پاکستان کے 'فارغ' کرکٹر اور پرانا پنڈورا بکس

پاکستان کے سابق کرکٹر لاک ڈاؤن میں اپنا فارغ وقت ایک دوسرے پر الزامات لگا کر ساکھ متاثر کرنے میں صرف کر رہے ہیں۔

گذشتہ کچھ دنوں سے الزامات کا ایک طوفان آیا ہوا ہے اور ایسا لگ رہا ہے جیسے ہر سابق کھلاڑی اس طوفان سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)

کرونا (کورونا) وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں کرکٹ سمیت تمام کھیل تعطل کا شکار ہیں اور پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر فراغت کا یہ وقت پرانے پنڈورا بکس کھولنے اور ایک دوسرے پر الزامات لگا کر ساکھ متاثر کرنے میں صرف کر رہے ہیں۔

یہ عمل ذاتی طور پر ان کے لیے کتنا فائدہ مند ہے؟ یہ تو وہ خود ہی بتا سکتے ہیں البتہ ان الزامات سے پاکستان کی ایک مرتبہ پھرعالمی میڈیا میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔

گذشتہ کچھ دنوں سے الزامات کا ایک طوفان آیا ہوا ہے اور ایسا لگ رہا ہے جیسے ہر سابق کھلاڑی اس طوفان سے گزر رہا ہے۔ کچھ دن پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمر اکمل پر فکسرز کی طرف سے رجوع کرنے پر بروقت رپورٹ نہ کرنے کے جرم میں تین سال کی پابندی لگا دی۔

عمراکمل پر الزام تھا کہ انہوں نے پی ایس ایل فائیو اور دوسرے موقعوں پر بکیز کی جانب سے رابطے کی بروقت خبر نہیں دی۔ اپنی تیز رفتار بولنگ کی طرح تند و تیز مزاج کے لیے مشہور شعیب اختر نے اس معاملے پر عمر اکمل کا ساتھ دیا اور ان کے خلاف فیصلے کو پی سی بی کے عرصہ دراز سے قانونی مشیر تفضل رضوی کی مبینہ متعصبانہ پالیسی کا نتیجہ قرار دیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ تفضل رضوی پسند ناپسند کے ایجنڈے پر کھلاڑیوں کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں اور جو کھلاڑی ناپسند ہو اس کو پھنسا دیا جاتا ہے۔

تفضل رضوی نے ان الزامات پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے شعیب اختر کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجواتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سارے معاملے میں شاہد آفریدی اور محمد یوسف نے ثالثی کی پیشکش کی اور دونوں فریقین کو ذمہ داری کا ثبوت دینے کی نصیحت کی۔

ادھر میچ فکسنگ میں ملوث ہو کر پابندی کا شکار ہونے والے اور سابق کرکٹر سلیم ملک نے بھی اپنی زبان بندی توڑ دی اور اپنے کیے پر معافی مانگتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دوسرے سزا یافتہ کھلاڑیوں کی طرح انہیں بھی کھیل میں واپس آنے کا موقع دیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ 2000 میں پابندی لگنے کے بعد سے سلیم ملک کرکٹ سے متعلق کسی سرگرمی میں نظر نہیں آئے، جس کی وجہ پی سی بی کی سخت پالیسی بھی رہی۔

تاہم حال ہی میں ایسا دیکھا گیا کہ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو دوبارہ کھیل میں لایا گیا ہے اور ممتاز سابق کرکٹر جاوید میانداد نے بھی سلیم ملک کی حمایت کرتے ہوئے ان کو دوسری اننگز کھیلنے کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔ لیکن ساتھ ہی یہ تمام باتیں اتنے عرصے بعد دوبارہ کھولنے پر حیرت کا اظہار کیا۔

کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ عالمی شہرت یافتہ فاسٹ بولر وسیم اکرم بھی انہی الزامات کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز نے وسیم اکرم کے متعلق اپنے پرانے موقف کو دہراتے ہوئے الزام لگایا کہ وسیم اکرم میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں اور 1999 ورلڈ کپ کے فائنل میچ کے علاوہ بنگلہ دیش کے خلاف میچ بھی فکس تھے۔

اسی طرح ایک اور سابق اوپنر عامر سہیل نے بھی وسیم اکرم کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر الزام لگایا کہ 1992 کے بعد پاکستان کے کوئی ورلڈ کپ نہ جیتنے کی سب سے بڑی وجہ وسیم اکرم خود ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر 1999 اور 1996 اور 2003 میں وہ ٹیم اور ملک کے ساتھ مخلص ہوتے تو پاکستان لازمی چیمپیئن بنتا۔

وسیم اکرم نے ان تمام الزامات کو ان کا نام استعمال کر کے شہرت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ وسیم اکرم کی بلاشبہ ملک کے لیے گراں قدر خدمات ہیں، بہر حال ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے اس بات کا تعین شاید ہی کبھی ہو سکے۔

 ان تمام بڑوں کی دیکھا دیکھی دو نوجوان سابق کرکٹرز بھی کافی عرصے بعد دوبارہ خبروں میں آگئے ہیں۔

ایک سابق وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر ہیں جن کا انتہائی مختصر کیریئر عجیب وغریب واقعات سے بھرا ہے۔ وہ 2010 میں جنوبی افریقہ کا دورہ اچانک ادھورا چھوڑ کر انگلینڈ روانہ ہو گئے تھے اور پناہ کی درخواست دے دی تھی۔

بعد ازاں انہوں نے فکسرز کی مبینہ دھمکیوں کو جواز بنا کر ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ انہوں نے عمر اکمل پر پابندی کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عمرنے انہیں بھی 2010 میں پرفارم نہ کرنے پر ابھارا تھا۔

اسی طرح سلمان بٹ اور محمد عامر کے ساتھ پابندی کا شکار ہونے والے محمد آصف نے بھی اپنی چپ توڑ دی اور اپنے ساتھ ہونے والی 'ناانصافی' پر بول پڑے۔

آصف نے بورڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور محمد عامر کو بچانے پر بھی نشانے پر لیا۔ ان کے بقول عامر کو دوبارہ کھیل میں لا کر غلطی کی گئی جس کا صلہ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے کر دے دیا، جبکہ میرے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا گیا حالانکہ مجھ سے پہلے اور بعد میں سزا یافتہ کھلاڑی بھی کھیل کے میدان میں واپس آ چکے ہیں۔

یہ صورت حال نہ صرف کرکٹرز بلکہ کرکٹ بورڈ اور شائقین کے لیے بھی نقصان دہ اور افسردہ ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ فکسنگ جیسے گھناؤنے سکینڈل میں ملوث ہونے اور سزا کے بعد ہمارے کھلاڑی اپنے فعل پر شرمندگی کا اظہار کریں، مگر یہاں عجیب صورت حال ہے۔

ہمارا یہ المیہ ہے کہ کچھ پیسوں کے لیے ملک و قوم کا نام آلودہ کرنے والے کرکٹرز کو معمولی سزاؤں کے بعد واپس لایا جاتا ہے جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ ان کرکٹرز کو سخت سزائیں دی جائیں جس سے دوسرے کھلاڑیوں کو تنبیہ ہو اور ایسے کھلاڑیوں کو دوبارہ الزام تراشیوں کے ذریعے ملک و قوم کے لیے مزید جگ ہنسائی کا باعث بننے سے روکا جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ