عرفان خان: ’وہ مسکرانے کی وجہ دے کر چلے گئے‘

بالی وڈ کے معروف اداکار عرفان خان کے چل بسنے کے بعد ان کے ساتھ کام کرنے والی پاکستانی شخصیات غم زدہ ہیں۔

مارچ 2014 میں عرفان خان نے ایشیئن فلم ایوارڈز میں بہترین اداکار کا ایوارڈ جیتا (اے ایف پی فائل)

بالی وڈ کے عظیم اداکار عرفان خان پاکستان میں بھی انتہائی مقبول تھے اور ان کے انتقال کی خبر نے پاکستانی شوبز صنعت سے وابستہ افراد کو بھی غمزدہ کر دیا ہے۔

ایسے میں جن پاکستانی فنکاروں کو عرفان خان کے ساتھ مختلف ٹی وی اور بالی وڈ اور ہالی وڈ میں فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا ان سے انڈیپینڈنٹ اردو نے خصوصی طور پر رابطہ کرکے ان کے احساسات اور جذبات جاننے کی کوشش کی۔ اپنی گفتگو میں ان شخصیات نے عرفان خان کے ساتھ گزرے ہوئے اپنے لمحات کو یاد کیا۔ 

عرفان خان کے ساتھ 2017 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ہندی میڈیم‘ میں بطور ہیروئن کام کرنے والی پاکستانی اداکارہ صبا قمر نے کہا کہ انہیں اس خبر پر اب تک یقین ہی نہیں آ رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں عرفان خان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ عرفان خان ایک معرکۃ الآرا شخصیت کے حامل تھے اور ان کے ساتھ کام کرنا قابلِ فخر ہے۔

صبا قمر نے کہا: ’عرفان خان کا جانا سینیما کے لیے ایسا نقصان ہے جس کا مداوا ممکن نہیں، ہم نے ایک ہیرا کھو دیا، اب ہم ان کے لیے صرف دعا ہی کرسکتے ہیں۔‘

صبا نے بتایا کہ ان کی عرفان خان سے آخری مرتبہ بات ’ہندی میڈیم‘ کے سیٹ کے آخری روز ہی ہوئی تھی جب انہوں نے عرفان خان کے لیے خیر سگالی کے الفاظ کہے تھے۔

اس سوال کے جواب میں کہ ان کے عرفان خان کے ساتھ گزرے وقت میں سب سے اچھا کیا یاد ہے، ان کا کہنا تھا کہ’ہندی میڈیم کی شوٹ کے دوران گزرا ہر لمحہ یادگار رہا جو زندگی کا سرمایہ ہے۔‘

انہوں نے عرفان خان کا کہا ہوا ایک جملہ دہرایا: ’شہرت کی خواہش ایک بیماری ہے، میں اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہوں، یہ خواہش، جہاں شہرت سے فرق نہ پڑتا ہو۔‘

اداکار علی خان کا عرفان خان کے ساتھ کئی دہائیوں پرانا تعلق ہے۔ انہوں نے عرفان خان کے ساتھ 1993 میں ایک ٹی وی سیریز ’بنے گی اپنی بات‘ سے کام شروع کیا تھا۔

علی خان نے کہا کہ عرفان خان بہترین اداکار تو تھے ہی ساتھ میں اچھے دوست بھی تھے اور وہ بہت ہی ہنس مکھ طبیعت کے مالک تھے اور مرنے کے بعد بھی بہت سے لوگوں کو اپنے کام کے ذریعے مسکرانے کی وجہ دے کر گئے ہیں۔

علی خان نے انڈیپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ شدید دکھ کا شکار ہیں۔ ’شاید خدا اپنے پیارے بندوں کو جلدی اپنے پاس بلا لیتا ہے اور عرفان خان کے لیے اس نے رمضان کے مہینے کا انتخاب کیا۔‘

علی خان نے کہا کہ یہ عرفان خان کے خاندان کے لیے مشکل وقت ہے اور انہوں نے عرفان کے خاندان کے لیے صبر کی دعا کی۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے عرفان خان کے ساتھ آخری بار کام ہالی وڈ کی فلم ’اے مائٹی ہارٹ‘ میں 2007 میں کیا تھا۔ اس کے بعد سے بات تو بہت ہوئی مگر ساتھ کام نہیں کیا، آخری مرتبہ ان سے لندن میں ملاقات ہوئی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عرفان خان جس بیماری کا شکار تھے اس سے اتنا عرصہ لڑنے کا حوصلہ ان میں تھا ورنہ کوئی دوسرا تو شاید اتنا عرصہ ایسی بیماری سے نہیں لڑسکتا تھا۔

ہالی وڈ کی فلم ’اے مائٹی ہارٹ‘ جس کی شوٹنگ بھارت میں ہوئی اس میں عرفان خان نے ایک پاکستانی کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان کے ساتھ پاکستانی اداکار عدنان صدیقی اور ساجد حسن بھی تھے۔

اپنی یادوں کو کریدتے ہوئے عدنان صدیقی نے اینڈیپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عرفان خان بہت ہی کمال کے اداکار اور اتنے ہی کمال کے انسان تھے۔

عدنان صدیقی نے بتایا:’ ایک سین تھا جس میں انہیں اور مجھے اپنا آئی ڈی کارڈ دکھانا تھا، اس سین کی شوٹنگ سے پہلے وہ اپنے کارڈ کو ایک خاص انداز میں موڑ رہے تھے، جب میں نے پوچھا تو کہنے لگے کہ ایک آفیسر ظاہر ہے اکثر جیب سے اپنا کارڈ نکال کر دکھاتا ہو گا، تو ایسا کارڈ بالکل نیا نہیں ہو سکتا، اسے کچھ مڑا تڑا ہونا چاہیے۔‘

عدنان صدیقی نے کہا کہ اس سے ظاہر ہے کہ وہ کتنی باریکی سے اپنے کام کا جائزہ خود لیتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدنان صدیقی نے مزید کہا کہ’ اےمائٹی ہارٹ کی عکاسی کے دوران وہ مجھ سے مسلسل مختلف الفاظ کا تلفظ اور استعمال پوچھتے رہے کیونکہ ان کا کردار ایک پاکستانی کا کردار تھا اور وہ صحیح لفظ اور تلفظ ادا کرنا چاہتے تھے جیسے کسی کام میں دقت تھا تو میں نے بتایا کہ پاکستان میں پریشانی کہا جاتا ہے، غرض اتنے بڑے اداکار ہوکر بھی انہیں سیکھنے اور پوچھنے میں کوئی عار نہیں تھی۔‘

عدنان صدیقی نے بتایا کہ عرفان خان انہیں بتاتے تھے کہ ان کے لڑکپن میں ایک مرتبہ جیمز بانڈ کی فلم ’آکٹوپوسی‘ کی فلم بندی بھارت میں ہورہی تھے جس میں کچھ ایکسٹرا کے کردار تھے اور انہیں صبح پانچ بجے بلایا گیا تھا، وہ وہاں پہنچے تاہم کچھ دیر ہوگئی اور کریو وہاں سے چلا گیا۔ عرفان خان کو اس کا افسوس تھا۔

عدنان صدیقی نے مزید بتایا کہ عرفان خان راجھستان سے تعلق رکھتے تھے اور وہاں لوگ انہیں متھن چکرورتی سے ملاتے تھے۔ عدنان کے مطابق عرفان خان نے ان کو بتایا تھا کہ وہ بچپن اور لڑکپن میں متھن چکرورتی کی طرح کپڑے پہنا کرتے تھے۔

پاکستانی گلوکار اور موسیقار وجیہ فاروقی کا عرفان خان سے 2012 میں میں نکھل ایڈوانی کی فلم ’ڈی ڈے‘ کی عکس بندی کے دوران واسطہ پڑا۔

وجیہ فاروقی نے بتایا کہ وہ ان دنوں فلم ’زنجیر‘ کی موسیقی ترتیب دے رہے تھے کہ ان کا تعلق کراچی سے ہونے کی وجہ سے ان سے رابطہ کیا گیا کہ فلم میں عرفان خان کا کراچی والے کا کردار ہے تو انہیں کراچی کی زبان، انداز اور تلفظ کے سلسلے میں مدد درکار ہے۔

وجیہ نے بتایا کہ پہلے دن وہ سیٹ پر اپنے بیٹے کے ساتھ آئے تھے اور ان کی وینیٹی وین میں ان سے ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد ان سے کچھ بےتکلفی ہوگئی۔ وجیہ کے مطابق عرفان خان 2012 میں بھی اپنے ساتھ ایک چھوٹا ٹیپ ریکارڈر رکھا کرتے تھے جس میں جو آواز و انداز ریکارڈ کر لیتے تھے۔ پہلے دن کے بعد ہی انہوں نے مزید کام کے لیے گھر بلایا جہاں بہت خاطر تواضع کی۔

وجیہ فاروقی نے بتایا کہ وہ خود اس وقت بینڈرا میں رہتے تھے، جب عرفان خان شہر سے کچھ دور ’مڈ آئی لینڈ‘ میں رہتے تھے تو مجھے وہاں تک جانے میں کافی وقت لگا لیکن عرفان خان سے ملنے کی خوشی نے فاصلے کا احساس نہیں ہونے دیا۔

وجیہ فاروقی کے مطابق اس کے بعد ملاقات تو بہت مرتبہ ہوئی مگر کبھی کام ساتھ نہیں کر سکے۔

یہ بات شاید کم لوگوں کو یاد ہو کہ عرفان خان نے ایک پاکستانی اشتہار میں بھی کام کیا ہے۔ یہ ایک بسکٹ کا اشتہار تھا اور اسے نوید ارشد نے پروڈیوس کیا تھا۔

انڈیپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے نوید ارشد نے بتایا کہ ’جب ہم نے عرفان خان سے اس اشتہار کے لیے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستانی اشتہار میں کام کرنے میں کوئی عار نہیں لیکن اس میں بات پیار و محبت کی ہونے چاہیے لڑائی جگھڑے کی نہیں۔‘

یہ اشتہار تھائی لینڈ میں فلمایا گیا تھا جہاں لاہور کا سیٹ لگایا گیا تھا۔ نوید ارشد نے بتایا کہ عرفان خان میں تکبر نام کی چیز نہیں تھی وہ بہت ملنسار تھے ان میں بڑے اداکاروں والے بھرم نہیں تھے، یہاں تک کہ وینیٹی وین میں کم بیٹھتے تھے اور باہر لوگوں کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، اس کے علاوہ وہ دیسی کھانا کھاتے تھے ولائتی کھانے پسند نہیں تھے۔

 انہوں نے بتایا کہ عرفان خان نے اس اشتہار کے ہدایت کار فاروق منان کے بارے میں ان سے کہا تھا کہ کاش میں اسے اپنے ساتھ اپنے ملک لے جاتا کیونکہ یہ جادوگر آدمی ہے جس نے مجھ سے ایک دن میں 24 سین شوٹ کروا لیے اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا۔

نوید ارشد نے بتایا کہ ایک مرتبہ تھائی لینڈ کے ایک شاپنگ مال میں دو تین لڑکے دور سے ان کے ساتھ سیلفی لے رہے تھے، ان کی شاید قریب آنے کی ہمت نہیں تھی تو عرفان خان نے خود انہیں اپنی پاس بلوا کر سیلفی کھنچوائی۔

 نوید ارشد کا کہنا تھا کہ عرفان خان کی خلا پر کرنا آسان نہیں ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم