پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی آمد تاخیر کا شکار کیوں؟

ایک نجی کمپنی نے لاہور میں پہلا الیکٹرک وہیکل چارجنگ یونٹ لگا لیا ہے تاہم ملک میں الیکٹرک وہیکل پالیسی ہونے کے باوجود اس پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

محکمہ برائے ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے تیار کردہ الیکٹرک وہیکل پالیسی میں کہا گیا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے چھوٹی بڑی گاڑیوں کو فوری طور پر الیکٹرک سسٹم پر منتقل کیا جائے(تصویر : ارشد چوہدری)

ایک نجی کمپنی نے لاہور میں پہلا الیکٹرک وہیکل چارجنگ یونٹ لگا لیا ہے، جہاں ابتدائی طور پر چارجنگ کی مفت سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں لاہور، سکھر موٹر وے پر  چھ مزید یونٹس لگانے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔

پاکستان میں چارجنگ یونٹ لگانے والی کمپنی گیس اینڈ آئل (گو) کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) ذیشان طیب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ الیکٹرک وہیکل کے استعمال سے نہ صرف گاڑیوں کا خرچ کم ہوگا بلکہ اس سے پاکستان میں مقامی سطح پر بھی گاڑیاں، موٹر سائیکل اور رکشے تیار ہونے کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بڑی بیٹری ایک بار چارج کرنے سے اس کا خرچ 15سو سے دو ہزار روپے تک آئے گا جبکہ چھوٹی بیٹری کی چارجنگ اس سے بھی کم قیمت میں ہوسکے گی۔ بڑی بیٹری والی گاڑی ایک بار فل چارج ہونے کے بعد دو سے ڈھائی سو جبکہ چھوٹی بیٹری سے ڈیڑ ھ سے دو سو کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کیا جاسکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل ہونے میں کافی تاخیر کا شکار ہے۔ ان کی کمپنی نے چارجنگ یونٹ کی تنصیب شروع کر دی ہے اور لاہور کے بعد موٹر وے پر بھی یہ یونٹس لگائے جائیں گے۔

ذیشان طیب کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی اٹلی سے چارجنگ یونٹ درآمد کر رہی ہے جس کا خرچ 50 لاکھ روپے تک ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ گیس اینڈ آئل کمپنی نے ابتدا ضرور کی ہے لیکن کوئی بھی کمپنی یا شخص یہ یونٹ خرید کر کام شروع کرسکتا ہے۔

ممکنہ ماحولیاتی فوائد اور حکومتی دلچسپی

پاکستان کی ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بنائی گئی کونسل کے رکن رافع عالم کے مطابق حکومت نے محکمہ برائے ماحولیاتی تبدیلی کی تجویز پر گذشتہ برس دسمبر میں الیکٹرک وہیکل پالیسی بنائی، جسے وفاقی کابینہ نے بھی منظور کیا، لیکن اس پالیسی پر مکمل عمل درآمد نہ ہوسکا کیونکہ یہ پالیسی وزرات برائے ماحولیاتی تبدیلی اور وزارت انڈسٹریز کے درمیان تناؤ کے باعث ٹھپ ہوکر رہ گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رافع عالم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ محکمہ برائے ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے تیار کردہ الیکٹرک وہیکل پالیسی میں کہا گیا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے چھوٹی بڑی گاڑیوں کو فوری طور پر الیکٹرک سسٹم پر منتقل کیا جائے، اس سے نہ صرف ماحولیاتی تبدیلیوں میں بہتری آئے گی بلکہ فیول کی درآمد پر خرچ ہونے والا سرمایہ بھی بچے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس پالیسی کی منظوری کے بعد وزارت انڈسٹریز نے مشاورت میں شامل نہ کرنے کا اعتراض اٹھایا اور بروقت ٹھوس لائحہ عمل تیار نہ ہوسکا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں حکومتی سرپرستی کے بغیر ہی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کی تیاری شروع ہوگئی، لیکن حکومت نے دوسرے ممالک سے الیکٹرک وہیکل (ای وی) کی درآمد تاحال شروع کرنے کی اجازت نہیں دی۔

لاہور میں الیکٹرک موٹر سائیکل تیار کرنے والی ایک فیکٹری کے مالک فرحان جمال کے مطابق وہ اپنے طور پر انڈسٹری کے این او سی پر مختلف کمپنیوں کی موٹرسائیکلوں کا بجلی سے چلنے والا سسٹم تیار کر رہے ہیں لیکن مکمل موٹر سائیکل تیار کرنے کی اجازت نہیں مل رہی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی حکومتی اداروں میں حکمت عملی نہ اپنائے جانے پر اس مقصد کے لیے انڈسٹری لگانے کی بھی اجازت نہیں۔

حکومت کی الیکٹرک وہیکل پالیسی ہے کیا؟

رافع عالم کے مطابق وزارت برائے ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے تیار کی گئی جو سفارشات منظور ہوئیں، ان میں درج ذیل نمایاں نکات شامل ہیں:

-چار سالوں میں ایک لاکھ گاڑیوں کو برقی ٹیکنالوجی پر لایا جائے گا جبکہ اسی دوران پانچ لاکھ موٹر سائیکل اور رکشے بجلی پر چلیں گے۔

-الیکٹرک وہیکل کے پرزوں کی درآمد پر ایک فیصد کسٹم ڈیوٹی ہو گی جبکہ پاکستان میں بننے والی الیکٹرک گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر ایک فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگایا جائے گا۔

-پاکستان میں بننے والی الیکٹرک وہیکلز پر کوئی رجسٹریشن فیس اور ٹوکن ٹیکس نہیں ہو گا۔ ان کے لیے خاص رجسٹریشن پلیٹس متعارف کروائی جائیں گی۔

-دو سال کے لیے استعمال شدہ الیکٹرک گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر 15 فیصد کسٹم ڈیوٹی ہو گی۔

-ابتدائی مرحلے میں تین ہزار سی این جی سٹیشنز کو الیکٹرک وہیکل چارجنگ یونٹس بنانے پر اتفاق ہوا۔

-ابتدائی ہدف کے طور پر 2030 تک ملک کی 30 فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک ٹیکنالوجی پر لانے کا فیصلہ ہوا، جس سے تیل کے درآمدی بل میں دو ارب ڈالر کی بچت کا بتایا گیا۔

-الیکٹرک گاڑیاں بنانے کے لیے خصوصی اکنامک زونز بنانے کی تجویز دی گئی۔

واضح رہے کہ ملک میں مکمل طور پر الیکٹرک گاڑیوں یا مکمل موٹر سائیکلوں کی تیاری شروع نہیں ہوسکی ہے، تاہم ذیشان طیب کے مطابق ابھی تک غیر ملکی کار ساز کمپنی او ڈی کی ہی بڑی الیکٹرک گاڑی پاکستان میں دستیاب ہے جبکہ مقامی سطح پر موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں الیکٹرک سسٹم نصب کیے جارہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان