خلیجی ریاست قطر کی جانب سے گذشتہ دنوں افغانستان کے تعلیم کے شعبے میں سرگرم کارکن مطيع اللہ ويسا کو بھی ان کی خدمات کے نتیجے میں خصوصی ایوراڈ سے نوازا گیا۔
مطیع اللہ ویسا قلم لار یعنی قلم کے راستے نامی ایک ایسوسی ایشن کے رہنما ہیں اور تقریباً 17 سالوں سے افغانستان کے مختلف حصوں خصوصاً دور دراز علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مہم چلا رہے ہیں۔
انہیں یہ بین القوامی بدعنوانی کے خلاف ایوارڈ قطر کے امیر تميم بن حمد آل ثاني نے دوحہ میں ایک تقریب میں دیا تھا۔
تعلیم کے لیے سرگرم مطیع اللہ ویسا کو طالبان نے 2023 میں افغانستان میں گرفتار کیا اور سات ماہ حراست میں رکھنے کے بعد 26 اکتوبر کو کابل میں رہا کر دیا گیا تھا۔ طالبان نے کہا کہ انہیں ’من مانی سرگرمیوں‘ اور ’حکومت مخالف اشتعال انگیزی‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کی تنظیم کے افغانستان میں بہت سے رضاکار ہیں اور وہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے تعلیمی سہولیات فراہم کرنے اور لڑکیوں کی تعلیم پر سے پابندی ہٹانے کے لیے کام کرتے ہیں۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی مطیع اللہ ویسا نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی اور طالبان حکومت کی طرف سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے خلاف آواز اٹھائی۔
ایواڈ حاصل کے کے بعد ایک تفصیلی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف اس ایوارڈ اور ایک نوجوان کے طور پر اس اعزاز سے نوازے جانے پر بہت شکر گزار ہیں۔
یہ ایوارڈ دنیا بھر کے لوگوں کے کام کو سراہنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اس سال میں نے افغانستان کی نمائندگی کی اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میں گولڈ میڈل، سرٹیفکیٹ اور انعامی رقم پر مشتمل ایوارڈ حاصل کر سکوں۔ انتخاب ایک کمیٹی کرتی ہے جو ہر امیدوار کا بغور جائزہ لیتی ہے۔
مطیع اللہ ویسا تقریباً 32 سال قبل قندھار میں ایک استاد کے گھر پیدا ہوئے۔ جب وہ چھوٹے تھے تو خانہ جنگی میں اپنا سکول جلائے جانے کے بعد سے وہ بچوں کی تعلیم کے حق کے لیے لڑتے رہے۔
انہوں نے اور ان کے دوستوں نے 52 بند سکولوں کو دوبارہ کھولا ہے اور دور دراز علاقوں میں 18 لائبریریاں قائم کی ہیں۔ انہوں نے افغانستان کے دور دراز دیہاتوں میں بالغوں کی خواندگی کے لیے ایک موٹر سائیکل لائبریری بھی بنائی۔
وہ بچوں خصوصاً لڑکیوں کو بھی اکٹھا کرتے تھے، ان میں کتابیں اور دیگر ضروری پڑھنے کا سامان تقسیم کرتے اور آخر میں ان کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں کتاب پڑھ کر سناتے۔
انہیں کرپشن کیٹیگری کے لیے کیوں منتخب کیا گیا؟
مطیع اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم اور انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے راستے میں بدعنوانی کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کی۔ ’ہم نے لوگوں کی بات سننے اور ان کی آواز اور خدشات بلند کرنے کی کوشش کی۔ پہلی بار ایک ٹیم کے طور پر ہم نے گھوسٹ سکولوں، گھوسٹ اساتذہ اور ان تمام تعلیمی منصوبوں کے خلاف کھڑے ہوئے جو بدعنوانی کے نتیجے میں قائم ہوئے تھے۔
’ہم نے مختلف علاقوں کا سفر کیا اور لوگوں سے آمنے سامنے بات کی اور بدعنوانی کے بارے میں آگاہی بڑھائی۔ نتیجتا، وہ سکول جو بدعنوانی کی وجہ سے بند تھے، دوبارہ کھول دیے گئے اور ہزاروں بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔‘
اپنے کام پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے ان کا کہنا تھا انہوں نے مرکزی حکومت اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر بدعنوانی سے نمٹنے میں تعاون کیا۔ ’ہم نے ہمیشہ نصاب، شفافیت اور جوابدہی کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے کام کا دوسرا حصہ نوجوانوں کی سماجی ہم آہنگی کو یقینی بنانا تھا جس کے لیے انہوں نے چار صوبوں اور تقریبا 370 اضلاع کا سفر کیا۔ ان دوروں کا مقصد آگاہی بڑھانا، اتحاد پر زور دینا اور امن کا پیغام دینا تھا۔
کتابوں کے جمع کرنے کی مہم: جنگ زدہ اور دور دراز علاقوں میں دس لاکھ سے زائد کتابیں اور 42 عوامی لائبریریاں قائم کیں، ادب اور کہانی کی کتابیں ہزاروں بچوں میں تقسیم کی گئیں۔ تیس لاکھ سے زائد بچوں کو سٹیشنری اور تعلیمی مواد دیا گیا۔
لڑکیوں کی تعلیم، اتحاد کے کام اور لاکھوں افغانوں میں امن کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے موٹر بائیک مہم چلائی گئیں۔ گھر گھر تعلیم کی مہم چلائی گئی اور ہزاروں بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا گیا۔ موبائل سکول اور موبائل لائبریریاں دور دراز اور کم سہولت یافتہ علاقوں کے بہت سے بچوں کے لیے دستیاب کی گئیں۔
2016 میں جنگ زدہ علاقوں میں رہنے والی لڑکیوں کے لیے ہوم سکولز قائم کیے گئے۔ یہ 3000 رضاکاروں پر مشتمل ایک مضبوط کثیر نسلی ٹیم کو اکٹھا کرتا ہے جس میں قبائلی رہنما، نوجوان، مرد اور خواتین شامل ہیں۔
مطيع اللہ ويسا کا اصرار ہے کہ یہ ایوارڈ اگرچہ ان کے لیے ذاتی فخر نہیں ہے، لیکن یہ تعلیم، ماحولیات کے تحفظ، قومی مفاد، شفافیت اور اتحاد کے لیے زیادہ محنت، مضبوط اور مضبوط کام کرنے کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ’میں امید کرتا ہوں کہ ایک دن میرے ملک کے دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو سائنس، فن، تحقیق، جدت اور دیگر شعبوں میں چمکنے کا موقع ملے گا۔‘
انہوں نے بیان میں افغانستان کی تین اہم ضروریات کی نشان دہی بھی کی۔ اس میں پہلے نمبر پر غربت جس کی وجہ سے ان کے خیال میں کمزور بچوں کو تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ملتی۔ ’زندگی کی مدد فراہم کرنے کے علاوہ، ہم انہیں تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع کیسے فراہم کر سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ت کہ بہت سے نوجوانوں کے پاس نوکریاں نہیں ہیں، وہ پڑھائی نہیں کرتے اور اپنا وقت سوشل میڈیا پر ضائع کرتے ہیں۔ ’ہم انہیں پڑھنے، مہارتیں سیکھنے اور اپنی زندگی بہتر بنانے کی ترغیب کیسے دے سکتے ہیں؟‘
تیسرے نمبر پر انہوں نے شجر کاری کی ترغیب دی۔ ’ہمارے ملک کے کئی علاقے ویران اور سنسان ہیں۔ ہم درخت کیسے لگا سکتے ہیں، مختلف پودے اگ سکتے ہیں، پانی کیسے بچاتے ہیں اور ماحول کی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں۔ یہ مشکل کام ہے لیکن ناممکن نہیں۔‘
ان کا آحر میں کہنا تھا کہ تمام مسائل کے باوجود، انہیں یقین ہے کہ وہ محنت کرتے رہیں گے اور اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے لیے پرعزم رہیں گے۔