کرونا وائرس کی ویکسین سے جانوروں میں انیٹی باڈیز بننے کی تصدیق

امریکی کمپنی’انوائیو کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی تجرباتی ویکسین سے چوہوں اور گنی پگز میں نہ صرف اینٹی باڈیز پیدا ہوئیں بلکہ ان کے مدافعتی نظام نے وائرس کے خلاف ردعمل بھی ظاہر کیا ہے۔

انوائیو نے اپریل میں اس کی ویکسین کی انسانوں پر جانچ  شروع کی تھی اور کمپنی کو امید ہے کہ ان ٹرائلز کے ابتدائی نتائج جون میں متوقع ہیں (روئٹرز)

امیونو تھراپی کی امریکی کمپنی ’انوائیو فارماسیوٹیکلز انکارپوریشن‘ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے انفیکشن کو روکنے کے لیے اس کی تجرباتی ویکسین سے چوہوں اور گنی پگز میں نہ صرف اینٹی باڈیز پیدا ہوئیں بلکہ ان کے مدافعتی نظام نے وائرس کے خلاف ردعمل بھی ظاہر کیا ہے۔

اس پیش رفت کے بعد کمپنی کے حصص میں 17.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انوائیو کمپنی کے ساتھ تعاون کرنے والے ’ویسٹر انسٹی ٹیوٹ‘ میں قائم ویکسین اور امیونو تھراپی سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیوڈ وینر نے کہا کہ ’ہم نے اس ویکسین کے ذریعے اینٹی باڈی کے رد عمل دیکھے ہیں اور یہ ایسی بہت سی سرگرمیاں انجام دے سکتی ہے جو ہم ایک حتمی ویکسین میں دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم ان چیزوں کو نشانہ بنانے کے اہل ہو گئے ہیں جو جسم میں وائرس کو محفوظ پناہ گاہیں بنانے سے روکیں گی۔‘

کووڈ 19 کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ ایک محفوظ اور موثر ویکسین تیار ہونے میں 12 سے 18 ماہ لگ سکتے ہیں۔

انوائیو نے اپریل میں اس کی ویکسین کی انسانوں پر جانچ  شروع کی تھی اور کمپنی کو امید ہے کہ ان ٹرائلز کے ابتدائی نتائج جون میں متوقع ہیں۔

اس ٹرائل کے پہلے مرحلے میں 40 صحت مند شرکا کو چار ہفتوں کے فرق سے INO-4800 نامی اس ویکسین کی دو خوراکیں دی گئیں اور پھر دو ہفتوں تک ان کی نگرانی کی گئی۔

انوائیو کمپنی میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ شعبے کی سربراہ ڈاکٹر کیتھرائن بروڈرک نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم شروع سے ہی اس کے حفاظتی پہلو دیکھ رہے ہیں اور یہ بے ضرر ثابت ہوئی ہے۔ اس سے محض چند لوگوں کے بازو پر ہلکی سی سرخی پیدا ہوئی تھی۔‘

انوائیو نے توقع ظاہر کی ہے کہ ایک بار ابتدائی نتائج آنے کے بعد کمپنی ’یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ سے اس کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے آغاز کی اجازت طلب کرے گی جو جولائی یا اگست میں ممکن ہو سکیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمپنی کا کہنا ہے کہ سائنسی جریدے ’نیچر کمیونیکیشنز‘ میں شائع ہونے والے جانوروں پر تجربات کے تازہ ترین نتائج اس کے ڈی این اے میڈیسنز پلیٹ فارم کی توثیق کرتے ہیں اور یہ مشرق وسطیٰ میں ایک مختلف لیکن متعلقہ کرونا وائرس کی وبا کے خلاف بنائی گئی تجرباتی ویکسین کے مثبت کلینکل ٹرائل کے ڈیٹا سے تشکیل دی گئی ہے۔ 

پرانی ویکسین اور INO-4800 کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے جو وائرس کے بیرونی کانٹے دار حصے ’سپائک‘ کے مخصوص جینز پر حملہ کرتی ہے۔

انوائیو نے کہا کہ نئے شائع شدہ اعداد و شمار میں ٹیسٹ کے تین الگ الگ طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے وائرس کو بے اثر کرنے کی سرگرمی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

اس مطالعے کے مصنفین نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ویکسین دیے جانے والے جانوروں کے پھیپھڑوں میں اینٹی باڈیز کی موجودگی کا پتہ لگایا ہے۔

بروڈریک نے کہا کہ کمپنی اگلے مرحلے میں خرگوشوں اور بندروں سمیت بڑے جانوروں پر بھی اس ویکسین کی چیلنچ سٹڈی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

چیلنج سٹڈیز میں جان بوجھ کر جانور کو وائرس دینا اور پھر یہ دیکھنا شامل ہوتا ہے کہ آیا ویکسین اس انفیکشن کے خلاف کام کر رہی ہے یا نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق