ایران کرونا وائرس سے کیسے لڑ رہا ہے؟

منگل کو 135 نئی ہلاکتوں کے بعد ایران میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار تک جاپہنچی ہے۔

ایران میں منگل کو 135 نئی ہلاکتوں کے بعد کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار تک جاپہنچی ہے جبکہ حکومت نے نئے سال کے سلسلے میں جشن آتش جسے مقامی زبان میں ’چہارشنبہ سوری‘ کہا جاتا ہے، پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

یہ جشن ہر سال نوروز سے قبل آخری بدھ کی شام کو منایا جاتا ہے جس میں ایرانی روایتی طور آگ جلا کر اور آتش بازی کرکے خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ 
خبر رساں ادارے  اے ایف پی کے مطابق تہران کے پولیس چیف جنرل حسین رحیمی نے ایک بیان میں کہا: ’چہارشنبہ سوری کے موقع پر ہر قسم کے اجتماع پر پابندی ہے اور پولیس جشن منانے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔‘

تہران پولیس نے لوگوں سے تہوار کے موقع پر گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے۔

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کرونا وائرس نے ایشیا میں سب سے زیادہ ایران کو متاثر کیا ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ یورپ میں اس وائرس نے سب سے زیادہ اٹلی کو متاثر کیا ہے۔

ایران کے شہر قُم میں گذشتہ ماہ کرونا وائرس سے پہلی دو ہلاکتوں کے بعد ایران نے سنجیدگی سے اقدامات شروع کیے، اگرچہ ابھی تک وہاں لاک ڈاؤن نہیں لگایا گیا تاہم یہ وائرس ملک کے تمام 31 صوبوں میں پھیل چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی وزارت صحت کے ترجمان قیانوش جہان پور نے منگل کو بتایا کہ ’56 سے زیادہ لیبارٹریوں کی رپورٹس کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے ایک ہزار 178 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 16 ہزار 169 تک پہنچ گئی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ  وائرس سے متاثرہ پانچ ہزار 389 افراد صحت یابی کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب فورس (آئی آر جی سی) نے ساحلی شہر بندر عباس میں ایک 54 بستروں پر مشتمل فیلڈ ہسپتال بھی قائم کردیا ہے۔

تاہم اس کاوش کو آٹے میں نمک کے برابر قرار دیا جارہا ہے کیونکہ ملک میں روزانہ کی بنیاد پر کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے شہریوں کو گھروں میں محدود رہنے کی ہدایت کی ہدایت کے ساتھ کہا جارہا ہے کہ اگر کسی میں وائرس کی علامات پائی جائیں تو فوری طور پر وزارت صحت کی ویب سائٹ پر رپورٹ کریں۔

وزارت کی ویب سائٹ پر شہریوں کو ان کے شناختی کارڈ نمبر کی مدد سے شناخت کیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ انہیں کھانسی یا بخار تو نہیں۔

یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ کہیں وہ وائرس سے متاثرہ مشتبہ شخص، کسی زیر علاج شخص یا حال ہی میں صحت یاب ہونے والے شخص کے ساتھ رابطے میں تو نہیں ہیں۔

اگر علامات سنجیدہ نہ ہوں تو شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ گھر پر ہی رہیں جبکہ یہ ویب سائٹ لوگوں کو یہ بھی بتاتی ہے کہ ان کے قریب کون سا طبی مرکز موجود ہے۔

ایرانی وزارت صحت کے مطابق متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے ٹیسٹس کیے گئے ہیں۔

مزید کہا گیا کہ بہت سے مریضوں میں وائرس سے انفیکشن کے کئی دن بعد علامات ظاہر ہوئیں۔

اس سے قبل پیر کو ایران میں چار مقدس مقامات میں بھی لوگوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھی، جس پر لوگوں کی جانب سے احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔

علاوہ ازیں ملک میں تعلیمی ادارے بھی بند کیے جاچکے ہیں جبکہ نمازی جمعہ کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کی جاچکی ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے تہران میں واقع اینٹی کرونا وائرس ہیڈکوارٹر سے ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سفر سے گریز کریں۔

امریکی پابندیوں اور محدود وسائل کے بغیر تمام سرکاری محکمے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور نیم فوجی ملیشیا بسیج کے اراکین تہران میں کرونا وائرس سے بچنے کا سامان مفت تقسیم کر رہے ہیں۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی امدادی سامان سے بھرے کارگو جہاز بھی ایران بھیجے جارہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا