افغان لڑکیوں کا دکھ

روایتی افغان معاشرے میں یہ نظریہ اتنا فطری ہے کہ کوئی بھی لڑکی کی پیدائش کا الزام مرد کو نہیں دیتا اور ہمیشہ عورت کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

13 ستمبر 2021 کی اس تصویر میں ایک افغان لڑکی کابل  کی ایک سڑک  پر سے گزر رہی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’افغانستان میں ایک عورت کو اس کے شوہر نے قتل کردیا کیونکہ وہ مسلسل بیٹی کو جنم دے رہی تھی۔ ایک عورت کو اس کے شوہر نے اس لیے طلاق دے دی کیونکہ وہ ایک لڑکی تھی۔ ایک عورت کو کئی بار اسقاط حمل کروانے پر مجبور کیا گیا کیونکہ صنفی تشخیص سے پتہ چلا کہ جنین ایک لڑکی ہے۔ ایک عورت کو اپنے شوہر کو دوسری شادی کی پیشکش کرنی پڑی کیونکہ اس کا شوہر بیٹا چاہتا تھا۔۔۔‘

یہ بیانیہ مغربی سامعین اور یہاں تک کہ افغانستان کے قریبی ممالک کے لوگوں کے لیے خوفناک ہوسکتا ہے، لیکن بہت سے افغانوں کے لیے یہ معمولی اور واضح ہے۔ بیٹی افغانستان میں دوسرے درجے کی جنس ہے۔ یہاں تک کہ بڑے شہروں میں اور ان خاندانوں میں جو خود کو دانشور سمجھتے ہیں، بیٹیوں کی بار بار پیدائش والدین خصوصاً مردوں میں عدم اطمینان کا باعث بنتی ہے۔

میں نے اپنے خاندان میں لڑکیوں کے ساتھ امتیازی رویہ دیکھا ہے۔ میری خالہ نے لگاتار چار بیٹیوں کو جنم دیا تھا اور ان کے شوہر، جو فوج میں خدمات انجام دے چکے تھے، بہت ناراض ہوئے اور ان سے کہا: ’اگر اس بار بھی لڑکی ہوئی تو تمہیں اپنے باپ کے گھر چلے جانا چاہیے۔‘ خوش قسمتی سے میری خالہ کے ہاں پانچواں بچہ لڑکا ہوا، لیکن چھٹی اور ساتویں مرتبہ پھر لڑکیوں کی پیدائش ہوئی۔ جب میری خالہ نے اپنی ساتویں بیٹی کو جنم دیا تو ان کے شوہر انہیں گھر لانے کے لیے ہسپتال نہیں گئے بلکہ وہ خود اپنی بچی کو بازوؤں میں تھام کر ٹیکسی میں گھر آئیں۔

روایتی افغان معاشرے میں یہ نظریہ اتنا فطری ہے کہ کوئی بھی لڑکی کی پیدائش کا الزام مرد کو نہیں دیتا اور ہمیشہ عورت کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

لڑکیاں زندگی بھر امتیازی سلوک کا تلخ ذائقہ بھی محسوس کرتی ہیں۔ بچوں کے لیے سامان کی فراہمی میں فرق اور امتیازی سلوک، لباس میں امتیازی سلوک، تعلیم میں امتیازی سلوک، والدین اور رشتہ داروں کے رویے میں امتیازی سلوک وغیرہ۔ یہاں تک کہ مائیں اپنے بیٹوں کو بیٹیوں سے زیادہ اہمیت دیتی ہیں کیونکہ بیٹا شاید انہیں زندگی کی بقا کی ضمانت دیتا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان میں لڑکیاں ان پیچیدگیوں کے ساتھ پروان چڑھتی ہیں اور انہیں ان سے چھٹکارا پانے کا کبھی حق نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں، جب مستقبل میں زندگی کا کوئی فیصلہ کرنے کا وقت آتا ہے، یہاں تک کہ اگر لڑکی کو انتخاب کا حق دے بھی دیا جائے تو وہ خود کو اپنے لیے فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دیتی اور بالآخر اس عمل کے سامنے سر جھکا دیتی ہے جو اس پر لاگو ہوتا ہے۔ 

یقیناً یہ مسئلہ افغانستان تک محدود نہیں ہے۔ اسی وجہ سے اقوام متحدہ نے 11 اکتوبر کو لڑکیوں کے عالمی دن کے طور پر منتخب کیا ہے۔ بھارت جیسے ملک میں، جو دنیا کی آبادی کا تقریباً 25 فیصد ہے، ایک بیٹی کا ہونا بہت بڑی بدنامی ہے۔ جنسی تشخیص کے بعد اسقاط حمل کی شرح میں اتنا اضافہ ہوگیا ہے کہ بھارتی حکومت نے تمام الٹراساؤنڈ مراکز کو حکم دیا ہے کہ وہ والدین کو جنین کی جنس بالکل نہ بتائیں۔ افغانستان میں بھی ڈاکٹروں کو طویل عرصے سے اس کا علم ہے اور وہ عام طور پر جنین کی جنس ظاہر نہیں کرتے جب تک کہ انہیں یقین نہ ہو کہ والدین بیٹی کے پیدا ہونے سے خوفزدہ نہیں ہیں۔

یہ صورت حال بتدریج تبدیل ہوسکتی تھی، لیکن طالبان کے افغانستان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد، لڑکیاں ایک بار پھر تنہائی اور امتیازی سلوک کی کھائی میں گر گئیں۔ لڑکیوں کے سکول بند ہوگئے، یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوا، انہیں طالبان کے معیارات پر عمل کرنے پر مجبور کیا گیا اور لڑکیوں کے لیے روزگار ، خاص طور پر میڈیا میں، اور خواتین کے خلاف تشدد، جبری شادیوں اور بچوں کی شادی جیسے واقعات سامنے آئے۔

صنفی عدم مساوات افغانستان میں اس قدر عام ہے کہ اس صورتِ حال کو بیان کرنے کے لیے عورتوں میں ایک کہاوت استعمال کی جاتی ہے: ’آگ کو جنم دو مگر بیٹی کو جنم نہ دو۔‘

خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی تنظیمیں ایک بار پھر آواز اٹھا رہی ہیں۔ سب سے بدترین بات یہ تھی کہ لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر فیس بک جیسے سوشل نیٹ ورکس پر کوئی خبر نہیں تھی، جہاں زیادہ تر افغان موجود ہیں۔ لگتا ہے کہ افغان صارفین نے بھی نئی حکومت کی پالیسی کے مطابق اپنی بیٹیوں کو نظرانداز کردیا ہے۔


نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ مضمون پہلے انڈپینڈنٹ فارسی پر شائع ہوا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ