گلیڈی ایٹرز کا دیس اٹلی جہاں کرکٹ فٹ بال کی جگہ لے رہی ہے

اٹلی میں کرکٹ کا پہلا باب 1793 میں کھلا، جب برطانوی بحریہ کے ہیرو ایڈمرل ہوریشیو نیلسن نے نیپلز کی خلیج میں اپنے بیڑے کو لنگر انداز کیا۔

نو فروری 2026 کی اس تصویر میں اٹلی کے بلے باز بین مانینٹی اور ہیری مانینٹی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے دوران سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں رنز لینے کے دوڑ رہے ہیں(اے ایف پی)

انڈیا اور سری لنکا میں ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے مقابلے شروع ہو چکے ہیں، رواں ورلڈ کپ کی ایک خاص بات اس میں یورپی ملک اٹلی کی شرکت ہے۔

سال 2025 میں اٹلی نے یورپی کوالیفائرز میں سکاٹ لینڈ کو شکست دی اور 2026 آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا۔

یہ اٹلی کی تاریخ کا پہلا کرکٹ ورلڈ کپ ہے۔ گذشتہ سال اٹلی نے آئرلینڈ کو شکست دے کر کسی مکمل رکن ملک کے خلاف پہلی فتح بھی حاصل کی تھی۔  

رواں ٹی 20 ورلڈ کپ میں اٹلی کو پہلے میچ میں سکاٹ لینڈ سے تو شکست ہوئی، مگر اس میچ میں کارکردگی دلچسپ رہی۔ 

اطالوی قومی کرکٹ ٹیم جسے ازوری کہا جاتا ہے اس وقت ٹی 20 انٹرنیشنل رینکنگ میں 27ویں نمبر پر ہے۔

گلیڈی ایٹرز کی سرزمین جہاں اب کرکٹ مقبولیت حاصل کر رہی ہے

سلطنت روم کے تاریخی شہروں کے میدانوں اور کولوسیم کے سائے میں، جہاں کبھی گلیڈی ایٹرز لڑا کرتے تھے، آج ایک مختلف کھیل اپنی جگہ بنا رہا ہے۔

یہ فٹبال نہیں جو اٹلی کی شناخت ہے بلکہ کرکٹ ہے، ایک ایسا کھیل جس نے صدیوں کے نشیب و فراز کے بعد اٹلی میں دوبارہ جنم لیا ہے۔

اٹلی میں کرکٹ کا پہلا باب 1793 میں کھلا، جب برطانوی بحریہ کے ہیرو ایڈمرل ہوریشیو نیلسن نے نیپلز کی خلیج میں اپنے بیڑے کو لنگر انداز کیا۔

ملاحوں کو مصروف رکھنے کے لیے انہوں نے جہازوں کے عملے کے درمیان کرکٹ میچ کروایا، جو اٹلی میں کھیلا جانے والا پہلا کرکٹ میچ مانا جاتا ہے۔ یہ میچ آتش فشاں ویسوویئس کے بالکل سائے میں کھیلا گیا۔

انیسویں صدی کے آخر میں برطانوی تاجر، سفارت کار اور صنعت کار کرکٹ کو باقاعدہ شکل میں اٹلی لائے۔

سال 1893 میں جینوا کرکٹ اینڈ ایتھلیٹک کلب قائم ہوا، جہاں گرمیوں میں کرکٹ اور سردیوں میں فٹبال کھیلا جاتا تھا۔

معروف فٹ بال کلبز جو پہلے کرکٹ کلب تھے

 سال 1899 میں میلان کرکٹ اینڈ فٹبال کلب وجود میں آیا، جو بعد میں دنیا کا مشہور فٹبال کلب اے سی میلان بنا۔

حتیٰ کہ اے ایس روما کی جڑیں بھی سال 1927 کے ایک ایسے انضمام سے ملتی ہیں جس میں کرکٹ شامل تھی۔

یہ سفر 1920 اور 1930 کی دہائی میں رک گیا، جب آمر بینیتو مسولینی کی فاشسٹ حکومت نے کرکٹ کو ’غیر ملکی’ اور ’برطانوی’ کھیل قرار دے کر مکمل طور پر ممنوع قرار دیا۔

جس کے بعد اٹلی میں کلب بند کر دیے گئے، میدان ختم ہو گئے، اور دوسری عالمی جنگ کے اختتام تک کرکٹ تقریباً ناپید ہو گئی۔

سال 1945 کے بعد کرکٹ نے آہستہ آہستہ اٹلی میں واپسی شروع کی اور 1960 کی دہائی میں روم اس بحالی کا مرکز بنا۔

ولا دوریا پامفیلی میں برطانیہ اور آسٹریلیا کے سفارت خانوں، اقوامِ متحدہ اور کالج کی ٹیموں کے درمیان ’روم ایشیز‘  کھیلی جانے لگی۔ سال 1980 میں فرانسس الفونسس جیاراجہ، ماسیمو دا کوسٹا، ڈیزمنڈ اوگریڈی اور عیصام کہالے نے دوریا پامفیلی کرکٹ کلب قائم کیا۔

اسی سال اطالوی کرکٹ فیڈریشن وجود میں آئی، جسے1984 میں آئی سی سی سے الحاق اور 1995میں ایسوسی ایٹ رکنیت ملی، جبکہ 1997 میں سرکاری منظوری حاصل ہوئی۔ لیکن اٹلی میں کرکٹ کی اصل ترقی جنوبی ایشیا سے آنے والے تارکینِ وطن کے ساتھ ہوئی۔

انڈیا، پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے آنے والے افراد نے پارکوں اور خالی میدانوں میں کرکٹ کو زندہ رکھا۔ سال 2008  تک تقریباً 20 ہزار جنوبی ایشیائی کھلاڑی اٹلی میں باقاعدگی سے کھیل رہے تھے، اور 33 ٹیموں پر مشتمل لیگ قائم ہو چکی تھی۔

سال 2026 تک اٹلی میں چار ہزار مرد کھلاڑی، 80 خواتین کھلاڑی، دو ہزار جونیئر کھلاڑی اور تقریباً 100 کلب رجسٹرڈ ہیں۔ یہاں زیادہ تر میچز مصنوعی پچز پر کھیلے جاتے ہیں کیونکہ گھاس کے میدان نہ ہونے کے برابر ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹیم میں مقامی اور غیر ملکی نژاد کھلاڑی شامل ہیں، جن میں بین اور ان کے بھائی ہیری مانینٹی جیسے آسٹریلوی کھلاڑی اور فاسٹ بولر تھامس ڈراکا شامل ہیں، جن کی کوچنگ لیجنڈ ڈینس للی نے کی ہے۔

 ایسے ملک میں جہاں فٹبال ٹیم 2018 اور 2022 کے ورلڈ کپ سے باہر رہی اور2026 کے لیے پلے آف کھیل رہی ہے کرکٹ ایک نئی امید بن کر سامنے آئی ہے۔

2021 میں اطالوی ہیڈ کوچ بننے والے گیرتھ برگ کہتے ہیں:’فٹبال ہمیشہ بڑا کھیل رہے گا، لیکن کرکٹ اب اپنا راستہ خود بنا رہی ہے۔‘

برطانوی ایڈمرل نیلسن کے ملاحوں سے لے کر آج کے اطالوی کھلاڑیوں تک، اٹلی میں کرکٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ فٹبال کے دیس میں بھی ایک نظرانداز کھیل واپسی کر سکتا ہےاور اس بار یہ واپسی مستقل دکھائی دیتی ہے۔

پس نوشت: اس رپورٹ کی تیاری میں آئی سی، ای ایس پی این کرک انفو، دی گارڈین، ایس بی ایس سپورٹس آسٹریلیا، انڈین ایکسپریس، یاہو سپورٹس اور فلیش سکور جیسی کھیلوں کی خبریں رکھنے والی ویب سائٹس سے مدد لی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ