خیبر پختونخوا: بارشوں سے 14 بچوں سمیت 17 افراد ہلاک

پی ڈی ایم کے ترجمان  تیمور علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مردان میں چھت گرنے کی وجہ سے دو خواتین اور چار بچے ہلاک جب کہ پشاور میں کمرے کی چھت گرنے سے دو بچے ہلاک ہوگئے۔

پی ڈی ایم کی جانب سے جاری شدہ اعدادوشمار کے مطابق ہلاکتیں صوبے کے مختلف اضلاع میں گھروں کی چھتیں گرنے کی وجہ سے ہوئیں جن میں 14 بچے اور تین خواتین شامل ہیں۔(ٹوئٹر)

صوبائی ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق خیبر پختونخوا میں جاری حالیہ بارشوں کی وجہ سے مختلف حادثات میں 14 بچوں سمیت 17 افراد ہلاک جب کہ 37 زخمی ہوگئے۔

پی ڈی ایم کی جانب سے جاری شدہ اعدادوشمار کے مطابق ہلاکتیں صوبے کے مختلف اضلاع میں گھروں کی چھتیں گرنے کی وجہ سے ہوئیں جن میں 14 بچے اور تین خواتین شامل ہیں۔

پی ڈی ایم کے مطابق زخمیوں میں بھی زیادہ تعداد 27 بچوں کی ہے جب کہ پانچ خواتین اور پانچ مرد شامل ہیں۔

پی ڈی ایم کے ترجمان  تیمور علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مردان میں چھت گرنے کی وجہ سے دو خواتین اور چار بچے ہلاک جب کہ پشاور میں کمرے کی چھت گرنے سے دو بچے ہلاک ہوگئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تیمور علی کے مطابق پشاور میں دو، نوشہرہ میں دو اور مردان میں بھی دو بچے بارش کے باعث الگ الگ علاقوں میں چھت گرنے کے واقعات کے باعث ہلاک ہو گئے۔ بونیر میں بھی چھت گرنے سے ایک بچہ ہلاک جب کہ سوات میں بھی اسی طرح کے واقعات میں تین بچے اور ایک خاتون ہلاک ہو گئیں۔ ’بارشوں کی وجہ سے صوبے بھر میں دو مکانات کو مکمل جب کہ 47 کو جزوی نقصان پہنچا۔‘

پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے متاثرہ خاندانوں میں ٹینٹ، چٹائیاں اور دیگر امدادی سامان تقسیم کیا گیا ہے جب کہ صوبے بھر میں ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ متاثرین کی بروقت امداد  کی جا سکے۔

صوبے میں حالیہ بارشوں کا سلسہ چار مارچ سے شروع ہوا ہے اور محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی علاقوں سمیت صوبہ بھر میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

تیمور علی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اے کا کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال ہوتا ہے اور کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ہیلپ لائن 1700 پر کی جا سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان