اقتصادی سروے: مہنگائی اور قرضے بڑھے، مالی خسارہ کم ہوا

پاکستان کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوران حکومتی اخراجات میں کمی کی گئی اور ٹیکسز کی وصولی میں بھی 17 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔

آئندہ مالی سال یعنی 21-2020 کے بجٹ کا اعلان جمعہ 12 جون کو کیا جائے گا (اے ایف پی)

پاکستان کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ گذشتہ مالی سال کے دوران مہنگائی اور قرضے بڑھے جبکہ مالی خسارہ کم ہوا، دوسری جانب کرونا (کورونا) وائرس کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی ہے اور پاکستان کو تین ہزار ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچا ہے۔

اسلام آباد میں اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو حکومت میں آنے کے بعد معاشی بحران ورثے میں ملا جبکہ کرونا وائرس کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اہداف بھی حاصل نہیں کیے جا سکے۔

واضح رہے کہ آئندہ مالی سال یعنی 21-2020 کے بجٹ کا اعلان جمعہ 12 جون کو کیا جائے گا۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل گذشتہ مالی سال کا احوال بتاتے ہوئے حفیظ شیخ نے بتایا کہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے جی ڈی پی کو تین ہزار ارب سے زیادہ کا نقصان پہنچا ہے۔

تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ گذشتہ مالی سال کے دوران حکومتی اخراجات میں کمی کی گئی اور ٹیکسز کی وصولی میں بھی 17 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اضافہ کرونا وائرس کے پھیلنے سے پہلے ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے پانچ ہزار ارب روپے قرضوں کی مد میں واپس کیے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ’ماضی کے قرضوں کو واپس کرنے کے لیے نئے قرضے لیے گئے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ خسارے میں بھی خاطر خواہ کمی کی گئی ہے۔

دفاعی بجٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’فوج کا بجٹ منجمد کیا گیا جس کے لیے آرمی چیف جنرل باجوہ کے مشکور ہیں۔‘

اقتصادی جائزہ رپورٹ: 

اقتصادی جائزہ رپورٹ 20-2019 کے مطابق شرح نمو منفی 0.38 رہنے کی امید ہے۔

جائزہ رپورٹ کے مطابق صنعت اور خدمات کے شعبے میں منفی شرح نمو کی وجہ کرونا وائرس وبا کے باعث سماجی دوری کو کہا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2020 کے آغاز میں معیشت میں ’زبردست بہتری‘ آئی، جس کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی آئی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات کی وجہ سے تکلیف دہ اثرات سامنے آئے جن میں معاشی سست روی، مہنگائی اور نوکریوں کی پیداوار کی کم رفتار دیکھنے میں آئی اور یہی وجہ ہے کہ کم آمدن والے افراد پر منفی اثر پڑا۔

عالمی معیشت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ کرونا وبا لاک ڈاؤن کے باعث دنیا 1930 کی دہائی کے بدترین ’گریٹ ڈپریشن‘ کی طرف جا رہی ہے۔

معاشی خسارے کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2019 کے مقابلے میں 2020 میں مالی خسارے میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ 2019 میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا 5.1 فیصد تھا جب کہ 2020 میں یہ خسارہ چار فیصد ہے۔

ٹیکس وصولیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2019 کے پہلے دس مہینوں میں ایف بی آر نے 2.98 ٹریلین روپے ٹیکس جمع کیا تھا جب کہ 2020 میں 3.3 ٹریلین روپے ٹیکس جمع کیا گیا ہے۔

رواں مالی سال مہنگائی میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی دس مہینوں میں شرح 11.2 فیصد تھی جب کہ اس کے مقابلے میں اس سے پچھلے سال یہ شرح 6.5 فیصد تھی۔
جون 2019 کے آخر میں کل عوامی قرضہ 32.7 ٹریلین روپے تھا جب کہ مارچ 2020 کے آخر میں کل قرضہ 35.2 ٹریلین روپے پر پہنچ چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت