نانا جی کی لاٹھی اور دم گھٹنے سے مرنے والے جن

اباسین کے کنارے پر واقع ایک دور دراز گاؤں کے بزرگ کا واقعہ جن کے قبضے میں جن تھے۔

(استاد اللہ بخش مصور)

زندگی کی دوڑ میں نانا میرے لیے بھولی بسری سی داستان بن گئے تھے۔ جب سے وبا پھیلی ہے وہ گھڑی گھڑی میرے سامنے آکر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ خاص طور سے تب کہ جب جنگل میں برگد کے کسی بوڑھے درخت کے پر اسرار سے سائے میں بیٹھنا ہوتا ہے۔

میرے نانا فرید باچا نے تورغر کالا ڈھاکہ میں اباسین کے کنارے جنم لیا، وہیں کی خاک میں نمک ہو گئے۔ آنکھ کی آرتی اتارنے کو ان کی کوئی تصویر بھی نہیں ہے۔ دوسروں کی معرفت سے سنا دوسروں کی نسبت سے جانا۔ ابھی بچہ تھا کہ کان میں کہیں سے یہ آواز پڑی کہ جنات کا ایک حلقہ نانا کی شاگردی کرتا تھا۔ اس بات نے نانا کو پرستان کا لاشریک بادشاہ بنا کر میرے دل میں کھڑا کردیا۔ مسلم بچہ اول اول خدا کو قہر وغضب کی ماری ہوئی کسی مردانہ صورت میں تصور کرتا ہے۔ میں نے اپنے خدا کو نانا کی اُس دھندلی سی تصویر میں تصور کیا تھا جو خدا سے بھی پہلے میرے لاشعور کے پردے پہ نقش تھی۔ ہمارے ہاں خدا کو اگر ماں کی صورت میں متصور کیا جاتا تو ہم طبعیت کے بہت مختلف لوگ ہوتے، لیکن خیر وہ الگ معاملہ ہے۔

تو خیر، میرے ایک تایا عالمِ دین تھے اور آگرہ و دلی کے پڑھے ہوئے تھے۔ آہستہ بولتے تھے اونچا سنتے تھے۔ سماعت کے لیے کان میں ایک قدیمی مشین لگائے رکھتے تھے۔ ریکارڈنگ کے دوران کیمرے کے سامنے کسی کو مائک کا تار قمیص کے نیچے سے گزار کر کالر کے پاس سے نکالتا ہوا دیکھتا ہوں تو تایا کی مشین یاد آجاتی ہے۔ ان سے مجھے اللہ واسطے کا لگاو تھا۔ حالانکہ چچاؤں میں وہ واحد تھے جو ہم بچوں کو پیسے دیتے تھے نہ چیز دلاتے تھے۔ اب پلٹ کے دیکھتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان سے لگاؤ کی وجہ ان کی خوش علمی تھی۔ منہ سونگھنے، دھڑکنیں گننے اور جوتوں سمیت آنکھ میں اترنے کی وہ کوشش نہیں کرتے تھے۔

ماں جی نے جب بتایا کہ تمہارے یہ تایا تمہارے نانا کے بہت قریب تھے تو وہ میرے دل کے قریب ہو گئے۔ بابا ہمارے جلالی تھے، ان کے سامنے دم لینا مشکل تھا۔ کہیں کسی کام کو نکل جاتے تو تایا کی چارپائی پہ میں چڑھ جاتا۔ ان کی قمیص کے نیچے سے مشین نکالتا اور مائیک کی طرح منہ کے پاس رکھ کے کہتا، چلیے نانا کی کہانیاں سنائیے۔ وہ کہانیاں سناتے، میں بیٹھا انتظار کرتا کہ جنات کا ذکر کب آئے گا۔ اب اندازہ ہوتا ہے کہ جنات والے قصوں میں میری دلچسپی دیکھ کر بہت ساری کہانیاں انہوں نے موقعے پر ہی گھڑ لی تھیں۔ وہ اور بابا اب کراچی کے ڈالمیا قبرستان میں پہلو بہ پہلو سورہے ہیں۔ جب کبھی جانا ہو تو پہلے کچھ دیر بڑے ادب سے بابا کے ساتھ بیٹھتا ہوں۔ پھر تایا کی طرف بڑھتا ہوں تو دل ہنس کے پکارتا ہے، ہائے میرے اسد محمد خان!

نانا چوڑے ہاڑ کے طویل قامت شخص تھے۔ قمیص چوڑی اور پائنچے کھلے ڈھلے ہوتے تھے۔ پورے آٹھ فٹ کا ایک آڑھا ٹیڑھا سا عصا ہمیشہ ساتھ لیے پھرتے تھے۔ جرگے کچہری کے آدمی تھے۔ دور پہاڑوں میں کہیں گولی چلتی تو یہاں بے چین ہوجاتے۔ صلح صفائی کے لیے گاؤں گاؤں جوتیاں چٹخاتے تھے۔ فریقین کی بندوق جب تک خاموش نہ ہو جاتی واپس نہیں لوٹتے تھے۔ ان کی اپنی زمین پر رہنے والا ایک چرواہا اپنے بیٹے پر تاؤ کھا گیا۔ صلح صفائی کی ہر کوشش کو جب اس نے مسترد کردیا تو نانا نے اپنی پگڑی اتار کے اس کے پاوں میں رکھ دی۔ چرواہے نے بیٹے کی جان بخشی کی تو ہی نانا نے سکون کا سانس لیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غصے کے تیز تھے مگر طبعیت کی ڈور ہاتھ میں رکھتے تھے۔ خان کے اٹھائی گیر نے دریا کے کنارے ایک دہقان کو روک لیا کہ لکڑیاں کہاں لے جارہے ہو؟ نانا نے رک کر بات سمجھانے کی کوشش کی مگر ناہنجار ہتھے سے اکھڑ گیا۔ دہقان کے گریبان میں اس نے ہاتھ ڈالا تو نانا کا پارا چڑھ گیا۔ کان کے نیچے الٹے ہاتھ کی ایک چپت لگائی تو بھرم وہیں ڈھیر ہو گئے۔ کندھے کی چٹخی ہوئی ہڈی پکڑ کے ایسا بھاگا کہ رک کے پانی بھی نہیں مانگا۔ خان سے شکایت کی تو بھنا کے اس نے نام پوچھا۔ نام سامنے آیا تو خان کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ بولا، ’تمہی نے کچھ کیا ہی ہو گا ورنہ باچا جی کا ہاتھ کسی بندہ بشر پہ اٹھ جائے، ایسا کبھی ہوا نہیں ہے۔‘

والیِ سوات اور تھاکوٹ خان کے بیچ ایک بار سینگ اڑ گئے۔ نانا بیچ بچاؤ کے لیے پہلے تھاکوٹ گئے اور پھر آٹھ پہاڑوں کی مسافت کاٹ کر سوات پہنچ گئے۔ علاقہ غیر کے ایک بے نام و نمود گاؤں سے کسی ہُما شُما کا اٹھ کے ظل سبحانی کے دولت کدے پہ آنا بڑی جسارت تھی۔ والی صاحب بھی کچھ کم سخی بادشاہ نہ تھے۔ جاہ و جلال ایک طرف رکھ کر انہوں نے اجڑے حال شخص کی بات سنی اور کہا، ’تمہارے خلوص کا مجھے پاس ہے۔ جیسے تم کہو، میں حاضر ہوں!‘

اس طرح کے منتشر خاکے اور کہانیاں مجھ تک پہنچیں تو نانا کبھی کچھ تو کبھی کچھ بن کر تصور میں آنے لگے۔ آنکھ چھوٹی تھی تو وہ مجھے بابل شہر میں ہاروت سے بچھڑے ہوئے ماروت لگتے تھے۔ آنکھ کے دائرے کچھ پھیلے تو وہ جرگے میں کھڑے باچا خان لگتے تو کبھی جنگل میں دھونی رمائے وردھمان مہاویر محسوس ہوتے۔ کبھی متانت بھری خاموشی والے بدھا بن جاتے اور کبھی بڑے عصا والے حضرت موسیٰ کی شبیہ بن کر ظاہر ہوتے۔ کنفیوشس کا روپ دھار کر وہ کتنی بار کسی بادل کی طرح میرے سامنے سے گزرے ہیں۔

سات یا آٹھ سال کی عمر میں جب گاؤں گیا تو پہلی بار شام کے منظر کو تہہ در تہہ خاموشیوں کی صورت میں اترتے دیکھا۔ شام مزید گہری ہوئی تو زندگی کا شور بیٹھنے لگا اور دریا کا شور بڑھنے لگا۔ یوں محسوس ہوا کہ تاریک رات کے سناٹے میں گہری خاموشی آہستہ سے سانس لے رہی ہے۔ درختوں کے بیچ سے ہوا کی لہریں سر سراہتی ہوئی گزریں تو یقین ہو گیا کہ اس علاقے میں جنات کا بسیرا ہے۔ اس عالم میں ہم رات پہاڑوں کے بیچ کچے مکان کی چھت پر سوئے۔ تاروں بھرے آسمان میں تصویریں بناتے ہوئے ایسا لگا کہ کوئی جن میرے سرہانے کھڑا ہے۔ ابھی کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے گا، گھبراؤ مت میں تمہارے نانا کا شاگرد ہوں۔ پھر دیر تک وہ بیٹھ کر مجھے نانا کی کہانیاں سنائے گا اور میں مبہوت ہوکر سنتا رہوں گا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ ہلکا سا سر اٹھا کر پیچھے دیکھا کہ جن کہیں کھڑا ہی نہ ہو۔ نظر نہ آیا تو دل نے کہا، کھڑا تو ہے مگر بتا نہیں رہا۔

ایک زمانے تک تو جنات کے سحر میں اس لیے رہے کہ ہم انہیں چھو نہیں سکتے تھے۔ جیسے فراز نے کہا تھا، جسے ہم چھو نہیں سکتے اس کو خدا کہتے ہیں۔ پھر وقت آیا کہ ایک ایک کر کے نانا کے سارے جنات میری عقل دانی میں دم گھٹنے سے مر گئے۔ مر جانا ہی ان کے لیے بہتر تھا۔ ایسی بلائے جان کا کیا کرنا جسے چھوا جا سکتا ہے اور نہ دیکھا جا سکتا ہے۔ صرف نانا کی ایک لاٹھی اور ایک تلوار تھی جسے اپنے دل دماغ میں میں نے باقی رکھا کہ لکڑی لوہا کوئی وہم نہیں ہے۔ نانا کی ایک سو تیس سالہ پرانی اسی کٹیا میں ان دو چیزوں کو میں دیکھ بھی چکا تھا اور چھو بھی چکا تھا۔ یوں سمجھیے کی جوش ملیح آبادی کی طرح یقین کا ہم نے بھرم رکھ لیا اور گمان کو ہم نے جانے دیا۔ اقبال نے ایک بار ترنگ میں کہا تھا

خُوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر
مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر

نانا کی تلوار میں اس کے علاوہ کوئی خوبی نہیں تھی کہ وہ نانا کی یادگار تھی۔ مگر مجھے اس میں اب کوئی دلچسپی اس لیے نہیں رہی کہ تلوار اول و آخر تشدد اور خون ریزی کا حوالہ ہے۔ ٹھیک ہے اس کا ایک پہلو حفاظت کا بھی ہو گا، مگر ہم میسور کے کسی قلعے کے باسی ہیں اور نہ ٹیپو سلطان کے لشکری ہیں۔ ہم اپنے دور اور زمانے کے آدمی ہیں جہاں کسی دیوان کے باہر ارطغرل کا گھوڑا پارک نہیں ہو سکتا۔

 لاٹھی کا معاملہ یہ ہے کہ سہارا اس کا بنیادی حوالہ ہے۔ پھر جب سے وبا کے دن آئے ہیں طبعیت کھینچ کے ہمیں جنگل اور پہاڑوں کی طرف لے گئی ہے۔ جھاڑیوں، پرخار راستوں اور پگڈںڈیوں سے گزرتے ہوئے نانا یاد آئے تو ساتھ ان کی لاٹھی بھی یاد آئی۔ تب اس لاٹھی پر تو سمجھو نظر ہی جم گئی جب علی احمد جان کی دی ہوئی لکڑی کی لاٹھی دھوکہ دے گئی۔ علی جان نے اپنی بیش قیمت سٹِک دے کر ایک صاحب سے زیتون کی یہ لاٹھی ہتھیائی تھی۔ میری طرح علی جان بھی لکڑی مٹی کے آدمی ہیں۔ میٹل کی بنی ماڈرن سٹِک بھی اچھی چیز ہے مگر جنگلوں میں یہ ایک ماحولیاتی بداخلاقی معلوم ہوتی ہے۔ مٹی کے دیے میں بلب کون جلاتا ہے۔

 جنگل میں لکڑی کی لاٹھی اللہ کی لاٹھی کی طرح بے آواز اور عصائے موسیٰ کی طرح ہر مسئلے کا حل ہوتی ہے۔ یہ ٹھیک اور غلط کی بات نہیں ہے، بس پسند نا پسند کا معاملہ ہے۔ سچ پوچھیے تو جدید میٹل سٹِک کے فوائد بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ خدائی رضاکار آپ کی عمر اور تنخواہ کے بارے میں اندازے نہیں لگاتے۔ جسے دیکھو دل جلانے آئے گا اور کہے گا، اِس عمر میں لاٹھی؟ ہائکنگ سٹِک لے لو اتنی بھی مہنگی نہیں ہوتی!

 وبا نے نو روز کے میلے تو پہلے ہی بے رنگ و بےنور کر دیے تھے، عید کے جھمیلوں میں بھی اس نے اداسی کے رنگ بھر دیے تھے۔ موقع اچھا تھا، ہم اپنے آبائی وطن تور غر چلے گئے۔ دل میں ایک بڑا چور یہ تھا کہ نانا کی آٹھ فٹ والی آڑھی ٹیڑھی لاٹھی بھی اٹھا لاؤں گا۔ بڑے ماموں سے پوچھا کہ نانا کی بچی ہوئی یادگاریں کیا ہوئیں۔ پتہ چلا کہ گھڑی ایک برخوردار نے گم کر دی ہے، تلوار اور لاٹھی ماموں زاد نے ہزار روپے کی بیچ دی ہے۔ کیا مطلب، س نے تلوار اور لاٹھی ہی بیچ ڈالی؟ کیسا سفاک آدمی ہے یہ؟ اس ظالم نے تو بارش کے پانیوں میں کھڑی کاغذ کی کشتیاں بھی بیچ دی ہوں گی۔ اپنے حال پہ چھوڑ دینا اور بات ہے، مگر بچپن کا ساون اور ماضی کا مزار نیلام کون کرتا ہے؟ پھر میں نے خود کو تسلی دی۔ کچھ تو ایسی مجبوری رہی ہو گی کہ بندہ عاجز نے لمس ہی بیچ ڈالا۔  

وبا کے دنوں میں جن چیزوں کا مجھے سہارا ہے ان میں سے ایک کرکٹ کا بلا بھی ہے۔ پچھلے دنوں میں نے پیٹ کا رقبہ گھٹا کر گھر کا رقبہ بڑھا لیا۔ پورچ اتنا بڑا اور کھلا ہے کہ امبروز والی بالنگ اور رچرڈ والی بیٹںگ آرام سے ہو جاتی ہے۔ موقع ہو اور دستور ہو تو آپ دوستوں سے کتاب، پرفیوم، پینٹنگ، گھڑی اور کپڑے جیسے تحائف کی توقع کر سکتے ہیں، مگر یونہی بے موقع اور بے دستور کوئی آپ کو بلا بھجوا دے تو آپ کیا سوچیں گے؟ سوات کے ایک خاموش اور اجنبی دوست عرفان الدین نے مجھے بلا بھجوایا تو حیرت میں پڑگیا کہ بلا ہی کیوں؟ مجھے کرکٹ پسند ہے مگر اس درویش کو کیسے پتہ؟ یہ بات تو میرے دل سے ابھی زبان پر آئی بھی نہیں ہے کہ مجھے ایک پائیدار بلے کی ضرورت ہے۔

پچھلے دنوں بھانجے نے گاؤں جاتے ہوئے کہا، یہ بلا مجھے دے دیں میرے چھوٹے بھائی کا بھلا ہو جائے گا۔ میں نے پیسے دے کر کہا، اسے نیا اور اچھا بلا خرید کر دے دو، اسے رہنے دو یہ بہت مہنگا ہے۔ بھانجے نے تفریح لیتے ہوئے کہا، جتنا بھی مہنگا ہو بنا تو لکڑی سے ہی ہے نا۔ ابے کمبخت مارے! لکڑی سے بنا ہوتا تو مسئلہ ہی کیا تھا۔ یہ محبت سے بنا ہے محبت سے۔

پچھلے دنوں عرفان الدین کا پیغام ملا کہ دور ایک پیڑ سے موٹی تازی لکڑی کاٹ کر لایا ہوں۔ دل میں آیا ہے کہ ایک لاٹھی بنا کر آپ کو بھجوا دوں۔ سوچیے ذرا، ایک شخص کسی کو لاٹھی ہی بنوا کر کیوں بھیجے گا؟ مجھے پھر حیرت نے گھیر لیا کہ اس ملنگ جان کو کیسے خبر ہوئی کہ مجھے لاٹھی کی تلاش ہے۔ کیا اسے اندازہ تھا کہ میں گئے وقتوں کی تلاش میں نکلا ہوا ہوں۔ کہیں یہ آدمی میری دنیا کا زعفر جن تو نہیں ہے جو نانا کے بچھڑ نے کے بعد سوات کے مرغزاروں میں آباد ہو گیا ہے۔

یہ آڑی ٹیڑھی اور مضبوط لاٹھی کچھ دن پہلے میرے پاس پہنچ گئی ہے۔ خوش نویس نے اس لاٹھی پر ایک مصرع لکھا ہوا ہے: نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ وبو

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ