مردوں کی طرح خواتین کی پی ایس ایل کیوں نہیں؟

پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں نے مردوں کی طرح ویمن پاکستان سپر لیگ کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں نے مردوں کی طرح ویمن پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا مطالبہ کیا ہے۔

ویمن کرکٹ ٹیم کی فاسٹ بولر نتالیہ پرویز، آف سپنر ام ہانی اور بلے باز کائنات حفیظ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے شکوہ کیا کہ خواتین کی سپر لیگ کیوں نہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا ہے کہ جس طرح پی سی بی مرد کھلاڑیوں کے لیے بہت کچھ کرتا ہے اسی طرح خواتین کرکٹ کی بحالی کے لیے بھی اقدامات ہونے چاہییں۔ ’ویمن پی ایس ایل سے نیا ٹیلنٹ ملنے کے علاوہ خود انہیں انٹرنیشنل کھلاڑیوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔‘

انہوں نے کہا شاید ویمن پی ایس اس لیے نہیں کیونکہ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کو بنے ابھی چند برس ہی ہوئے ہیں۔ ’ہم کھلاڑیوں کو جتنی کرکٹ ملے کم ہے، ویمن پی ایس ایل سے یہ فائدہ ہوگا کہ ہماری ٹی 20 کرکٹ آگے جائے گی۔‘

20 فروری سے شروع ہونے والی پی ایس ایل میں ان خواتین کھلاڑیوں کے اپنے اپنے پسندیدہ کھلاڑی اور ٹیمیں ہیں۔ 

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی نتالیہ پرویز کو لاہور شہر کے ساتھ ساتھ لاہور قلندرز بھی پسند ہے۔ اسی طرح ام ہانی کو ڈیرن سیمی کی وجہ سے پشاور زلمی جبکہ کائنات کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پسند ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ’سرفراز دھوکا نہیں دے گا۔‘

نتالیہ کے خیال میں اس مرتبہ لاہور قلندرز کو ٹائٹل جیتنا چاہیے کیونکہ وہ پہلے کبھی نہیں جیتی۔ ام ہانی کو لگتا ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم ٹائٹل جیت سکتی ہے جبکہ کائنات کا ماننا ہے کہ فائنل گلیڈی ایٹرز اور زلمی کے درمیان ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ