انقلابی گارڈز ​​​​​​​ایرانی نژاد برطانوی خاتون کی رہائی میں رکاوٹ

امدادی رضاکار نازنین زاغری ریڈکلف کے شوہر کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی کو ایرانی حکام 'ذہنی تشدد' کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

نازنین  ریڈکلف کو تہران کے ہوائی اڈے سے  2016 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنی بیٹی کے ساتھ برطانیہ واپسی کے لیے روانہ ہو رہی تھیں (اے ایف پی)

ایرانی نژاد برطانوی امدادی رضاکار نازنین زاغری ریڈکلف کے شوہر رچرڈ ریڈ کلف کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی کو ایرانی حکام 'ذہنی تشدد' کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کی رہائی کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق رچرڈ کہنا ہے کہ 41 سالہ نازنین نے گذشتہ ہفتہ رہائی کی امید میں ڈراؤنے خواب دیکھتے ہوئے گزارا، جبکہ انہیں جمعے کو بتایا گیا کہ رہائی کے حوالے سے کوئی خبر نہیں ہے۔

انہوں نے دی آبزرور سے گفتگو میں  بتایا: 'یہ کہنا درست ہو گا کہ نازنین نفسیاتی تشدد کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر نے جس معیار پر سب کے لیے نرمی کا اعلان کیا ہے، نازنین اس معیار پر پورا اترتی ہیں۔'

تاہم نازنین کے وکیل کے مطابق ایران میں عدلیہ اور انقلابی گارڈز کے درمیان اس حوالے سے تنازع پایا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رچرڈ کے مطابق یہی غیر یقینی صورت حال نازنین کے لیے سخت اذیت اور پریشانی کا باعث بن رہی ہے اور وہ اپنی پانچ سالہ بیٹی کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔

'انقلابی گارڈز قانون کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی وزارت خارجہ بند دروازوں کے پیچھے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ عدلیہ بھی اس معاملے کو حل کرنا چاہتی ہے۔'

مارچ میں نازنین کو ہزاروں قیدیوں سمیت ایران کی بدنام زمانہ ایون جیل سے دو ہفتے کے لیے رہا کیا گیا تھا۔ حکام نے یہ قدم کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا تھا۔ بعد میں اس عارضی رہائی کا دورانیہ 27 مئی تک بڑھا دیا گیا۔

تاہم جمعے کو انہیں بتایا گیا کہ ان کی نرمی کی درخواست پر ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا۔ تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کی پروجیکٹ مینیجر نازنین پانچ میں سے چار سال کی سزا کاٹ چکی ہیں۔ ان پر ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں شریک ہونے کا الزام ہے لیکن ان کے اہل خانہ، فاؤنڈیشن اور روئٹرز اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

انہیں تہران کے ہوائی اڈے سے اپریل 2016 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنی بیٹی کے ساتھ برطانیہ واپسی کے لیے روانہ ہو رہی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا