کچھ لو، کچھ دو قانون سازی‎

18ویں ترمیم، نیب کا قانون، این ایف سی ایوارڈ اور اس طرح کے دوسرے معاملات صرف سیاسی مہرے ہیں جو اشرافیہ استعمال کرتی ہے۔

آج کل سیاسی پارٹیاں مسلسل کہہ رہی ہیں کہ ڈیل نہیں ہوگی لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظام قائم ہی اشرافیہ کے درمیان ڈیلز پر ہے۔

مغربی جمہوریت کا ایک اہم جزو ’کچھ لو، کچھ دو‘ کے بعد جو تصفیہ ہو، اس کے تحت قانون سازی ہے۔ اس فلسفے کے مطابق سیاسی جماعتوں کے زیر اثر عصبیت نظریاتی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ شخصیات کی بجائے نظریات کا تحفظ کیا جاتا ہے۔

اس نظریاتی خلیج کو مکالمے کے بعد سیاسی معاہدے میں بدلا جاتا ہے، جس سے قانون سازی کا عمل مکمل ہوتا ہے۔ اسلام کا نظریہ سیاست مختلف ہے۔ اس میں چند معاملات میں اختلاف اور سیاسی مکالمے کی گنجائش نہیں مثلاً خدا کی وحدانیت، حق حاکمیت اور ختم نبوت۔ کوئی قانون جو قرآن کی تعلیمات پر پورا نہ اترے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔

تاہم دنیاوی اور انتظامی معاملات میں سیاسی پارٹیوں کے درمیان مذاکرات ہوسکتے ہیں تاکہ معاشرے کی بہتری کے لیے قانون سازی کی جا سکے۔ قوانین ایسے ہونے چاہییں جو اسلامی فلاحی ریاست تشکیل دے سکیں اور جہاں انصاف، مساوات اور ہم آہنگی کو فروغ ملے۔ افسوس یہ ہے کہ پاکستان کا جمہوری نظام نہ مغربی ہے اور نہ اسلامی۔ یہاں کچھ لو اور کچھ دو کی سیاست شخصی اور ادارتی مفادات کے لیے کی جاتی ہے۔

مجھے عملی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے اب 10 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس دوران بہت سی قانون سازی کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا اور کئی قوانین پر پارلیمان کے ممبران کو اپنی رائے اور تجاویز بھی بھیجیں۔ میں نے کئی دفعہ کہا کہ پاکستان میں قانون سازی کا عمل انتہائی ناقص ہے۔

پہلے میرا خیال تھا کہ شاید صلاحیت اور قابلیت کا فقدان ہے مگر میں اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایک باقاعدہ سوچ اور منصوبے کے تحت ناقص قانون سازی کی جاتی ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ چند مخصوص خاندان اور ادارے اس ملک پر حاکم رہیں اور عوام محروم رہے۔ قوانین میں کمزوری اشرافیہ کے درمیان سیاسی رسہ کشی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

آپ سب جانتے ہیں کہ پچھلے دو دہائیوں سے میں نیب کو ایک ناکارہ اور غیر فعال ادارہ سمجھتا ہوں اور کئی دفعہ تجویز کر چکا ہوں کے اسے بند کر دیں لیکن جب بھی کوئی سیاسی پارٹی اقتدار میں آتی ہے، وہ اس ادارے کو مخالفین کو زیر کرنے کے لیے ایک آلہِ حکومت کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسلم لیگ ن کی حکومت میں جب زاہد حامد نے نیب قانون کا مسودہ تیار کیا تو میں نے اس پر انہیں چند تجاویز بھیجیں اور دوسری پارٹیوں کو بھی اس کی نقول بھیجیں لیکن مسلم لیگ ن اس عمل سے پیچھے ہٹ گئی اس لیے کہ سیاسی انجینیئرز نے پی ٹی آئی کو استعمال کرتے ہوئے وہ قانون سازی نہ ہونے دی۔ نیب نے کیا گل کھلائے ہیں آج قوم کے سامنے ہے۔

جب سائبر کرائم کا قانون بن رہا تھا اس وقت بھی میں نے پارلیمانی کمیٹی کو تجاویز بھیجیں۔ ان کی مہربانی کے ایک ماہر کے طور پر کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی دعوت بھی دی لیکن کسی ایک تجویز پر بھی عمل نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس قانون کی خرابیاں اب سامنے آ رہی ہیں جس کی نشاندہی ہم نے کی تھی۔

چند دن پہلے ایک دوست نے اقلیتی کونسل کے قانون کا مسودہ رائے اور تجاویز کے لیے بھیجا۔ ایک دفعہ پھر مسودہ انتہائی غیرمعیاری تھا اور میرا اندازہ یہ ہے کہ اس سے اقلیتوں کے مسائل تو کم نہیں ہوں گے بلکہ مزید کچھ خرابیاں پیدا ہوں گی جیسے نیب کرپشن تو ختم نہ کر سکا مگر کچھ اور مسائل ضرور پیدا کیے۔ میں نے اپنی تجاویز بھیج دیں مگر پرامید نہیں ہوں کہ ان پر عمل ہوگا۔

آج کل سیاسی پارٹیاں مسلسل کہہ رہی ہیں کہ ڈیل نہیں ہوگی لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظام قائم ہی اشرافیہ کے درمیان ڈیلز پر ہے۔ عمران خان روزانہ مافیاز کو کبھی ایک اور کبھی دوسری ڈیل دے رہے ہیں۔ ’این آر او نہیں دوں گا‘، ایک سیاسی نعرہ تھا جس پر مدت ہوئی یو ٹرن ہو چکا۔

مسلم لیگ ن اور پی پی پی نے سٹیبلشمنٹ کو ایکسٹینشن کی ڈیل دی اور اس کے بدلے جو نرمیاں ملیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ اب نئی ڈیلیں ہو رہی ہیں اور ان کا بنیادی مقصد اگلے مرحلے میں کس کو کیا ملے گا ہے۔ 18 ویں ترمیم، نیب کا قانون، این ایف سی ایوارڈ اور اس طرح کے دوسرے معاملات صرف سیاسی مہرے ہیں جو یہ اشرافیہ استعمال کرتی ہے۔

مغربی جمہوری نظام  کچھ دو اور کچھ لو کی سیاست کے بغیر ممکن ہی نہیں مگر سوال یہ ہے کہ عوام کو کیا ملا اور ملک کی سالمیت کیا اس نظام کے تحت قائم رہ سکتی ہے؟

میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ احساس یا بےنظیر انکم سپورٹ جیسے پروگراموں کی خیرات دے کر اب اس قوم کو مزید محکوم نہیں رکھا جا سکتا۔ ملک کے ہر حصے میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر ہماری تجویز کے مطابق قومی سیاسی مذاکرات جس کے ذریعے ایک نئی عوامی جمہوریت قائم نہ کی گئی تو پھر اگلا راستہ خطرناک ہوگا۔ میں چند مثالیں دے کر واضع کر چکا ہوں کی اشرافیہ کی قانون سازی میں جان بوجھ کر سقم رکھے جاتے ہیں تاکہ ان سے سیاسی فائدے حاصل کیے جائیں۔

اور تو اور جب پی پی پی اور مسلم لیگ ن نے میثاق جمہوریت کی تو اس میں بھی باریاں لینے کی روایات قائم ہوئی مگر عوام کو کچھ نہ ملا۔ اسی لیے یہ شرط رکھی ہے کہ مذاکراتی عمل میں اگر ہم میز پر موجود نہ ہوں تو اسے قبول نہیں کریں گے۔ یہ اشرافیہ کے بھی مفاد میں ہے کہ اپنی بقا کے لیے ہمیں عوام کی آواز میز پر لانے دیں۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے اہم رہنماؤں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے مگر انہوں نے چند سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ ہم نیب قانون اور آئین کی ترامیم، جس سے 18 ویں ترمیم پر قدغن لگائی جائے، کی حمایت نہیں کریں گے بلکہ اس کے خلاف عوام کی رائے کو اکھٹا کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ