پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ باجوڑ کے علاقہ خار میں عسکریت پسندوں سے لڑتے ہوئے پاکستانی فوج کے میجر عادل زمان جان سے گئے۔
پیر کے شام جاری ہونے والے بیان میں آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 29 دسمبر کو سکیورٹی فورسز نے ضلع باجوڑ کے علاقے خار میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا، جس کے دوران پانچ عسکریت پسند مارے گئے، ’تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران میجر عادل زمان (عمر: 36 سال، سکنہ: ضلع ڈیرہ اسماعیل خان) جان سے گئے۔
بیان کے مطابق مرنے والے عسکریت پسندوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، جب کہ کہا گیا ہے کہ عسکریت پسند ’سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بےگناہ شہریوں کے قتل میں بھی سرگرم رہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ علاقے میں عسکریت پسندوں کا صفایا کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے، اور یہ کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ’عزمِ استحکام‘ (جس کی منظوری نیشنل ایکشن پلان پر فیڈرل ایپکس کمیٹی نے دی تھی) کے ویژن کے تحت دہشت گردی کے خلاف مہم، ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری قوت سے جاری رہے گی۔‘
اکتوبر میں اسلام آباد میں قائم تھینک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز نے کہا کہ 2025 کی تیسری سہ ماہی میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی کی وجہ سے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان مارچ میں گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 میں دوسرے نمبر پر تھا، جبکہ عسکریت پسندی سے ہونے والی اموات کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ رہیں۔