شمالی کوریا کے لیڈر کی ٹرین تو نظر آگئی، خود کہاں ہیں؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں ٹرین کی موجودگی سے کچھ ثابت نہیں ہوتا کہ کِم جونگ ان کہاں ہیں اور نہ ہی ان کی صحت کے حوالے سے کوئی اشارہ ملتا ہے۔

15 اپریل کو شمالی کوریا کے بانی اور کم جونگ ان کے دادا کم اِل سنگ کی سالگرہ منائی گئی تھی، لیکن کِم اس تقریبات میں نظر نہیں آئے جس کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

ایک ایسے وقت میں جب شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کِم جونگ ان کی صحت کے حوالے سے افواہیں گردش میں ہیں، ملک کے مشرق میں سرکاری تفریح گاہ کے پاس ایک ریل گاڑی دیکھی گئی ہے جس کے بارے میں امکان ہے وہ کِم کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سیٹلائیٹ کے ذریعے لی گئی تصاویر کا جائزہ ایک امریکی تھنک ٹینک نے لیا ہے۔ ممتاز ویب سائیٹ 38 نارتھ نے ہفتے کو ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 21 اور 23 اپریل کو شمالی کوریا میں وُن سن کے علاقے میں ایک ٹرین اس ریلوے سٹیشن پر کھڑی کی گئی جو کِم کے خاندان کے لیے مخصوص ہے۔

تاہم 38 نارتھ نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ٹرین کی موجودگی سے کچھ ثابت نہیں ہوتا کہ کِم جونگ ان کہاں ہیں اور نہ ہی ان کی صحت کے حوالے سے کوئی اشارہ ملتا ہے، لیکن ان اطلاعات کو تقویت ضرور ملتی ہے کہ کِم ملک کے مشرقی ساحل پر ملکی حکمرانوں کے لیے مخصوص علاقے میں موجود ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

15 اپریل کو شمالی کوریا کے بانی اور کم جونگ ان کے دادا کم اِل سنگ کی سالگرہ منائی گئی تھی، لیکن کِم اس تقریبات میں نظر نہیں آئے جس کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ شمالی کوریا کے کلینڈر میں ملک کے بانی کی سالگرہ کے دن کو بےحد اہمیت حاصل ہے اور یہ دن قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ 'شمالی کورین نیوز ایجنسی' (کے سی این اے) کے مطابق کِم نے 11 اپریل کو حکمران ورکرز پارٹی کے پولِٹ بیورو کے ایک اجلاس کی صدارت کی اور لڑاکا طیاروں کی مشق دیکھی تھی۔

ان دو تقریبات کے بعد وہ دکھائی نہیں دیے۔ حکومت مخالف آن لائن میڈیا ادارے 'ڈیلی این کے' کے مطابق اس ماہ کے شروع میں کِم جونگ ان کے دل کا آپریشن ہوا تھا اور اب وہ شمالی صوبے پیونگن میں روبصحت ہیں۔

ویب سائیٹ کے مطابق 30 برس سے زیادہ عمر کے کِم جونگ ان کو بے تحاشا تمباکو نوشی، موٹاپے اور تھکاوٹ کی وجہ سے دل کے علاج کی ضرورت پیش آئی۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر کم جونگ کے حوالے سے ایک ٹریںڈ ٹاپ پر ہے، جہاں لوگ مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کم جونگ ان کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ 2014 میں بھی وہ ایک مہینے کے لیے منظر عام سے غائب ہو گئے تھے اور واپس پر انہیں ایک چھڑی کے سہارے چلتے دیکھا گیا تھا۔ شمالی کوریا کی جاسوس ایجنسی کے مطابق انہوں نے اپنے پیر کی سرجری کروائی تھی۔

کم جونگ ان کی علالت کی اطلاعات کے ساتھ ہی ان کی ممکنہ جانشینی کے حوالے سے بھی قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ اگر کِم جونگ ان کچھ عرصے کے لیے فرائض کی ادائیگی سے قاصر رہے تو ان کی بہن  کِم یوجونگ ان کی جگہ ذمہ داریاں سنبھال لیں گی۔ نہ صرف یہ کہ کِم یو جونگ کا تعلق کِم خاندان سے ہے بلکہ وہ بھائی کے بعد اہم رہنما کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

یوجونگ کو حال ہی میں پولِٹ بیورو میں بحال کیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات میں بہتری کی حامی ہیں اور انہوں نے ہی اپنے بھائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات پر راضی کیا تھا لیکن ملاقات کا کوئی فائدہ نہ ہونے کی وجہ سے کِم جونگ ان ان سے مطمئن نہیں تھے، جس کے بعد ان کا ستارہ گردش میں آ گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا