اسرائیل غزہ پر ’اندھی بمباری‘ میں ملوث: فضائیہ اہلکاروں کا انکشاف

فضائیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے سے قبل متحرک عسکریت پسند کمانڈروں جیسے اہداف کی فضا سے نگرانی کی جاتی ہے جبکہ جامد اہداف کے لیے عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔

20 سالہ ابو مسمہ اس گڑھے کے اندر کھڑے ہیں جہاں اسرائیل کے فضائی حملے سے پہلے ان کا آبائی گھر تھا!(بل ٹریو)

اسرائیلی ایئرفورس کے اہلکاروں نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی فوج باقاعدہ طور پر غزہ میں ایک سال سے بھی زیادہ پرانی انٹیلی جنس معلومات استعمال کرتے ہوئے جانچ پڑتال کے بغیر عام شہریوں کے خلاف ’اندھی‘ بمباری کرتی ہے جو غیر ضروری جانی نقصان کا باعث ہے۔

اسرائیلی فضائیہ کے ارکان نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’ڈیٹابیس میں پہلے سے موجود معلومات جسے ’بینک‘ کہا جاتا ہے، کی درستگی کی جانچ کرنے کی بجائے ساخت کے حوالے سے سنگین مسائل اور ’بربادی، بربادی، بربادی‘ کی پالیسی کے تحت 25 میل لمبی غزہ کی پٹی پر نئے اہداف کی شناخت کرنے والے فوجی اہلکاروں کو نوازا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ اہداف وہاں موجود نہ بھی ہوں، جیسا کہ 2014  کی غزہ جنگ جیسی طویل مہم جوئیوں کے دوران ہوا تھا، تو بھی فضائیہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ وہاں پر بم گرانا جاری رکھیں۔

فضائیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے سے قبل متحرک عسکریت پسند کمانڈروں جیسے اہداف کی فضا سے نگرانی کی جاتی ہے جبکہ جامد اہداف کے لیے عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔

ان اہلکاروں کے الزامات سے اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے ان بیانات پر شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں جن میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’فوج ہر وہ ممکن اقدام کرتی ہے جس سے غزہ میں غیر ضروری ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔‘

غزہ ایک محصور پٹی کی مانند ہے جہاں 20 لاکھ افراد بستے ہیں اور یہ کرہ ارض پر سب سے گنجان آباد جگہوں میں سے ایک ہے۔

ایک اور پریشانی کی بات 2014 کے ’پروٹیکٹیو ایج‘ جیسے بڑے فوجی آپریشنز میں ’عام شہریوں کی ہلاکت‘ یا نام نہاد  کولیٹرل ڈیمیج کے اعداد و شمار سے متعلق ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 51 دن تک جاری رہنے والے اس آپریشن کے دوران 1400 سے زائد فلسطینی شہری اور چھ اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے۔

ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگر غزہ کے ایک حصے میں اسرائیلی فوج کے خلاف خطرے کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے تو آپریشنل موڈ اور قبول شدہ سطح پر ’عام شہریوں کے جانی نقصان‘ کو بڑھا دیا جاتا ہے، اور اس کا اطلاق پوری پٹی پر ہوتا ہے، اس بات سے قطع نظر کہ دوسرے علاقوں میں خطرے کی شدت کیا تھی، جس سے تناسب کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے عمل سے عام شہریوں کی ہلاکت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مخصوص واقعات میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ان الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تاہم دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’فوج کے پاس ایک تفصیلی تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے جس میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔‘

اپنی ویب سائٹ پر اسرائیلی فوج ایک خاکہ پیش کرتی ہے کہ وہ کس طرح ہلاکتوں کو کم سے کم کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ ماضی میں بھی وہ متعدد بار ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے کہ اس نے غیر قانونی حملے کیے ہیں۔

اسرائیلی ایئر فورس کے ایک انٹیلی جنس اہلکار (اے)، جن کی شناخت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پوشیدہ رکھی جا رہی ہے، نے بتایا: ’باضابطہ طور پر تو ہر ہدف کے لیے ایک خاص عرصہ ہوتا ہے اور اس وقت کے بعد انٹیلی جنس کے دو نئے ذرائع تلاش کرنے پڑتے ہیں تاکہ اس کی دوبارہ نشاندہی کی جاسکے، تاہم محققین کی تعداد کے مقابلے میں اہداف کی تعداد بہت زیادہ ہے۔‘

’اے‘ نے بتایا کہ اہداف کو معمول کے مطابق جانچا نہیں جاتا ’بعض اوقات تو ایک سال سے زیادہ عرصے تک بھی نہیں۔‘

’ایسے اہداف جن کی معیاد ختم ہو چکی ہو وہ ترجیح نہیں ہوتے۔ عام طور پر، محققین کو نئے اہداف تلاش کرنے کے منصوبے تفویض کر دیے جاتے ہیں۔ یہ پریشانی کی بات ہے کہ وہ کچھ نیا دریافت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘

’اور اس طرح (جنگ کے وقت) اہداف کا انتخاب ’بینک‘ سے کیا جاتا ہے، چاہے وہ پرانے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ ایک بنیادی ڈھانچے کا مسئلہ ہے۔‘

فضائیہ کے انٹیلی جنس کے مذکورہ رکن نے بتایا کہ ’ایک منظم سطح پر اہداف کو بغیر دیکھے ہی بمباری سے نشانہ بنا دیا جاتا ہے کیونکہ وہاں کافی تعداد میں ڈرون دستیاب نہیں ہیں۔‘

’ماحول ایسا نہیں ہے کہ لوگ اہداف کی تصدیق کو سنجیدگی سے لیں۔ (اسرائیلی فوج میں) نظم و ضبط کی کمی ہے۔ یہ وہ قیمت ہے جو عام شہریوں کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔‘

فضائیہ کے ایک دوسرے رکن ’بی‘ نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ طویل کارروائیوں کے دوران یہ مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر لیتا ہے جیسا کہ 2014 میں ہوا جب اہداف نہ ہونے کے باوجود محض ’دھماکوں کا شور‘ پیدا کرنے کے لیے ’بم گرانے‘ کے احکامات دیے جاتے رہے۔

’بی‘ نے مزید کہا: ’اس بات پر بہت زیادہ توجہ دی جارہی تھی، میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ صرف دھماکوں کا شور پیدا کرنے کے لیے کیا جا رہا تھا۔ یہ وہ الفاظ تھے جن میں کہا جا رہا تھا کہ ’دھماکوں کا شور‘ پیدا کرو تاکہ دوسری طرف خوف کا احساس پیدا ہو۔ یہ احساس پیدا کرو کہ جنگ جاری ہے۔‘

ان الزامات کی تصدیق اسرائیلی تنظیم ’بریکنگ دا سائلنس‘ کی جانب سے جمع کی گئی دیگر شہادتوں سے بھی ہوتی ہے۔ یہ شہادتیں دی انڈپینڈنٹ کے حوالے کی گئی تھیں۔

اسرائیل کی وکالت کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس سے بین الاقوامی امیدوں کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں کہ اسرائیل جو دنیا کی ایک جدید ترین اور بہترین سامان حرب سے لیس فوجی طاقت ہے، غزہ میں ’جائز جنگ‘ میں مصروف ہے، جس کا مقصد ہلاکتوں کو کم سے کم کرنا ہے۔

اسرائیل کے سابق فوجیوں پر مشتمل رائٹ گروپ ’بریکنگ دا سائلنس‘ بنیادی ڈھانچے میں موجود مسائل کے بارے میں اس قدر فکرمند ہے کہ اس نے بیرونی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں مارے جانے والے زیادہ تر عام شہری ’پروٹوکول کے مطابق مارے گئے۔‘

’بریکنگ دا سائلنس‘ کے بانی یہودہ شاؤل کا کہنا ہے کہ ’عام فرد سوچتا ہے کہ ہمارے پاس درست ہتھیار موجود ہیں جو ٹیکنالوجی کی مدد سے درست انٹیلی جنس فراہم کرتے ہیں اور یہ سب ’جائز‘ ہے لیکن ان انکشافات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک مکمل غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں۔‘

’ہمیں یقین ہے کہ غزہ کا مسئلہ ایک منظم (حکمت عملی) ہے۔ یہ احکامات ہیں، یہ ایک فوجی، ایک واقعہ یا ایک اکائی کی بجائے آپریشن کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کا پورا ڈھانچہ ہے۔ ہم غزہ میں آئی ڈی ایف کی کارروائیوں اور پروٹوکول کے ضوابط کے بارے میں بیرونی اسرائیلی سویلین تحقیقات دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

اسرائیلی انسانی حقوق کے گروپ ’بتسلیم‘ کی ریسرچ ڈائریکٹر یایل سٹین نے کہا کہ اسرائیلی فوج کا صرف داخلی تحقیقات پر اصرار بیرونی تحقیقات سے بچنے کے لیے ’وائٹ واش میکانزم‘ کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہاں کبھی بھی حقیقی تحقیقات نہیں ہوتی ہیں، وہ کبھی بھی پالیسی پر تحقیقات نہیں کرتے۔ یہ اسرائیل کا ایک تصوراتی چہرہ بنانے کی کوشش ہے جس کے ذریعے وہ دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ بھر پور تحقیقات کرتے ہیں۔‘

یہ انکشافات اسرائیل پر غزہ میں اپنے طرز عمل کو تبدیل کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ، جس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی ممکنہ تحقیقات بھی شامل ہیں، کے دوران سامنے آئے ہیں۔

عسکریت پسند گروپ حماس کی جانب سے 2007 میں اس ساحلی پٹی پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد غزہ کو 13 سالہ اسرائیلی اور مصری ناکہ بندی کا سامنا ہے، جس سے یہاں زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔

اسرائیل اور کئی دوسرے ممالک حماس کو ایک دہشت گرد گروہ سمجھتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس گروہ کو اسلحے کی فراہمی سے روکنے کے لیے ناکہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔غزہ میں اسرائیلی فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان 2008 سے اب تک تین جنگیں ہو چکی ہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت کی اعلیٰ پراسیکیوٹر فتوؤ بینسودا نے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2014 کی جنگ کے آغاز سے ہی فلسطینی علاقوں میں ہر طرف سے ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کرانا چاہتی ہے۔

اسرائیلی فوج پر پہلے ہی اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ممکنہ جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا گیا ہے تاہم آئی ڈی ایف نے کسی بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتی۔

 حماس کو بھی اس کے طرز عمل کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور اقوام متحدہ کی جانب سے الزامات کا سامنا ہے جس میں اسرائیلی شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ بھی شامل ہے۔

جن اہم واقعات کی (عالمی اداروں میں) تحقیقات کی جاسکتی ہیں ان میں گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری جن میں حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد (پی آئی جے) کے مسلح ونگز نے جنوبی اسرائیل اور اسرائیلی فوج پر سینکڑوں راکٹ فائر کیے جبکہ پٹی کے اندر اسرائیل کی جانب سے ہزاروں بم گرائے گئے۔

’حملہ، حملہ، دھماکوں کا شور برپا کرو‘

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو )نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ نومبر میں پیش آنے والی آخری بڑی کشیدگی کے دوران کم از کم دو اسرائیلی فوجی کارروائیاں ایسی تھیں جن کو غیر قانونی قرار دیے جانے کا امکان ہے۔ ان حملوں میں 11 عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

14 نومبر کو کی گئی بمباری نے ایک پورے فلسطینی خاندان کا صفایا کردیا تھا، جس میں 14 سال سے کم عمر کے پانچ بچے بھی شامل تھے۔ ایچ آر ڈبلیو کے مطابق اسرائیلی فوج اپنے اس دعوے میں،کہ وہ اہداف کی نوعیت کا بغور جائزہ لیتی ہے، عام شہریوں کا پتہ چلاتی ہے اور یہ یقینی بناتی ہے کہ وہ صرف جنگجوؤں اور عسکری اہداف کو نشانہ بناتی ہے، جیسی قانونی ذمہ داری میں ناکام ہوگئی۔

بائیں بازو کے اسرائیلی روزنامے ’ہارٹیز‘ نے دفاعی عہدے داروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں، جس میں مجموعی طور پر نو افراد ہلاک ہوئے تھے، فوج نے ایک بار پھر فرسودہ انٹیلی جنس کا استعمال کیا تھا اور اس مقام پر عام شہریوں کی موجودگی کا پہلے سے پتہ چلانے میں ناکام رہی۔

ایچ آر ڈبلیو کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر فار کرائسس اینڈ کانفلیکٹ جیری سمپسن نے کہا کہ اسرائیلی حملوں اور حماس کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹ کے واقعات کی بین الاقوامی فوجداری عدالت میں تحقیقات کرانے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ اسرائیلی فوج نے ہارٹیز کے دعوؤں پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم اس نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ ایچ آر ڈبلیو کی رپورٹ ’حقیقت میں بے بنیاد، حقائق سے عاری اور متعصبانہ‘ ہے جس میں ’بے بنیاد قانونی نتائج‘ اخذ کر لیے گئے ہیں۔

رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے مطابق یہ اہداف غزہ کے وسطی اور  زرعی ضلع میں مقرر کیے گئے تھے جو دراصل دو بھائیوں 45 سالہ راسمی اور 40 سالہ محمد ابو ملہوس کے گھر تھے۔

14 نومبر کی نصب شب کو اس علاقے میں طیاروں سے تین بم گرائے گئے جہاں 20 افراد سو رہے تھے، ان کے گھروں کے پرخچے اڑ گئے۔ اس حملے میں نو افراد مارے گئے، جن میں راسمی اور محمد، ان کی بیویاں اور پانچ بچے شامل تھے۔ ہلاک ہونے والے سب سے چھوٹے بچے کی عمر صرف ایک سال تھی۔

اس خاندان کے باقی افراد نے بتایا کہ حملے میں ایک بالغ شخص اور نو بچے زخمی ہوئے تھے جن میں سے کچھ کا دی انڈپینڈنٹ نے انٹرویو بھی کیا تھا۔

مکان کا تھوڑا سا حصہ بچ گیا اور اس جگہ پر تین وسیع گڑھے پڑ گئے۔ یہ علاقہ کھلے زرعی رقبے سے جڑا ہوا ہے اور صرف چند سو میٹر کے فاصلے پر اقوام متحدہ کا وسیع و عریض کمپاؤنڈ ہے۔

اسرائیلی فوج کے عربی ترجمان نے پہلے دعویٰ کیا کہ اس حملےمیں فلسطینی اسلامی جہاد (پی آئی جے) کے کمانڈر کو کامیابی کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا جس کا نام راسمی ابو ملہوس ہے تاہم بعد میں فوج نے اس بیان کو واپس لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک فوجی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا ہے۔

اندرونی تحقیقات کے بعد فوج کا کہنا تھا کہ اس نے جھونپڑیوں کی غلط درجہ بندی کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس (کمپلیکس کو) ’کچھ عسکریت پسندوں کی سرگرمی والے‘ ایک سول کمپلیکس کے طور پر شناخت کیا جانا چاہیے تھا، لیکن فوج نے اس کی مزید معلومات نہیں دیں۔

تاہم فوج نے رواں ہفتے دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر پہلے بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ اس ہدف کی شناخت فلسطینی اسلامی جہاد کے فوجی کمپاؤنڈ کے طور پر کی گئی تھی جہاں عسکری سرگرمیاں جاری تھیں لیکن بیان میں سرگرمی کی وضاحت نہیں کی گئی۔

فوج نے بتایا کہ اس (ہدف) کو سب سے پہلے جون 2019 میں ’متعلقہ آئی ڈی ایف انٹلی جنس حکمت عملی‘ کے مطابق نشانے پر لیا گیا تھا۔ فوج نے دعویٰ کیا کہ اس حملے سے کچھ دن پہلے بھی (ہدف کی) متعدد بار جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

بیان میں کہا گیا: ’حملے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے دوران آئی ڈی ایف کو توقع تھی کہ اس حملے سے کسی عام شہری کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘

مزید کہا گیا: ’عملی طور پر، جیسا کہ بعد میں احساس ہوا، اگرچہ واقعتاً اس کمپاؤنڈ میں عسکری سرگرمیاں کی گئی تھیں لیکن اسے بند نہیں کیا گیا تھا اور اسے مکمل طور پر فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔۔۔بدقسمتی سے حملے کے دوران وہاں کچھ عام شہری بھی موجود تھے۔‘

اس حملے کے حوالے سے دی انڈپینڈنٹ کی اپنی تحقیقات، جن میں اس خاندان اور ہمسایوں کے انٹرویوز شامل ہیں، کے لیے اس مقام کا دورہ کیا گیا اور 2008 میں لی گئی اس علاقے کی سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد ایسے شواہد ملے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ہدف کے بارے میں عسکری سرگرمیوں کے دعوؤں میں سچائی نہیں ہے۔

دی انڈپینڈنٹ کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اس بمباری میں نہ صرف نو عام شہری ہلاک ہوئے تھے بلکہ غزہ کی ساحلی میونسپل واٹر یوٹیلیٹی کے مطابق اس سے قریبی پانی کا کنواں بھی تباہ ہو گیا جو ایک شہری تنصیب تھی جس نے اس حملے اور اس کی قانونی حیثیت سے متعلق مزید سوالات کو جنم دیا۔

زخمی بچوں سمیت خاندان کے چھ افراد (جنہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو انفرادی طور پر انٹرویوز دیے تھے) میں سے کسی نے بھی ان مبینہ پی آئی جے کمانڈر کی تصویر کی پہچان نہیں کی جس کی شناخت ابتدائی طور پر آئی ڈی ایف کے عربی ترجمان نے کی تھی۔

پڑوسی اور رشتے دار اپنے اس بیان پر قائم رہے کہ یہ خاندان کم سے کم 2007 کے بعد سے یہاں موجود تھا۔ اس مقام کی ایچ آر ڈبلیو کی جانب سے 2008 ، 2014 اور 2016 کی فراہم کردہ سیٹلائٹ تصاویر اور 2019 میں حملے کے فوری بعد کی تصاویر کا دی انڈپینڈنٹ نے تجزیہ کیا تو ان (ہمسایوں اور خاندان کے افراد) کے بیانات کی تصدیق ہوتی دکھائی دی۔

تصاویر میں زمین سے اوپر کچھ ایسا دکھائی نہیں دے رہا تھا جس سے یہ ثابت ہوتا کہ یہ عسکری کمپاؤنڈ ہے۔

رشتے داروں کا کہنا تھا کہ راسمی فلسطینی اتھارٹی میں ایک ریٹائرڈ پولیس آفیسر تھے اور محمد ایک چرواہے تھے، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس مقام پر کوئی عسکری سرگرمی نہیں ہو رہی تھی۔

حملے کے وقت برادری کے ایک فرد نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ ان بھائیوں میں سے ایک فلسطینی اسلامی جہاد کا ممبر ہوسکتا ہے۔ تاہم نہ ہی پی آئی جے اور نہ ہی اسرائیلی حکام نے عوامی طور پر ان بھائیوں میں سے کسی کو گروپ یا اس کے مسلح ونگ کے رکن کے طور پر شناخت کیا تھا۔ فلسطینی اسلامی جہاد باقاعدگی سے اپنے ہلاک شدگان کے ناموں کا اعلان کرتی ہے۔

بمباری کے مقام سے چند سو میٹر کے فاصلے پر رہنے والی راسمی کی 70 سالہ والدہ سلمیہ نے کہا: ’ اس کے باوجود کہ عمارت کے اندر بہت سے بچے موجود تھے، ہمیں کوئی انتباہ جاری نہیں گیا، کسی نے ہمیں اطلاع نہیں دی کہ اس جگہ کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ اچانک ہوا جس سے گھر اور زمین لرز رہی تھی۔‘

راسمی اور محمد کے کزن ہمدان ابو ملہوس کا کہنا تھا: ’یہ کوئی عسکری مقام ہے اور نہ ہی یہاں کوئی اسلحہ خانہ ہے۔ یہاں تک کہ ادھر آٹے کی دکان تک نہیں ہے۔ وہ کوئی جنگجو نہیں تھے۔ اگر یہ ہتھیاروں کا ذخیرہ ہوتا تو ہم مزید دھماکے سنتے یا ان کی کوئی علامات یا اثرات دیکھتے۔‘

ہمدان نے استفسار کیا کہ اگر اسرائیلی فوج نے حملے سے چند روز قبل بھی ہدف کی جانچ کی ہوتی تو کیا وہ یہاں مقیم بچوں کو نہ دیکھ پاتے؟

’اسرائیلیوں کے 2005 میں غزہ سے انخلا کے بعد سے پورا خاندان وہاں مقیم تھا، ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو پوشیدہ نہیں تھے۔ وہ بچے وہاں طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک علاقے کی گلیوں میں کھیل رہے ہوتے تھے۔‘

’اسرائیلی دن رات ڈرونز سے نگرانی کرتے ہیں۔ ان کے آلات اور ڈرونز اتنے جدید ہیں کہ وہ ایک چیونٹی تک کی تصویر اور شناخت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بچوں کو کیسے نہیں دیکھا؟‘

’ڈرونز کی تعداد ناکافی ہے ‘

اگرچہ دی انڈپینڈنٹ سے بات کرنے والے فضائیہ کے اہلکار اس مخصوص حملے میں ملوث نہیں تھے تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ (حملہ) ایک وسیع مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے اور مزید شواہد ہیں کہ بمباری جیسی کارروائیوں کے دوران پرانی یا نامکمل انٹیلی جنس کا استعمال ’منظم‘ عمل تھا۔

فضائیہ کے اہلکاروں نے اہداف کو منتخب کرنے اور اس کی تصدیق کرنے کے لیے ایک تفصیلی سرکاری طریقہ کار کی منظر کشی کی جو ’سنگین ساختی مسائل‘ کے باعث ناقص ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں آپریشن کرنا پیچیدہ عمل ہے جو ایک گنجان آبادی والا علاقہ ہے، جہاں اکثر بے قاعدہ تعمیرات ہوتی رہتی ہیں اور عسکری انفراسٹرکچر اکثر شہری آبادیوں کے قریب واقع ہوتے ہیں۔

اہلکاروں نے کہا کہ ہر قسم کے اہداف کے لیے پروٹوکول کے مطابق وقت مقرر کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر حماس کے ایک بڑے ٹھکانے کو لازمی طور پر ایک سال کے لیے جانچنا ضروری نہیں ہے کیونکہ اس میں تبدیلی کا امکان نہیں ہوتا۔

لیکن پروٹوکول کے مطابق غزہ حملے میں نشانہ بننے والی جھونپڑیوں جیسی عارضی عمارات کے لیے چند مہینوں بعد عام شہریوں کی موجودگی کی جانچ پڑتال کرنا لازمی ہونا چاہیے۔

اہداف کا انتخاب ایک ’فیکٹری‘ میں ہوتا ہے جبکہ بڑے اہداف کے لیے تل ابیب میں واقع اسرائیلی فوجی ہیڈ کوارٹر کِریا سے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔

فضائیہ اہلکار ’اے‘ نے بتایا کہ فوجی پروٹوکول کے مطابق محققین کو دو آزادانہ انٹیلی جنس کی ضرورت ہوتی ہے جو ممکنہ ہدف کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایک بار جب یہ ہدف سینیئر افسران کی جانب سے منظور کرلیا جائے تو اسے آپریشنل انٹیلی جنس کے حوالے کردیا جاتا ہے جہاں ہتھیاروں کے ماہرین سمیت ایک ٹیکٹیکل ٹیم حملے کی پیشگی منصوبہ بندی کرتی ہے۔ پائلٹوں کی مدد کے لیے عام طور پر تصویری پریزنٹیشنز کو ایک ساتھ جوڑا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک ایسا نظام بھی ہے جو خود کار طریقے سے نشانے پر لیے گئے اہداف کے قریب حساس عمارتوں جیسے ہسپتالوں اور مساجد کی نشاندہی کر دیتا ہے۔

منصوبہ بندی کے مرحلے میں یہ یونٹ ایسے وکیلوں (قانونی ماہرین) سے رابطے میں رہتا ہے جو حساس اہداف اور بین الاقوامی قانون کے مطابق عام شہریوں کے جانی نقصان کی قابل قبول تعداد کے حوالے سے قانونی مشورے فراہم کرتے ہیں۔

تاہم اہلکار ’اے‘ نے کہا کہ (قانونی ماہرین سے) پوچھ کچھ کا یہ عمل غلط راستہ ہے اور اسی وجہ سے ان کو زیادہ تر اہداف کو نشانہ بنانے کی کھلی چھٹی مل جاتی ہے۔ قانونی ماہرین بھی صرف اسی ٹیم سے پوچھیں گے کہ کیا وہ سوچتے ہیں کہ حملہ ’متوازن یا جائز‘ ہوگا جس کا جواب عام طور پر مثبت انداز میں دیا جاتا ہے۔ مسٔلہ یہ ہے کہ فوجی اس نتیجے پر کیسے پہنچ سکتے ہیں (کہ یہ جائز حملہ ہے)۔

اگر ہدف کے حوالے سے ان تمام مراحل سے گزر بھی لیا جائے تو یہ بینک میں موجود ہزاروں دوسرے اہداف سے جڑ جائے گا جو جنگ یا کشیدگی میں اضافے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ نظریاتی طور پر محققین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اہداف پر مستقل طور پر نظر رکھیں گے اور یہ جانچ کرتے رہیں گے کہ آیا ایسی کوئی نئی پیشرفت ہوئی ہے جو عام شہریوں کے لیے خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

تاہم عملی طور پر ایک بار جب اہداف کو بینک میں شامل کر لیا جائے تو شاید ہی وہ کبھی سسٹم سے ہٹ پائیں، چاہے زمین پر کوئی اہم تبدیلیاں رونما ہو جائیں یا اس کے لیے مقرر کی گئی اہم مدت گزر جائے۔ تحقیقاتی ٹیموں پر بھی نئے اہداف کی تلاش اور انعام کے حصول کے لیے دباؤ ہوتا ہے۔

اہلکار ’اے‘ نے کہا: ’اس کا مطلب یہ ہے کہ انٹیلی جنس کی سنجیدہ جانچ کے بغیر ہی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’وہ اس وقت تک جانچ نہیں کرتے جب تک کہ وہ ایک حساس ہدف (ٹارگٹ کلنگ جیسا ہدف) نہ ہو۔‘

اہلکار ’بی‘ نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر 2014 کی جنگ کے دوران فضائیہ کے زیادہ تر اہداف جن پر حملہ کیا گیا تھا ’جائز‘ نہیں تھے- اس کا مطلب ہے کہ فوج نے نشانے پر حملے سے پہلے عام شہریوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی تھی۔

’وہاں صلاحیت نہیں تھی۔ میں نہیں جانتا کہ آیا اس میں ان کی مرضی شامل تھی یا نہیں تاہم یقینی طور پر وہاں اس کی صلاحیت نہیں تھی۔۔۔ ہم نے ہر ہدف کو نہیں دیکھا۔‘

’بی‘ کا کہنا تھا کہ مسئلہ ڈرونز کی تعداد کا ہے۔ اسرائیل کے پاس بغیر پائلٹ کے بہت سے طیارے موجود ہیں جو کشیدگی اور عام صورت حال میں غزہ کی پٹی کے اندر اور  باہر منڈلاتے رہتے ہیں تاہم اہلکار ’بی‘ نے کہا کہ صرف فضائیہ ہی نہیں بلکہ اسرائیل کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے تمام ادارے انہیں استعمال کرتے ہیں اور اکثر یہ ڈرونز حملوں کے دوران دستیاب نہیں ہوتے۔

انہوں نے مزید کہا: ’ ان (ڈرونز) کی تعداد ناکافی ہے۔‘

بموں کی برسات

’بی‘ نے کہا کہ 2014 کی جنگ کی طرح شدید بمباری کے دوران یہ پریشانی مزید بڑھ جاتی ہے جب اہلکاروں کو ’بموں کی برسات‘ کا حکم دیا جاتا ہے۔

’بی‘ نے مزید کہا: ’غزہ کی پٹی ایک چھوٹی سی جگہ ہے اور اہداف کا یہ ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔‘

’یہ اتنی جلد بازی میں ہوا کہ ہم یہ جان بھی نہیں پا رہے تھے کہ حملہ کس پر کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ بات 2014 میں اس نہج تک جا پہنچی جب فضائیہ کے اندر موجود افراد نے خود سوال اٹھانا شروع کر دیے کہ ابھی بھی فوجی مہم کیوں جاری ہے۔

’ہر کوئی بات کر رہا تھا کہ ہم یہاں کیا کر رہے ہیں کیوں کہ ’بینک‘ ختم ہوچکا ہے۔‘

’اوپر سے یعنی آئی ڈی ایف کی کمانڈ سے موصول ہونے والے احکامات سے ہمیں یہ احساس ہو رہا تھا کہ ہمیں حملہ، حملہ اور محض دھماکوں کا شور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔‘

داخلی تحقیق محض ایک پردہ پوشی ہے

ان دونوں کا کہنا تھا کہ 2014 جیسے طویل آپریشنز کے دوران مختلف ’آپریشنل موڈ‘ موجود ہوتے ہیں جیسا کہ ہر ہدف میں کتنے شہری ہلاک یا زخمی ہوسکتے ہیں اور اس کے آس پاس کے انفراسٹرکچر اور عمارتوں کو کتنا نقصان پہنچانے کی اجازت ہے۔

اہلکار ’اے‘ نے کہا تاہم  یہ مراحل پورے آپریشن کی پردہ پوشی کے لیے محض بیان بازی ہے۔۔۔ یہ مخصوص علاقوں میں فوجیوں کے لیے اصل خطرے سے غیر متعلق بھی ہیں۔ اس کی بجائے غزہ میں ہر چیز کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے جس سے تناسب کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں۔

اہلکاروں نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ محسوس کریں کہ فلسطینیوں کی طرف سے راکٹ حملوں کی شدت ہے تو فوج ایک ایسے مرحلے میں آگے بڑھ سکتی ہے جس سے ان کو عام شہریوں کی زیادہ ہلاکتوں کی اجازت مل جاتی ہے لیکن یہ تب بھی ہوتا ہے جب وہ سمجھیں کہ فلسطینی حملے محض اسرائیل کی عزت نفس کو نقصان پہنچا رہے ہیں یا پھر اگر فوج کا خیال ہو کہ اس سے انہیں عالمی برادری کی اجازت مل سکتی ہے۔

’بریکنگ دا سائلنس‘ کے ذریعے جمع کی گئی اور دی انڈپینڈنٹ کے ساتھ شیئر کردہ متعدد دیگر شہادتوں سے اس بات کی تائید ہوتی ہے۔

بی ٹی ایس کے شاؤل کا ماننا ہے کہ اس پروٹوکول پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’فوج غزہ کے ایک حصے میں عام شہریوں کے جانی نقصان کو بڑھاتے ہوئے ایک ہائیر آپریشنل موڈ میں چلی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ پٹی کے دوسری جانب زیادہ لوگ مارے جائیں گے۔ کیا یہ جائز ہو گا؟‘

انہوں نے کہا یہی وجہ ہے کہ فوج کی اندرونی تحقیقات، جیسے کہ 14 نومبر کے حملے کی حالیہ تازہ ترین جائزہ رپورٹ بھی اصل میں ایک ’کور اَپ‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ اصل مسئلے سے ہماری توجہ ہٹا رہے ہیں جو اصل میں خود ان کے قواعد ہیں۔ آئی ڈی ایف کی تحقیقات میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر غور کیا گیا ہے اور میں کہہ رہا ہوں کہ اصول و ضوابط ہی اصل مسئلہ ہیں۔‘

اہلکار ’اے‘ نے کہا کہ نظریاتی طور پر، یہ کام کرنے کے لیے تفصیلی پروٹوکول موجود ہیں کہ حملے سے کتنے افراد کو زخمی یا ہلاک کیا جاسکتا ہے، بشمول ’مکمل طور پر سائنسی‘ شماریاتی ماڈلز کے، جو نقصان کا حساب لگاتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’لیکن یہ غزہ کے بے ترتیب منظرنامے پر لاگو نہیں ہوتا۔‘

اہلکاروں کا کہنا تھا: ’غزہ میں نقصانات کا درست اندازہ لگانے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔ کوئی بھی جائزہ ٹھیک نہیں ہے۔ غزہ کے لیے ریاضی کا کوئی ماڈل نہیں ہے، یہ کسی بھی ماڈل کے لیے بہت زیادہ پر ہجوم ہے۔‘

اہلکار ’اے‘ نے مزید کہا کہ چونکہ آپ کسی ایک عمارت پر بھی سنجیدہ انٹیلی جنس کے لیے کام نہیں کرسکتے تو پھر ہزاروں اہداف کے لیے تو یہ ناممکن ہے۔

اہلکار ’بی‘ نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں سے کسی ایک میں آپریشن کرنا مشکل کام ہے۔ خاص طور پر 2014 کی غزہ جنگ کے دوران شدید دباؤ کا سامنا کرنے والے کمانڈروں نے جنگ کو اس مرحلے میں داخل کر دیا جس سے عام شہریوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔‘

’بی‘ نے کہا: ’یہاں کوئی طریقہ نہیں ہے کہ آپ بہت سارے لوگوں کو مارے بغیر حملہ کر سکتے ہوں، ایسا کوئی راستہ نہیں، کبھی نہیں، آپ ایسا نہیں کرسکتے جب تک ہر ایک (شہری) کو وہاں سے نکال نہیں لیا جاتا۔‘

’آخر میں، غزہ کی پٹی ایک محدود علاقہ ہے۔ آبادی کو کسی نہ کسی طرح منتقل ہونا پڑے گا۔ وہ سب غائب نہیں ہوسکتے، تو کبھی کبھی آپ نرمی برت سکتے ہیں۔ یہ کمانڈر کا جذبہ ہے۔ وہ سیل کمانڈروں سے کہتے ہیں: دوستوں، سب سے زیادہ عام شہریوں کے جانی نقصان کی شرح آپ پر منحصر کرتی ہے، ٹھیک ہے۔‘

بتسلیم سے وابستہ سٹین نے کہا کہ پروٹوکول میں منظم خامیوں کی بجائے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ’فلسطینیوں کی زندگیوں کی ان کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘

’یہ سیاسی عزم کا معاملہ ہے۔ جب تک کہ وہ فلسطینیوں کی زندگیوں کو غیر اہم تصور کرتے رہیں گے جنہیں باآسانی ترک کیا جا سکے، مجھے نہیں لگتا کہ اس میں تبدیلی آئے گی۔‘

’14 نومبر کے حملے میں چھوٹے بچے مارے گئے تھے اور سبھی یہ کہہ رہے تھے کہ یہ قانونی ہے۔ آخر کون اس کی پرواہ کرتا ہے کہ بچے مارے گئے۔‘

غزہ میں نومبر کے حملے کے متاثرین کے لواحقین سامان کی خاطر تباہ حال گھروں سے راستہ تلاش کر رہے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر ہوا کیا ہے۔

جو بچے شدید زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ گئے تھے ان کے دادا دادی نے بتایا کہ وہ شدید صدمے میں مبتلا ہیں اور رات کو اچانک چیخیں مارتے ہوئے بیدار ہو جاتے ہیں۔

راسمی کے بیٹے، 20 سالہ عواد ابو مسمہ نے کہا: ’جب یہ پہلی بار ہوا تو ہم نے بچوں کو تباہ حال گھروں کے ملبے سے کھود کر باہر نکالا۔ وہاں کچھ باقی نہیں بچا، یہ ایسا ہی تھا جیسے زمین نے ان کو نگل لیا ہو۔‘

’انہوں نے دو خاندانوں، کچھ بکریوں اور کچھ جھونپڑیوں کو گرانے کے لیے تین بڑے بم کیوں استعمال کیے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کیوں؟‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا