مارگلہ کے پہاڑوں میں گمشدگی اور بازیابی کی ایک داستان

ہمارے سامنے ہر طرف خاردار جھاڑیاں ہیں۔ ہو نہ ہو راستہ انہی جھاڑیوں میں کہیں چھپا ہے۔ جھاڑیوں میں گھس کے راستہ ڈھونڈ نکالنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی۔ ایک طرف کی جھاڑیوں میں دور تک کہنیاں گھٹنے چھلوا کے واپس آ گیا۔

اسلام آ باد کی مارگلہ پہاڑیوں کی ایک ٹریل کا منظر  (فائل تصویر: اے ایف پی)

’ٹریل فور یا سِکس؟‘ عائشہ تنظیم نے گروپ میں سوال رکھا۔ ’ٹریل فور،‘ میں نے جواب دیا۔

ساری دنیا سے لاک ڈاؤن ختم ہو جائے گا مگر مارگلہ کی پہاڑیوں سے گزرنے والی سڑک پر پھر بھی باقی رہے گا۔ آج بھی ہمیں روک دیا گیا۔ متبادل راستے پر 40 منٹ چلتے ہوئے ہم ٹریل فور پر پہنچے۔ اس ٹریل کی برائی یہ ہے کہ خاردار جھاڑیوں سے یہ بھری رہتی ہے۔ لیکن اگر آپ ٹانگوں کے ساتھ ساتھ کمر اور رانوں کی ورزش بھی چاہتے ہیں تو یہی برائی اس ٹریل کی خوبی بن جاتی ہے۔ میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی۔

اس دن ٹریل فور آنے والوں پر کچھ زیادہ خار کھائی ہوئی تھی۔ ہر موڑ پر ایک درخت ’اوور مائی ڈیڈ باڈی‘ کا نعرہ لگا کے رستے میں لیٹا ہوا تھا۔ جس نے گزرنا ہے ہماری لاش پر سے گزرے۔ کانٹوں بھری ہر شاخ ہمیں کاٹ کھانے کو جیسے آج دوڑ رہی تھی، پہلے کبھی نہیں دوڑی۔

چشمِ قاتل میری دشمن تھی ہمیشہ لیکن / جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی

بجا طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسا ہی تھا تو پھر ہم واپس کیوں نہیں لوٹے؟ بات یہ ہے کہ جتنا راستہ ہم کاٹ کر یہاں تک پہنچے تھے، اس پر واپس جاتے تو راستے ہمارا مذاق اڑاتے۔ دوسرا، ہر قیامت کے بعد خیال یہ ہوتا تھا کہ یہ آخری قیامت تھی۔ مگر ہر دوسرا موڑ ہمیں منیر نیازی کا شعر یاد دلا رہا تھا

 اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو / میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

علی احمد جان غائبانہ پولیس اہل کار کو کوستا رہا کہ اس نے ہمیں جانے دیا ہوتا تو وقت اور توانائی دونوں بچ جاتے۔ اروما اس بات پر خود کو کوستی رہی کہ جب میں اچھی خاصی گھر بیٹھی مووی دیکھ رہی تھی اور ایک بار نہ جانے کا خیال بھی آیا تھا تو پھر تقدیر کے کس مارے نے مجھے کاٹا تھا کہ سٹِک اٹھا کے چل پڑی۔

میں انہماک کے ساتھ عائشہ سے اُس کی ایک رپورٹنگ کی ہوشربا داستان سن رہا تھا۔ یہ افغانستان جیسے جنگ زدہ علاقے کی صحافتی داستان ہے جہاں اس نے برقع در برقع ان علاقوں تک رسائی حاصل کی جہاں داعش کے ہرکارے گلا کاٹنے سے کم پر راضی نہیں ہوتے تھے۔ فکر کی کوئی بات اب اس لیے نہیں تھی کہ ہم پہاڑ کے آخری سرے پر پہنچ چکے تھے۔ ہمیں تلہاڑ روڈ نامی سڑک پر پہنچنا تھا اور وہ اب اتنی قریب تھی کہ اگر ہاتھ بڑھاتے تو دامن ہاتھ میں آ جاتا۔

وقت بہت کم تھا، زیادہ دیر سستانے سے ہم نے گریز کیا۔ عائشہ نے کہانی جاری رکھتے ہوئے کہا: ’اچھا اب بڑا مسئلہ یہ تھا کہ میں عورت تھی اور مبینہ طور پر گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھا شخص میرا شوہر تھا، تو میں پورے راستے کہیں باتھ روم کے لیے اتر نہیں سکتی تھی۔ ایسے میں ظاہر ہے پانی پینے کا رسک نہیں لیا جا سکتا تھا۔ تو میں نے کابل سے جلال آباد تک کا راستہ چیونگم چباتے ہوئے کاٹا۔ کہانی یہاں پہنچی تو مجھے ایک کانٹا ایسے چبھا کہ جان حلق میں آ گئی۔ پاؤں اٹھا کر دیکھا تو درختوں کے تنوں اور شاخوں پر اچھلنے کی وجہ سے میرے جوتے کا آدھا تلوا پھٹ کے الگ ہوچکا تھا۔ شعر بھلے خدائے سخن میر تقی میر کا نہ بلکہ منور خان غافل کا ہو، مگر ہے اچھا اور برمحل:

تیز رکھنا سرِ ہر خار کو اے دشتِ جنوں / شاید آ جائے کوئی آبلہ پا میرے بعد

اس راستے کی ویرانی بتا رہی تھی کہ آخری بار یہاں سے غافل صاحب ہی مارے غفلت کے گزرے ہوں گے۔ گزرتے ہوئے ضرور انہیں یہ احساس ہوا ہو گا کہ میرے بعد شاید ہی اس ویرانے سے کوئی گزرے گا۔ پابجولاں چلے جا رہے تھے کہ اچانک علی احمد جان نے رک کر کہا: ’ویسے یہ ہم نیچے کیوں آ گئے ہیں؟‘

سب نے ایک دوسرے کو دیکھا اور بیک آواز کہا: ’واقعی ہم نیچے کیوں آ گئے ہیں؟`

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اروما کی آنکھوں میں ذرا مختلف سوال تھا۔ جیسے وہ کہہ رہی ہو: ’اگر ہم بھٹک گئے ہیں تو کیا اب ہمیں واپس اوپر جانا ہو گا؟ نہیں، ایسا تو ہرگز نہیں ہونے والا۔‘

اسی راستے پر چلتے رہنے کا فیصلہ اس لیے درست تھا کہ یہ راستہ خار دار جھاڑیوں سے بالکل پاک صاف تھا۔ سارے راستے اسی بات پر حیرت کا اظہار ہوتا رہا کہ ایسی ہموار پگڈنڈی تو ان پہاڑوں میں ہم نے آج تک نہیں دیکھی۔ یہ حیرت ابھی جاری تھی کہ احساس ہوا کہ یہ راستہ سیدھا ضرور ہے مگر ٹھیک نہیں ہے۔ دھیان اس بات کی طرف گیا کہ مشکیزوں میں پانی کی ایک بوند بھی باقی نہیں بچی۔ ہمارے پاس تو چیونگم بھی نہیں ہیں۔

یہاں ٹوٹے ہوئے درختوں اور پھیلی ہوئی گھنی جھاڑیوں نے راستہ روک رکھا تھا۔ اس کے اوپر سے یا دائیں بائیں سے گزرنا کسی صورت ممکن نہیں تھا۔ دور پہاڑ کی اوٹ میں سورج تو کب کا اتر چکا تھا اب شفق کی سرخی بھی بجھ گئی تھی۔ پرندے لوٹ کے آشیانوں کی طرف جارہے تھے۔ چاند ابھر رہا تھا اور جانوروں کی چہل پہل ختم ہو رہی تھی۔ جنگل میں پر اسرار سی خاموشی پھیل گئی تھی

چاند کا پتھر باندھ کے تن سے منظر اتری خواب میں چپ / چڑیاں دور سدھار گئیں اور ڈوب گئی تالاب میں چپ

دائیں بائیں کی اونچائیوں پر چڑھ کے جھاڑیوں کے اس پار روشنی ماری۔ اندازہ ہوا کہ اس رکاوٹ کو کسی بھی طرح اگر عبور کرلیا جائے تو ایک ہموار راستہ ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ عائشہ نے کمر باندھی، گھٹنے زمین پر ٹیکے، کہنیاں جمائیں اور جھاڑیوں کے نیچے سے رینگتی ہوئی اکیلی اس پار نکل گئی۔ اس کے بعد خواستہ نخواستہ لوگ رینگتے گئے اور قافلہ بنتا گیا۔

اتنی دیر میں جنگل کی خاموشی ٹوٹ چکی تھی اور کیڑے مکوڑوں کی چُرمُر آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں۔ اندھیرا اتنا بڑھ چکا تھا کہ ایک قدم راستہ بھی سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ یہاں سے ایک نئی مشکل پیدا ہو گئی۔ بتیاں روشن کرو تو نسل نسل کے حشرات ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے نیٹو نے ہلمند پر سارے ہیلی کاپٹر ایک ساتھ چھوڑ دیے ہوں۔

بتیاں بجھاؤ تو اندھیرے میں گہری کھائی منہ کھولے بیٹھی ہے۔ وہ جو غالب عشق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں نا کہ یہ وہ آتش ہے جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے، بالکل وہی صورت حال پیدا ہو گئی۔ ہمارے پاس فضائی دستوں کا مقابلہ کرنے کے لیے وسائل تھے اور نہ ہی بتیاں بجھا کر ایک جگہ بیٹھے رہنے کا حوصلہ تھا۔ فیصلہ ہوا کہ برقی دیے روشن کیے جائیں اور ہواؤں کو برداشت کیا جائے۔

کچھ دیر چلنے کے بعد ہمارے سر اور کاندھے حشرات کا ہیلی پیڈ بن چکے تھے۔ تین ہیلی کاپٹر اترتے ہیں چار اڑان بھرتے ہیں۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر دو چار پروازیں جب ایک ساتھ کان کے پاس ایکسیلیٹر مار کے گزرتی ہیں تو دماغ کی چولیں ہل جاتی ہیں۔ ایک معراج طیارے جیسا ماڈل یومِ دفاع والی قلابازیاں مارتا ہوا آیا اور میری شرٹ کے اندر کہیں گر گیا۔ اس کو ڈھونڈنے کے لیے دوچار رضا کار حشراتی بھی آئے۔ میرے گریبان سے ہوتے ہوئے وہ بھی علاقہ غیر میں اتر گئے۔ کچھ رضاکار تو مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے ممنوعہ علاقے تک بھی گئے۔ اب چلے تو گئے مگر واپسی کا راستہ بھول گئے۔ اس کے بعد اُن کے ساتھ وہی کچھ ہوتا رہا جو پچھلے پانچ گھنٹوں سے ہمارے ساتھ ہو رہا تھا۔ ہم بھی مسافر تم بھی مسافر!

اسی اثنا میں میرے فون کی بیٹری چراغِ سحر کی طرح پھڑ پھڑائی اور دم توڑ گئی۔ اندھیرا ہوا تو سارے پروانے ایک ایک کر کے اڑ گئے۔ میں اپنے پیشروں کے نقشِ قدم پر تیز تیز چلنے لگا۔ اذان کی آواز بتا رہی تھی کہ ہم درست سمت میں جا رہے ہیں۔ موٹر سائیکل کی آواز کہہ رہی تھی کہ ہم کسی سڑک کے بالکل قریب ہیں۔ راستے میں پڑی پانی کی خالی بوتل نے تسلی دی کہ زندگی کا یہاں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ پریشانی بس یہ تھی کہ گھر پر خیریت کی خبر کیسے دوں، موبائل تو بند ہو گیا ہے۔ سوچ ہی رہا تھا کہ قافلہ اچانک رک گیا۔ پتہ چلا کہ میرا موبائل ہی بند نہیں ہوا راستہ بھی بند ہو گیا ہے۔

ہم اسی نازک موڑ پر آ گئے تھے جس سے پاکستان پچھلے 70 سالوں سے گزر رہا ہے۔ اس موڑ پر کوئی وزیر اعظم بھی اگر کہتا کہ گھبرانا نہیں ہے، تو بھی دل نے گھبرانا ہی تھا۔ انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں۔ اس موڑ کی دشواریوں کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ علی احمد جان جیسے کوہ پیما کے اعصاب بھی چٹخ گئے۔ تین افراد کے بوجھ نے علی جان کو بری طرح سے تھکا دیا تھا۔ اتنا کہ ازراہ مزاح کوئی جملہ اچھالتا تو علی جان نقدو نقد جھاڑ پلا دیتا۔ خدا کا واسطہ ہے سنجیدہ ہو جاؤ یار!

میں اس موقع پر کوئی رہنمائی اس لیے بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس موڑ کا اور کسی سمت کا مجھے اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ ہم کہاں ہیں، جو سڑک پاس سے گزررہی ہے کون سی ہے، ہم شہر سے کتنے کلومیٹر دور ہیں، ان سوالات میں سے کسی کا جواب میرے پاس نہیں تھا۔ اروما کے حالات مجھ سے زیادہ پتلے تھے۔ قیادت عائشہ تنظیم کے ہاتھ میں چلی گئی اور کس کے ہاتھ میں جاتی۔ یہی تھی جس کے اعصاب قابو میں تھے اور راستے نظر میں تھے۔

نہ صرف یہ کہ اسے ہر سمت کا بھرپور اندازہ تھا بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کا سلیقہ بھی تھا۔ پورے تحمل سے سب کی رائے سنتی پھر اپنی رائے رکھتی اور فیصلہ کرتی۔ پھر عائشہ ہی تھی جس کے پاس من کی ہر مراد پوری کرنے والی زنبیل تھی۔ بے بسی سے ضرورت کی کسی چیز کا کوئی نام لیتا ہے وہ عائشہ کی زنبیل سے نکل آتی ہے۔ ماچس سے لے کر کمبل تک کیا کچھ تھا جو اس کے بیگ میں نہیں تھا۔ ایک ایک کر کے جب سارے موبائل دم توڑ گئے تو اس کے بیگ سے پاور بینک نکل آیا۔ باری باری سارے چراغ بجھ گئے تو ماتھے پہ ٹِکانے والی بتی نکل آئی۔ ہمارے حلق پیاس سے خشک ہو گئے تو رگِ جاں میں ٹھنڈی روح پھونکنے والی چیونگم نکل آئیں۔ جب سوال پیدا ہوا کہ اگر رات یہیں گزارنی پڑ گئی تو پیٹ کو دھوکہ کیسے دیں گے تو عائشہ کے بیگ سے خشک میوے نکل آئے۔ یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے!

ہمارے سامنے ہر طرف خاردار جھاڑیاں ہیں۔ ہو نہ ہو راستہ انہی جھاڑیوں میں کہیں چھپا ہے۔ جھاڑیوں میں گھس کے راستہ ڈھونڈ نکالنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی۔ ایک طرف کی جھاڑیوں میں دور تک کہنیاں گھٹنے چھلوا کے واپس آ گیا، راستہ نہیں ملا۔ دوسری طرف کی جھاڑیوں میں رینگتے ہوئے دور تک گیا تو ایک ہولناک احاطے میں نکل آیا۔ یہاں راستہ تو نہیں ملا ایک سُور مل گیا جو دنیا جہاں سے بے خبر سو رہا تھا۔ امتیازی سلوک کی وجہ سے مجھے اس جناور سے کچھ ہمدردی ضرور ہے مگر اِس سے حُسنِ سلوک کی توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی۔ میں سانس روک کر کھڑا ہوا اور چارلی چپلن کی طرح دبے قدموں ریورس گیئر میں چل پڑا۔ جھاڑیوں کے نیچے ہوتے ہی الٹے گھٹنوں رینگتے ہوئے ایسی دُڑکی لگائی جیسے کڑی کمان کا تیر چھوٹ گیا ہو۔ دوسری طرف نکلا تو علی جان نے پوچھا: ہاں بھئی کیا بنا؟ ’راستہ نہیں ملا،‘ سر جھاڑتے ہوئے میں نے کہا۔

قیامت یہ ہوئی کہ آگے کا راستہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے پیچھے کا راستہ ہاتھ سے نکل گیا۔ آدھے گھنٹے بعد واپسی کا راستہ ملا تو بمشکل 40 قدم ہی چڑھے اور ایک طرف بیٹھ گئے۔ عائشہ اپنا فون اٹھاکر دور کہیں سگنل پکڑنے نکل گئی۔ عائشہ کا فون بھی اب آخری دموں پر تھا۔ بمشکل تمام اس نے گروپ کے دوستوں کو سمت سمجھائی اور ساتھ ہی اپنی لوکیشن بھیجی جس کی سوئی آدھے گھنٹے پہلے کے کسی مقام پر اٹکی ہوئی تھی۔

تھکے ہارے مسافر مایوسی کے عالم میں اپنی اپنی لاٹھیوں پر ٹھوڑی ٹِکاکر بیٹھے تھے کہ دور جنگل میں ایک آواز ابھری اور جنگل کے بیچ میں کہیں ڈوب گئی۔ خدا خبر یہ کیا آواز تھی مگر دلِ گم راہ میں ہولے سے بادِ نسیم چل گئی۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد یہ آواز پھر سے ابھری۔ جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے۔ پورے دل سے اٹھی ہوئی ایک آواز پھر سے اٹھی اور ساتھ ہی درختوں کے پار کوئی بتی چمکی۔ جیسے بے وجہ بیمار کو قرار آ جائے۔

 ہم نے لاٹھیاں اٹھائیں اور واپس نیچے نازک موڑ کی طرف لپکے۔ یہاں آواز صاف سنائی دینے لگی۔ میں نے آواز کا جواب دیا مگر سمت پکڑائی نہیں دی۔ لپک کے میں نے عائشہ سے ماتھے والی لائٹ لی اور لاٹھی کے سرے پر لگا کے درخت کی ایک شاخ پر چڑھ گیا۔ آواز آئی: ’بس ہم نے دیکھ لیا یہاں سے ہلنا نہیں ہے۔‘

سامنے اونچائی سے ایک بتی اتری ہے جو ہماری طرف آ رہی ہے۔ بتی کیا آرہی ہے، سمجھو کہ جان میں جان آرہی ہے۔

بتی پہنچی تو یہ محکمہ جنگل کا کوئی ملازم تھا۔ پہنچتے ہی پانی کی بوتل پکڑائی کہ پہلے پانی پیو۔ رگیں تر ہوئیں تو ہم رہبر کی رہنمائی میں چل پڑے۔ اس نے جہاں سے راستے نکالے ہم دو دن میں بھی نکال نہ پاتے۔ صرف پندرہ منٹ میں ہم سڑک پر پہنچ گئے تھے۔ گروپ کے تقریباً سبھی دوست کھڑے تھے۔ پولیس اہل کار، محکمہ جنگلات کے ذمہ دار اور دیگر لوگ موجود تھے۔ کوئی گلے لگائے، کوئی جملہ اچھالے اور کوئی چٹکی بھرے۔

فخر، ایاز اور سکھیرا کا اس بات پر اتفاق تھا کہ اگر میسج میں سمت نہ سمجھائی گئی ہوتی تو ہم نہیں پہنچ سکتے تھے۔ یہ سن کر مجھے خیال آیا کہ اس پورے وقت میں اگر چیونگم نہ ہوتی تو کیا ہوتا۔ ماتھے پر ٹکنے والی آخری بتی نہ ہوتی تو کیا کرتے؟ دوستوں کو لوکیشن اور آخری پیغام بھیجنے کے لیے پاور بینک نہ ہوتا تو کہاں جاتے؟ جب یہ سوچتا ہوں تو سمجھ آنے لگتا ہے کہ کرونا جیسی وبا کے خلاف ان ممالک کی جنگ کیوں کامیاب رہی جن کی سربراہی عورتوں کے پاس ہے۔ ہر منظر میں نمایاں نظر آنے والے عالمی رہنما مردانہ کمزوری کا اشتہار کیوں بنے ہوئے ہیں۔

سننے میں ہمیشہ یہ آیا ہے کہ عورتوں کی وجہ سے عذاب آتے ہیں۔ دیکھنے میں البتہ یہ آیا ہے کہ عورتوں کی وجہ سے عذاب ٹلتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ