نئی سرد جنگ اور پاکستان

سفیروں کی تعیناتی سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ذاتی تعلقات، پارٹی کو چندہ دینے والے اور دوست نوازی کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

روسی فوجی دوسری جنگ عظیم کی سالانہ پریڈ میں (اے ایف پی)

امریکی صدر باراک اوباما کے دور حکومت میں جب ان کی خارجہ پالیسی کی سمت بدل کر اس کا محور ایشیا کیا گیا تو اسی وقت میں نے پاکستان کے پالیسی سازوں کو ایک یادداشت بھیجی کہ امریکہ اور چین کے درمیان ایک نئی سرد جنگ کا بیج بو دیا گیا ہے۔

صدر اوباما نے اس فیصلے پر پیش رفت کے لیے کئی اقدامات اٹھائے۔ سب سے پہلے تو انہوں نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات ٹھیک کرنے کے لیے یورپ اور دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر ایٹمی ہتھیاروں کے روک تھام کا معاہدہ کیا لیکن یہ عمل سعودی عرب اور دوسرے روایتی حلیفوں کو پسند نہ آیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بھارت، جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کے ساتھ تجارتی اور فوجی معاملات پر اتحاد بنانے کے عمل کو تیز کیا۔

عبدالقیوم کنڈی کا یہ کالم آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں:

 

صدر ٹرمپ کے انتخابات جیتنے کے بعد اس نئی سرد جنگ میں مزید تیزی آئی لیکن ان کا لائحہ عمل پچھلے صدر سے مختلف ہے۔ ٹرمپ نے اب تک امریکہ کے تمام اتحادیوں کو نہ صرف ناراض کیا ہے بلکہ جو معاہدے ہو چکے تھے انہیں بھی توڑ دیا ہے۔ وہ ایران، روس اور چین کو ایک مخالف اتحاد تصور کرتے ہیں جبکہ یورپ کو پرانے بین الاقوامی نظام کا حصہ اور نئے نظام میں غیر اہم۔

امریکہ نے چین کی خلاف کئی پرانے اختلافی معاملات جو سرد خانے میں تھے ان کو دوبارہ زندہ کر کے نئے محاذ کھولے ہیں۔ تائیوان جسے چین اپنا بچھڑا ہوا بھائی قرار دیتا ہے انہیں ایک دفعہ پھر جدید اسلحہ فراہم کیا تاکہ وہ چین کے خلاف جنگ میں اسے استعمال کر سکے۔

ہانگ کانگ میں ہونے والے عوامی احتجاج کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ چینی میڈیا کے مطابق انہیں وسائل بھی فراہم کیے۔ چین نے اس معاملے میں جن نئے قوانین کا اعلان کیا ہے اسے بھی امریکہ اور یورپ نے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ شین چیانگ کے مسلمانوں کو بھی امریکہ نے مظلوم طبقہ قرار دیا ہے اور ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کا واضع مقصد یہ نظر آتا ہے کے چین کے خلاف مسلمانوں کو اپنا اتحادی بنایا جائے۔

ایک طرح سے یہ وہی حکمت عملی ہے جو وہ ماضی میں سویت یونین کے خلاف استعمال کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ تجارتی ٹیکس اور پابندیاں بھی لگائی گئیں ہیں جس کا مقصد چین کو معاشی اور اقتصادی نقصان پہنچانا ہے۔ جنوبی چین کے سمندر میں دونوں ملکوں کی بحری افواج کے درمیان کئی دفع تناؤ کی صورت حال بھی پیدا ہو چکی ہے جو کسی غلطی کی بنا پر جنگ میں بھی بدل سکتی ہے۔

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہونے کی وجہ سے اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کے ان دونوں ملکوں کے درمیان سرد جنگ کی فضا قائم رہے۔ ہمیں ان دونوں ملکوں سے تعلقات میں توازن پیدا کرنا ہوگا جو کوئی آسان کام نہیں ہے اور اس پر باقاعدہ سوچ بچار اور منصوبہ بندی ہونی چاہیے جو اب تک نظر نہیں آ رہی۔

پچھلے دنوں امریکہ کے اہم سفارت کار نے سی پی ای سی منصوبوں پر کچھ ایسے بیانات دیے جو سفارتی آداب کے تحت ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی مگر عمران خان کی حکومت، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آئی ایس پی آر تمام مکمل خاموش رہے اور چین کو خود اس کا جواب دینا پڑا۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں اور یہ بھی ایک طرح کی ہماری خودمختاری پر ضرب ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمیں اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان اتحاد سے اس خطہ میں طاقت کا توازن برقرار نہیں رہے گا۔ میں اب تک یہ سمجھتا ہوں کہ بھارت نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ اس خطہ میں چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی ہوگا اگرچہ امریکہ اس کوشش میں کئی سالوں سے ہے۔ اس کا ایک اشارہ اس وقت ملا جب پچھلے دنوں چین کے فوجیوں کے ساتھ سرحدی جھڑپیں ہوئیں مگر امریکہ کی ثالثی کی پیشکش کو رد کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ بھارت کے روس اور ایران سے پرانے تعلقات ہیں جو امریکہ کی خاطر شاید قربان نہ کیے جا سکیں۔ بھارتی فوج کا اسلحہ بڑی حد تک روسی ساختہ ہے۔ اس کے علاوہ بھارت اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات بھی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں جسے وہ داؤ پر لگانا نہیں چاہیں گے۔

کشمیر کے معاملے میں بھی چین نے بھارت کی بہت زیادہ مخالفت نہیں کی اگرچہ لداخ کے معاملے پر چین کے تحفظات ہیں۔ آخر میں مودی کی خواہش یہ ہے کہ ہندوستان کسی سپر پاور کا ایجنٹ نہ ہو بلکہ خود خطے کی اہم طاقت ہو۔

دنیا اور خطے کے حالات بہت تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ان بدلتے حالات میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی ایک نئے سرے سے ترتیب دینی ہوگی۔ میں اپنی تجاویز وقتا فوقتا پالیسی سازوں کو بھیجتا رہتا ہوں لیکن اس وقت ایسا نظر آتا ہے کہ وزارت خارجہ میں قابلیت اور صلاحیت دونوں کا فقدان ہے۔ سفیروں کی تعیناتی سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ذاتی تعلقات، پارٹی کو چندہ دینے والے اور دوست نوازی کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

روایتی طور پر ہماری خارجہ پالیسی فوج کے زیرے اثر رہی ہے اور دوسرے ملکوں میں بھی فوج اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔ فوج کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ایک بااختیار اور باعمل وزارت خارجہ اس وقت ایک اہم ضرورت ہے۔ اپنے تحفظ کے علاوہ جو فوج کے پیش نظر ہے ہمیں تجارت، ٹیکنالوجی اور معاشی تعلقات کی بھی ضرورت ہے جس میں ہم کافی پیچھے ہیں۔ موجودہ ریاستی ڈھانچہ میں مجھے اس بات کی امید کم نظر آتی ہے کہ ہم خارجہ پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دے سکیں۔ ہمیں نہ صرف خارجہ پالیسی بلکہ پورے ملک کو نئی سرے سے منظم کرنا ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ