باجوڑ: پولیو ٹیم پر حملہ، پولیس اہلکار سمیت دو افراد کی موت

پولیس کے مطابق ملک بھر میں جاری سال کی آخری انسداد پولیو مہم کے دوران تنگی گاؤں میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس ٹیم کو نشانہ بنایا گیا۔

29 اکتوبر 2024 کو پشاور کے مضافات میں لی گئی اس تصویر میں سکیورٹی اہلکار کی موجودگی میں ہیلتھ ورکر ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلا رہی ہے (اے ایف پی)

ملک بھر میں جاری سال کی آخری انسداد پولیو مہم کے دوران خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں منگل کو پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد جان سے گئے۔

باجوڑ پولیس کے ترجمان منصور کے مطابق یہ واقعہ منگل کو دن 12 بج کر 50 منٹ پر تھانہ خار کی حدود میں واقع تنگی گاؤں میں پیش آیا جہاں پولیو مہم کی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق حملے میں پولیس اہلکار سجاد احمد اور راہ گیر فضل حیات جان سے گئے جبکہ پولیو ورکرز اس حملے میں محفوظ رہے۔

پولیس ترجمان نے مزید بتایا کہ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

ادھر وزیراعظم نے باجوڑ میں پولیو ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار اور ایک شہری کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ قوم کے لیے انسداد پولیو جیسی اہم خدمت سرانجام دینے والوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے تک انسداد پولیو مہم پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں ملوث عناصر کی فوری شناخت کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے والی ٹیم پر حملہ درندہ صفت عناصر کا گھناؤنا فعل ہے۔‘

ملک میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ ٹل نہیں سکا اور ملک کے کئی علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کا سلسلہ دوسال بعد بھی جاری ہے۔

گذشتہ ماہ لاہور میں سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی

ترجمان پولیو کنٹرول پروگرام یونیسیف نے نومبر میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آؤٹ فال روڈ، گلشن راوی، ملتان روڈ ڈسپوزل سٹیشن میں پولیووائرس پایا گیا۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد کے ریکارڈ کے مطابق کہ  خیبر پختونخوا میں ضلع تورغر میں 12سالہ بچے میں وائلڈ پولیو وائرس کا کچھ عرصہ پہلے ایک نیا کیس سامنے آیا جس کے بعد پاکستان میں 2025 کے دوران پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 30 ہو گئی ہے جن میں خیبر پختونخوا سے 19، سندھ سے نو اور پنجاب اور گلگت بلتستان سے ایک ایک کیس شامل ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان