کوڑے مارنے کی سزا کے خاتمے پر سعودی شہری خوش

ایک سعودی شہری نے سوشل میڈیا پر لکھا: 'ہماری عدالتی لغت سے اس سزا کو خارج کرنا تاریخی لمحہ ہے۔ جج کے پاس اس سزا کی بجائے اور بھی بہت سی متبادل سزائیں موجود ہیں۔'

سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے کوڑے مارنے کی سزا کو ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا (اے ایف پی)

انسانی حقوق کے عہدیداروں، وکلا اور سعودی شہریوں نے کوڑے مارے جانے کی عدالتی سزا کے خاتمے کو خوش آئندہ قرار دیا ہے۔

گذشتہ روز سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے کوڑے مارنے کی سزا کو ختم کرنے کا حکم جاری کیا تھا، جس کے مطابق ملک میں مستقبل میں کوڑے مارنے کی بجائے جرمانے یا قید کی سزائیں دی جائیں گی۔

سعودی انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی) نے عدالتی فیصلے کے بعد اپنے بیان میں کہا: 'ایچ آر سی سزا کے طور پر کوڑے مارنے کے خاتمے کے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے۔'

مزید کہا گیا: 'یہ قابل ذکر اصلاحات شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی براہ راست نگرانی میں نافذ کی گئیں۔'

ایچ آر سی کے صدر ڈاکٹر عواد بن صالح العواد نے کہا: 'یہ اصلاحات سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ایجنڈے میں ایک اہم قدم ہے اور پچھلے پانچ سالوں میں ریاست میں نافذ کی گئی انسانی حقوق کی 70 سے زیادہ اصلاحات میں سے صرف ایک ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ عدالتی نظام کو شاہی قیادت کی بڑی حمایت حاصل ہے۔

شورہ کونسل کے رکن ڈاکٹر ابراہیم النہاس نے عرب نیوز کو بتایا کہ اس تبدیلی سے ریاست میں اصلاحات کی عکاسی ہوتی ہے۔ 'یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو سعودی اداروں کی عظیم حکمت کی نمائندگی کرتا ہے اور مملکت سعودی عرب کے روشن مستقبل کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔'

ایک وکیل عبدالرحمٰن الاہیم نے عرب نیوز کو بتایا: 'یہ ریاست کے عدالتی نظام میں ایک اہم اور تاریخی فیصلہ ہے۔'

سوشل میڈیا پر موجود سعودی شہریوں نے بھی اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ایک صارف منیف المعنیف نے کہا: 'سعودی عرب جیسی ریاست کے لیے کوڑے مارنا ایک نامناسب سزا ہے۔ میرے خیال میں ہماری عدالتی لغت سے اس سزا کو خارج  کرنا تاریخی لمحہ ہے۔ جج کے پاس اس سزا کی بجائے اور بھی بہت سی متبادل سزائیں موجود ہیں۔'

ایک اور صارف  اے ترکی نے کہا: 'کسی انسان کی عزت و وقار کو محفوظ رکھنا چاہیے، چاہے وہ کوئی غلطی ہی کیوں نہ کرے۔ اسے اس انداز میں سزا دی جانی چاہیے جو اس کی انسانیت کو محفوظ رکھے جبکہ لوگوں کے سامنے کھلے عام کوڑے مارنے سے اس کی انسانیت کا قتل ہوجاتا ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا