کیا چہرے پہ ماسک پہننا کرونا سے بچا سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس سے بچاﺅ کا سب سے بہترین طریقہ ہاتھوں کو صاف رکھنا، گندے ہاتھوں سے چہرے کو نہ چھونا، بیمار افراد کے قریب جانے سے اجتناب اور کسی بھی متاثرہ فرد کی زیر استعمال اشیا کو استعمال نہ کرنا ہے۔

’عام ماسک وائرل بیماریوں سے بچانے کے لیے نہیں ہوتے اور یہ ناک اور گالوں پر بھی سختی سے نہیں بیٹھتے۔ ‘ (اے ایف پی)

چین میں کرونا وائرس پھیلنے کے ساتھ ہی میڈیا میں سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دنیا بھر بالخصوص چین سے واپس آنے والے یا چین سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے چہروں پر ماسک پہنے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ افراد نہ صرف خود ماسک پہنے دکھائی دیتے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے پالتو جانوروں کو بھی ماسک پہنا دیے ہیں۔ ایسے میں کئی افراد کی جانب سے سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا چہرے پر ماسک پہننا کرونا وائرس سے بچا سکتا ہے؟

آن لائن سائنسی جریدے لائیو سائنس کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کا جواب ہے نہیں۔ امریکا کی وینڈربلٹ یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر ولیم شیفنر نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عام فیس ماسک کرونا وائرس سے بچاؤ کا ذریعہ نہیں بن سکتا لیکن کرونا سے بچاؤ کے لیے ایک مخصوص ماسک این 95 ریسپیرٹر موثر ثابت ہوسکتا ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق یہ ماسک سرجیکل ماسک سے زیادہ موٹا ہوتا ہے مگر طبی ماہرین کی جانب سے عام افراد کو یہ ماسک پہننے کا مشورہ نہیں دیا جاتا۔ اس لیے کہ بہت زیادہ وقت تک اس ماسک کو پہنے رکھنا کسی طور پر بھی ایک چینلج سے کم نہیں۔ اس ماسک کی دستیابی بھی اتنی آسانی سے ممکن نہیں۔

ماہرین کو بھی یہ ماسک پہننے کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے کہ اسے چہرے پر اس انداز میں پہننا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ماسک کے اندر کونوں سے ہوا نہ آ سکے۔

‘ڈاکٹر ولیم کا کہنا ہے کہ ’جہاں یہ وائرس موجود ہی نہیں وہاں اس طرح کا ماسک استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق امریکا جہاں اس سال انفلوئنزا فلو سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں وہاں بھی اس کے خلاف اس طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی جاتیں۔

رپورٹ کے مطابق عام سرجیکل ماسک اس لیے تیار ہوتے ہیں تاکہ ڈاکٹر کی ناک اور منہ کو آپریشن یا معائنے کے دوران مریض کے جسم سے خارج ہونے والے مواد سے محفوظ رکھا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مختلف ممالک میں لوگ اس طرح کے ماسک روزانہ کی بنیاد پر پہنے نظر آتے ہیں جس کا مقصد جراثیموں اور فضائی آلودگی سے بچنا ہوتا ہے لیکن عام سرجیکل ماسک وائرس سے بچاﺅ میں کسی طور پر مددگار نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر ولیم شیفنر کے مطابق یہ عام ماسک وائرل بیماریوں سے بچانے کے لیے نہیں ہوتے اور یہ ناک اور گالوں پر سختی سے نہیں بیٹھتے جب کہ ان کا استعمال بھی صرف ضروری حالات میں ہی کرنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی افراد سرجیکل ماسک فلو یا نزلہ زکام ہونے پر پہنتے ہیں تاکہ ان کی وجہ سے دیگر افراد اس کا شکار نہ ہو سکیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ بیمار ہیں تو بہتر یہی ہے کہ عوامی مقامات پر جانے سے گریز کریں اور گھر میں رہنے کو ترجیح دیں۔

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس سے بچاﺅ کا سب سے بہترین طریقہ ہاتھوں کو صاف رکھنا، گندے ہاتھوں سے چہرے کو نہ چھونا، بیمار افراد کے قریب جانے سے اجتناب اور کسی بھی متاثرہ فرد کی زیر استعمال اشیا کو استعمال نہ کرنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی