکہ نشانِ منزل ہیں۔ روائیتی سیاست کی بجائے جدید سوشلسٹ سیاست کا قائل جس کے تین خواب ہیں۔ بینکر بننا جو وہ بن گیا، کاروبار کرنا جس کی تعلیم اس کا اصل ہے اور سیاستدان بننا جو کوئی دن جاتا ہے وہ وہاں پہنچ جائے جہاں 30 سال بعد اندر سے چٹخنی چڑھا کر بیٹھے بزرگ پہنچنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

26 سال کا جواں سال احمد سردار جو بات کرتے رہتا حال میں ہے مگر دیکھتا مستقبل میں ہے۔ اُس کی کامیابیوں کا سہرا بلاشبہ اس  کی شبانہ روز محنت کے سر تو ہے ہی مگر مبارک ہیں وہ پاکستانی والدین جنھوں نے اپنے بچوں کو محدود وسائل کے ساتھ علم اور عمل سے روشناس کروایا اور انہیں فیصلے سننے کی بجائے فیصلہ سازی کی راہ دکھا کر لامحدود کر دیا۔ آج ایک مزدور کسان کا بیٹا مزدوروں کا جواں سال منتخب رہنما ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی