سوشل میڈیا پر بدتمیزی اور قومی حکومت

تمام پارٹیوں میں بدتہذیب لوگ موجود ہیں لیکن بظاہر پی ٹی آئی اس کام میں سب سے آگے ہے۔ اس بات کے شواہد موجود ہوں کہ پارٹی رہنما ایسے لوگوں کو نہ صرف شہہ دیتے ہیں بلکہ ان کو تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔

کیا کسی بھی سیاسی پارٹی کے کارکنوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مخالفین کو سماجی میڈیا کی ویب سائٹ پر گالیاں یا دھمکیاں دیں؟ (اے ایف پی)

پچھلے چند دنوں سے ایک مرتبہ پھر پاکستان مسلم لیگ ن کے اہم رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قومی حکومت ہی موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد حل ہے۔

میں اس تجویز سے اختلاف کرتا ہوں جس کی بہت سی سیاسی وجوہات ہیں لیکن اس پیغام میں اس کے صرف ایک پہلو پر بات کروں گا۔

میں حزب اختلاف کا حصہ ہوں اور حکومت کی پالیسیوں پر نظر رکھتا ہوں اور تنقید بھی کرتا ہوں لیکن صرف تنقید ہی نہیں کرتا بلکہ اہم معاملات پر تجاویز بھی قوم کے سامنے رکھ چکا ہوں۔ ان پر عمل کرنا یا نہ کرنا حکومت کی صوابدید پر ہے۔

جب بھی میں حکومتی پارٹی پر تنقید کرتا ہوں تو یہ عمومی بات ہے کہ ان کے حامی اس پر غصے کا اظہار کریں یا اس کا جواب دیں جس کے لیے میں ہمیشہ تیار رہتا ہوں۔ مگر کیا کسی بھی سیاسی پارٹی کے کارکنوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مخالفین کو سماجی میڈیا کی ویب سائٹ پر گالیاں یا دھمکیاں دیں؟

کیا اس بات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے جب اس بات کے شواہد موجود ہوں کہ پارٹی رہنما ایسے لوگوں کو نہ صرف شہہ دیتے ہیں بلکہ ان کو تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔ تمام پارٹیوں میں ایسے بدتہذیب لوگ موجود ہیں لیکن بظاہر پی ٹی آئی اس کام میں سب سے آگے ہے۔ چونکہ میں پارٹی کا رکن رہا ہوں اس لیے میرے سماجی میڈیا کے حمایتی بھی زیادہ تر اسی پارٹی کے ہیں۔

جب بھی میں نے عمران خان کی پالیسیوں سے اختلاف کیا تو سوشل میڈیا پر پارٹی کے ان چند ارکان کی گالیوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے آج تک ان بدتہذیب لوگوں میں سے نہ کسی کو بلاک کیا اور نہ ہی ان کے کمنٹس حذف کیے اس لیے کہ یہ لوگ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور ہمیں یہ چہرہ بھی دیکھنا چاہیے۔

یہ میرا نہیں بلکہ پارٹی لیڈروں کا کام ہے کہ اس طرح کے لوگوں کو سزا دیں۔ جہاں تک ایف آئی اے سائبر کرائم کا تعلق ہے تو باقی اداروں کی طرح یہ بھی عوام کے لیے نہیں بلکہ حکمرانوں کے کام کرتے ہیں اور میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ ان پر وقت ضائع کروں اور انہیں درخواست دوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مجھے معلوم ہے خان صاحب ان کی پشت پناہی کرتے ہیں تو کسی بھی سیاسی مذاکرات کے لیے میں ان کے ساتھ میز پر بیٹھنے کو تیار نہیں ہوں۔ ہاں ان کی پارٹی کے دوسرے لوگوں سے بات چیت ضرور ہو سکتی ہے۔

اس تمہید کا قومی حکومت کی حمایت نہ کرنے سے گہرا تعلق ہے۔ جو سیاست دان اپنی عزت نفس کھو دے اور اس بات کو برداشت کرے کہ اس کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ہو مگر سیاسی مفاد کے لیے زیادتی کرنے والوں سے ہاتھ ملا لے وہ اس ملک اور اس کے عوام کے کسی کام نہیں آ سکتا۔

بے نظیر بھٹو نے ضیا الحق کو اپنے باپ کا قاتل کہا اور پھر انہی سے سیاسی مذاکرات کیے۔ آصف زرداری نے جن کو قاتل لیگ کہا انہی کو اپنی حکومت میں شامل کیا۔ نواز شریف جن کو خلائی مخلوق اور بہت کچھ کہتے رہے انہی کے سامنے سجدہ ریز بھی ہو گئے۔

سیاست دانوں کو یا تو اس طرح کے الزامات نہیں لگانے چاہییں اس لیے کہ وہ پوری سیاست  کو بدنام کرتے ہیں اور اگر ایسا کرتے ہیں تو انہی سے ہاتھ نہ ملائیں۔ جن ملکوں میں سیاست دان ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں وہی ملک دنیا میں سب سے پیچھے ہیں۔

عمران خان اور ان کے حمایتیوں نے میرے ساتھ تو صرف زبانی زیادتی کی ہے لیکن دوسری پارٹی کے سیاست دانوں کے ساتھ تو باقاعدہ ناانصافیاں کی ہیں۔ کیا وہ تمام لوگ جو ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کی حد تک اختلاف رکھتے ہوں اور بدزبانی کرتے ہوں کیا وہ ایک قومی حکومت میں مل کر کام کرسکتے ہیں؟ میں اگر ایک میز پر بیٹھنے کو تیار نہیں ہوں تو کیا دوسروں کو یہ مشورہ دے سکتا ہوں کہ خان صاحب کے ساتھ قومی حکومت بنائیں۔

سیاست دانوں کو اس بات پر سوچنا ہوگا کہ وہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر کسی کی خدمت نہیں کر رہے بلکہ اس ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ جج، جنرل اور صحافی ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن سیاست دان ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ملک مسلسل زوال کی طرف جا رہا ہے۔

اس صورت حال میں قومی حکومت مسئلہ کا حل نہیں بلکہ ایک قومی سیاسی مذاکرات کی ضرورت ہے جس میں سیاست دان ایک دوسرے کی عزت کا عہد کریں اور تمام مسائل کا جائزہ لینے کے علاوہ ان سے نمٹنے کے لیے حل تلاش کریں۔ انہی مذاکرات میں اگر یہ طے ہو کہ ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے تو یقیناً یہ بنائی جا سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ