کرونا سے بچنا ہے تو چہرہ چھونا چھوڑ دیں

صحت کے اداروں نے ہدایت جاری کی ہے کہ کرونا وائرس سے بچنے کے لیے چہرہ چھونے کی عادت ترک کرنے کی ضرورت ہے، مگر یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا نظر آتا ہے۔

ہمیں ہر دو تین منٹ بعد چہرہ چھونے کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔ (پکسا بے)

ایک تحقیق کے مطابق انسان ہر گھنٹے میں 16 سے 23 بار اپنا چہرہ، ناک یا آنکھوں کو ضرور چھوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہی وہ طریقہ ہے جس سے کرونا وائرس کو جسم کے اندر جانے کا راستہ مل جاتا ہے، اس لیے کرونا وائرس سے بچنا ہے تو چہرہ چھونا بند کر دیجیے۔

ایک فرضی صورتِ حال کا تصور کیجیے۔ آپ نے کسی ایسے شخص سے ہاتھ ملایا جو کرونا وائرس سے متاثر ہے۔ وائرس آپ کے ہاتھ کی جلد پر آ گیا۔ چونکہ جلد کی مثال ایسے ہی ہے جیسے پرانے زمانے کے قلعے ہوا کرتے تھے۔ محاصرہ کرنے والا لشکر کتنا طاقتور کیوں نہ ہو، قلعے کے اندر نہیں گھس سکتا۔ اسی طرح وائرس چاہے جتنا موذی ہو، جلد کے اندر داخل نہیں ہو سکتا۔ 

صرف ایک ہی راستہ ہے، آپ وائرس سے آلودہ ہاتھ کو اپنے منہ یا ناک تک لے جائیں اور وائرس کو اپنے جسم کے اندر گھسنے کا موقع فراہم کر دیں۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے پرانے زمانے میں قلعہ دار دشمن سے رشوت لے کر قلعے کا دروازہ کھول دیتے تھے اور جارح لشکر شہر پر دھاوا بول دیتا تھا۔ فرق اتنا ہے کہ آپ رشوت لے کر نہیں بلکہ نادانستگی میں دشمن کی مدد کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیماریوں کی روک تھام کے امریکی ادارے سی ڈی سی کے مطابق کرونا وائرس سے بچنے کے دو آسان طریقے ہیں، صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں اور چہرے کو بار بار چھونے سے اجتناب برتیں۔  

ہاتھوں اور چہرے کی صحت کے بارے میں ایک تنظیم چلانے والے ڈاکٹر ولیم سائر کہتے ہیں: ’سی ڈی سی اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اب بھی مشورہ دیتے ہیں کہ آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ہدایت یہ ہونی چاہیے کہ انہیں ہرگز نہ چھوئیں۔ اگر آپ اپنے چہرے کے نم حصوں کو نہیں چھوئیں گے تو سانس کی بیماری پیدا کرنے والے کسی بھی وائرس سے بیمار ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔‘ 

سوال یہ ہے کہ ہم بار بار چہرہ کیوں چھوتے ہیں؟ اس کی وجہ عادت ہے۔ ہمیں بلاوجہ کھجلی ہونے لگتی ہے، یا ہم سوچتے ہوئے گال کھجانا ضروری سمجھتے ہیں یا پھر بغیر سوچے سمجھے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہیں، مونچھیں ہیں تو ان میں تاؤ دیتے ہیں، داڑھی ہے تو انگلیوں سے خلال کرنے لگتے ہیں۔ مزید یہ کہ جب ہم نروس ہوتے ہیں تب بھی ہمیں بار بار چہرے پر ہاتھ پھیرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

لیکن اس عادت سے چھٹکارا کیسے حاصل کریں؟

میں نے جب مذکورہ وجوہات کی بنا پر چہرہ چھونے کی عادت ترک کرنے کی کوشش کی تو انسانی نفسیات کا عجیب و غریب تماشا شروع ہو گیا۔ جب بھی میں تہیہ کرتا کہ اب چہرے کو نہیں چھونا، تو ناک، یا گال، یا ماتھے پر ایسی شدید کھجلی شروع ہو جاتی کہ اسے کھجائے بغیر چارہ نہ رہتا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ایک گھنٹے میں 20 تو کیا، شاید مجھے 60 مرتبہ چہرے کو چھونے کی ضرورت پیش آنے لگی۔ ایسا لگتا تھا جیسے میرے چہرے میں کوئی طاقتور مقناطیس لگا ہے جو بار بار میرے ہاتھوں کو اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے۔ یا پھر جیسے میرا چہرہ شمع ہے جس کی طرف ہاتھوں کے پروانے بار بار لپکنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ جانتے بوجھتے کہ اس کا انجام بخیر نہ ہو گا۔ 

اس پر شاید آپ کو ہالی وڈ کی مشہور کامیڈی فلم ’ڈاکٹر سٹرینج لوو‘ یاد آ جائے۔ عالمی سینیما کی اس ماسٹرپیس فلم میں پیٹر سیلرز کے ادا کردہ ایک کردار کا ایک ہاتھ اس کے قابو سے باہر ہو جاتا ہے، اور اس کی مرضی کے بغیر حرکت کرنے لگتا ہے (چاہیں تو اسے ’میرا ہاتھ، میری مرضی‘ کہہ لیں)۔ نوبت یہاں تک جا پہنچتی ہے کہ یہ بےمہار ہاتھ اس کا گلہ دبانے پر تل جاتا ہے، اور وہ بڑی مشکل سے دوسرے ہاتھ کی مدد سے اسے روکتا ہے اور دونوں ہاتھ آپس میں گتھم گتھا ہو جاتے ہیں۔ آپ بھی یہ سین دیکھیے۔ 

میرے لیے اپنے ہاتھوں کا یہ ’آوارہ پن‘ چشم کشا تھا، البتہ جب ٹوئٹر کا رخ کیا تو یہ جان کر مسرت ہوئی کہ میں اس انجمن میں تنہا نہیں ہوں اور یہاں میرے رازداں بہت ہیں:

 

ٹوئٹر پر لوگ کہہ رہے ہیں کہ چہرہ چھونا ایک ایسا نشہ ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی صحت