مذہب اور سائنس کو نئے وکیلوں کی ضرورت ہے

رویت ہلال ایک ضرورت ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ کام پندرہ بیس بزرگان دین کے ہاتھوں ہی انجام پائے۔ سائنس اگر یہاں بروئے کار آتی ہے تو وہ ایک مذہبی فریضے میں ممد و معاون ثابت ہو رہی ہے۔

23 اپریل 2020 کو رمضان کا چاند دیکھنے سے پہلے رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین مفتی منیب الرحمٰن مغرب کی نماز پڑھا رہے ہیں (اے ایف پی)

رویت ہلال کے معاملے پر اس سال میدان ایک نئی شان سے سجا۔ سائنس کی وکالت جناب فواد چوہدری فرما رہے تھے اور مذہب کی وکالت قبلہ منیب الرحمٰن کے ہاتھ میں تھی۔ موکلین تو شاید مل جل کر رہنے کی کوئی صورت نکال لیتے لیکن وکلا کے دست ہنر نے ایسا اکھاڑا سجایا کہ فریقین میں صلح کا اب دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

ہر دو فاضل وکلا صاحبان کی ترک تازی زبان حال سے بتا رہی ہے کہ ان کے موکلین عافیت چاہتے ہیں تو انہیں اب نئے وکیلوں کی ضرورت ہے۔ منیر نیازی ہوتے تو کہتے: زوالِ عصر ہے کوفے میں اور 'وکلا' ہیں۔ ذرا غور فرمائیے کیسی نازک صورت حال ہے، سائنس کی وکالت فواد چوہدری کر رہے ہیں اور مذہب کی مفتی منیب الرحمٰن۔ دونوں کا رویہ اور افتاد طبع کے مسائل ہمارے سامنے ہیں۔ اسی لیے سیانے کہتے ہیں کہ مقدمہ بھلے کمزور ہو وکیل کمزور نہیں ہونا چاہیے۔ 

سائنس کی جید شخصیات نے فی نفسہ کبھی مذہب کو چیلنج نہیں کیا۔ ان کی دل چسپی کا میدان مذہب کی نفی کی بجائے سائنسی دریافت رہا۔ اس باب میں جو جتنا بلند سائنسدان ہوا، اس کے ہاں اتنی ہی عاجزی ملی۔ جو شدت ہم سائنس کے نولؤمولود ترجمانوں کے رویے میں دیکھ رہے ہیں، سائنس کی دنیا کے بڑے نام اس آلودگی سے محفوظ  رہے۔ جب ایسے وکلا میسر آتے ہیں تو پھر سائنس بھی پناہ مانگتی ہے۔

یہی معاملہ اہل مذہب کا ہے۔ مذہب کے جید لوگوں نے کبھی سائنس کو اپنا حریف نہیں سمجھا۔ وہ تو سائنس کی دریافت سے استنباط کرتے ہیں۔ خود مذہب کا مطالبہ ہے کہ کائنات میں غورو فکر کیا جائے۔ سائنس مذہب کی معاون ہے۔ یہ دریافت کے عمل میں مذہب کی مدد کرتی ہے۔ مذہب انسان کے اخلاقی وجود کو سیراب کرتا ہے اور سائنس اس کے مادی وجود کو سیراب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

معاملہ جب تنک مزاج وکلا کے ہاتھ میں آتا ہے تو پھر سائنس کو حریف سمجھا جاتا ہے اور علم کی مسند سے دوسرے کی تضحیک کے لیے سوال ہوتا ہے کہ تمہیں چاند کی تو بڑی فکر ہے کب طلوع ہو گا، ذرا یہ تو بتاؤ تم نے نمازیں کتنی پڑھیں۔ اس سوال کا  دین سے کوئی تعلق ہے نہ دعوت سے۔ اس کا تعلق صرف مجروح انا کی تسکین سے ہے۔ مجروح انا کا مطالبہ ہے چاند صرف میں نے چڑھانا ہے۔ کب کہاں اور کیسے چڑھانا ہے، اس کا فیصلہ میں کروں گا۔ میڈیا سوال پوچھ لے تو مجروح انا فون کی تاریں نکال کر پھینک دیتی ہے اور کوئی وزیر گستاخی کر دے تو نمازوں کا حساب مانگنے بیٹھ جاتی ہے۔ یہ داعی کا رویہ نہیں ہے۔ یہ کشمکش کے ایک فریق کا رویہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیا سائنس اور مذہب ایک دوسرے سے متصادم ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ ان کا دائرہ کار ہی الگ ہے۔ مذہب کا اصل مخاطب انسان کا اخلاقی وجود ہے۔ مذہب تزکیہ نفس کا نام ہے۔ سائنس کائنات کے راز کو جاننے کا عمل ہے۔ سائنس دریافت اور نظام فطرت کی جستجو کا نام ہے۔ سائنس کو مذہب کا حریف بنانا بھی ایک احمقانہ حرکت ہے اور مذہب کو سائنس کا دشمن ثابت کرنا بھی جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ مذہب کی تعبیر کا سائنسی جواز پیش کرنا بھی سادہ لوحی اور خلط مبحث کے سوا کچھ نہیں۔ آج کل ایک روج چل نکلا ہے کہ مذہب کے احکام کو سائنسی تحقیق کی روشنی میں معتبر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ مذہب اور سائنس دونوں کی مبادیات سے نا واقفیت ہے۔ سائنس ایک لمحہ لمحہ جستجو کا نام ہے۔ آپ آج سائنس کی ایک تحقیق کی بنیاد پر مذہب کا دفاع کرتے ہیں، کل سائنس اپنی ہی تحقیق کی نفی کر دے اور ایک نئی تحقیق کے تازہ نتائج فکر لے آئے تو آپ کہاں کھڑے ہوں گے؟

سائنسدان جتنا عاجز اور جتنا معقول ہوتا ہے، فلاسفی آف سائنس کے لوگ اتنے ہی اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ مذہب جتنا خیر خواہ ہے اہل مذہب اتنے ہی اس کے برعکس ہو جاتے ہیں۔ اس سے جو تصادم کی کیفیت پیدا ہوتی ہے یہ مذہب اور سائنس کا تصادم نہیں، یہ اہل مذہب اور فلاسفی آف سائنس کا جھگڑا ہے۔ یہ وکیلوں کی لڑائی ہے، موکل اس سے بری الذمہ ہیں۔ اہل مذہب کے لہجوں کی تلخی بھی حیران کر دیتی ہے اور فلاسفی آف سائنس کے علمبرداروں کے لہجوں کی قطعیت بھی بڑی تکلیف دہ ہے۔ مذہب میں تضحیک اور سائنس میں قطعیت کہاں سے آ گئیں؟ مذہب خیر خواہی ہے اور سائنس مسلسل جستجو۔ جھگڑا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہاں مذہب اور فلسفہ، یہ دو متصادم تصورات ہو سکتے ہیں۔

سائنس آدمی میں عجز لاتی ہے کیونکہ یہ نظام فطرت کی دریافت کا نام ہے۔ جس نے H2O کا فارمولا دریافت کیا تھا وہ خدا نہیں بن گیا تھا۔ اس نے  فطرت کے خزانوں سے ایک دریافت کی تھی۔ نظام فطرت میں لمحہ لمحہ دریافت ہو رہی ہے اور کائنات مسخر ہو رہی ہے۔ جب دریافت کا یہ عمل کہیں رک نہیں رہا تو رویے اتنے بے لچک اور جامد کیسے ہو سکتے ہیں؟

رویت ہلال ایک ضرورت ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ کام پندرہ بیس بزرگان دین کے ہاتھوں ہی انجام پائے۔ سائنس اگر یہاں بروئے کار آتی ہے تو وہ ایک مذہبی فریضے میں ممد و معاون ثابت ہو رہی ہے۔ مذہب اسے حریف کیسے سمجھ سکتا ہے۔ اہل مذہب کا معاملہ دوسرا ہے وہ اسے لازماً اپنا حریف سمجھیں گے۔ یہی معاملہ دوسری صف کا ہے۔ سائنس اگر معاونت کر رہی ہے تو خدمت کر رہی ہے۔ یہ وزیر سائنس ہیں جو اس خدمت پر اکھاڑے میں اتر کر کبڈی کبڈی کہہ رہے ہیں۔

یہ مذہب اور سائنس کا نہیں، یہ مفتی منیب الرحمٰن اور فواد چوہدری کا جھگڑا ہے۔ فریقین کو جب ایسے وکیل میسر آئیں گے تو ایسا ہی اودھم مچے گا۔ مذہب اور سائنس دونوں کو نئے وکیلوں کی ضرورت ہے۔سماج کی پوریں لہو ہو چکیں، نجات کی اور کوئی صورت موجود نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ