سندھ کے شہر جیکب آباد سے تعلق رکھنے والی پچیس سالہ خاتون ڈاکٹر سنم کماری اور ان کے خاندان کے نو افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
کرونا وائرس سے متاثر ہونے والی ڈاکٹر جیکب آباد سول ہسپتال کے میڈیسن وارد کی او پی ڈی میں ڈاکٹر کے فرائض انجام دیتی ہیں۔
جمعے کو ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ ہوا جس کا نتیجہ ہفتے کے روز مثبت آیا۔
خاتون ڈاکٹر میں کرونا وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد ہفتے کے روز ہی ان کے تمام گھر والوں کا بھی کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا۔
تاہم پیر کی شب یہ بات سامنے آئی کہ متاثرہ ڈاکٹر کے خاندان کے نو افراد کو بھی کرونا وائرس ہے۔
ان کے خاندان کے وہ افراد جن میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ان میں ان کے 64 سالہ والد، ان کی 58 سالہ والدہ، ایک بہن، دو بھائی اور دو کزن شامل ہیں۔
ان افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد سے جیکب آباد کے علاقے شاہ غازی کو سیل کردیا گیا ہے۔
متاثرہ ڈاکٹر اس وقت اپنی فیملی کے ہمراہ اپنے گھر میں آئی سولیشن میں ہیں۔
جیکب آباد سول ہسپتال میں ایک اور ڈاکٹرمیں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
اڑتالیس سالہ ڈاکٹر میڈیسن وارد کی او پی ڈی میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور اس وقت اپنے گھر پر ائیسولیشن میں ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہسپتال کی صورتِ حال کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے سول ہسپتال کے ڈاکٹر حسن رضا کا کہنا تھا کہ ’سول ہسپتال جیکب آباد میں اب تک ان دو ڈاکٹرز کے علاوہ کسی بھی ڈاکٹر کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ نہیں ہوا ہے۔ اگر ان دو ڈاکٹرز کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں تو یہ ممکن ہے کہ باقی اور کئی ڈاکٹرز، ہسپتال کے عملے اور ان کے گھر والوں کو بھی کرونا وائرس ہو۔ لیکن جب تک تمام ڈاکٹرز کے ٹیسٹ نہیں ہوں گے تب تک اس حوالے سے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جن ڈاکٹرز کا کرونا کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے وہ اپنے گھروں میں آئیسولین پر مجبور ہیں کیوں کہ جیکب آباد میں نہ کوئی قرنطینہ سینٹر ہے اور نہ ہی ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کے لیے کوئی وارڈ مختص کیا گیا ہے۔‘
’حکومت سندھ تو کہتی ہے کہ پورے سندھ میں ہر سہولت موجود ہے لیکن کراچی سکھر اور حیدرآباد کے چند ہسپتالوں کے علاوہ حکومت نے کرونا وائرس کے لیے کوئی تیاری نہیں کی ہے۔‘
ڈاکٹر حسن رضا نے جیکب آباد کے تمام ڈاکٹرز کی جانب سے حکومت سے گزارش کی ہے کہ جلد از جلد جیکب آباد کے سول ہسپتال، جے آئی ایم ایس اور پی پی ایچ آئی ہسپتال میں تمام ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کروائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی او پی ڈی ایز اور ایمرجنسی ورارڈز میں روزانہ کی بنیاد پر جراثیم کش سپرے کروائے جائیں۔
حال ہی میں محکمہ صحت سندھ کی جانب سے ایک رپورٹ سامنے آئی جس کے مطابق سندھ کے 72 ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق ان افراد کے رابطے میں آنے والے لوگوں کی تعداد 331 ہے جو پازیٹو آنے والے ہیلتھ ورکرز کی تعداد سے بھی دگنی ہے۔
محمکہ صحت سندھ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر ان ہیلتھ ورکرز کے گھر والوں کے ٹیسٹس کیے جا رہے ہیں۔
البتہ سندھ میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسیشن کے چئیرمین ڈاکٹر عمر سلطان کے مطابق ہیلتھ ورکرز میں پازیٹوز آنے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں ذیادہ ہے۔
اگر ڈاکٹرز کے روزانہ کی بنیاد پر ٹسیٹ نہیں ہوں گے تو ان سے انہیں اور ان کے گھر والوں دونوں کو خطرہ ہے۔