مصطفیٰ زیدی: قتل یا خودکشی، سوال نصف صدی بعد بھی باقی

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟ مصطفیٰ زیدی کی 50 ویں برسی کے موقعے پر خصوصی تحریر

(پبلک ڈومین)

آج سے ٹھیک 50 برس قبل کا واقعہ ہے۔ پولیس، میجسٹریٹ اور محلے کے لوگ کراچی کے علاقے کے ڈی اے کے ایک فلیٹ کا دورازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے۔ یہ فلیٹ 24 گھنٹے سے بند تھا اور نہ دستک کا جواب مل رہا تھا اور کوئی اندر سے فون اٹھا رہا تھا۔

فلیٹ کے اندر ایک شخص کی لاش بستر پر پڑی ملی۔ ناک سے خون بہتا ہوا بستر پر ایک بڑے دھبے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ تکیے اور بستر کی چادر پر بھی خون کے دھبے تھے، ٹیلی فون الٹا پڑا تھا اور بستر پر فنائل کی گولیاں بکھری تھیں۔ ساتھ کے کمرے ایک خاتون بےہوش پڑی تھی جسے بعد کے اخباروں میں خوبرو،     قتالہ اور پیکرِ حسن و جمال قرار دیا گیا۔

یہ شخص اردو کا معروف شاعر مصطفیٰ زیدی تھا اور خاتون شہناز گل تھیں۔

مکان کی تلاشی لینے پر پولیس کو کچھ ایسے پمفلٹ ملے جن پر شہناز کی کچھ ایسی تصاویر تھیں جن پر صاحبِ طرز ادیب مختار مسعود نے اپنے مخصوص انداز میں روشنی ڈالی ہے:

’ایک شاعر افسر نے خودکشی کر لی۔ بعد مرنے کے اس کے گھر سے جو ساماں نکلا اس میں چند تصویریں بھی تھیں۔ چیف سیکریٹری اور گورنر کو ملاحظہ کے لیے پیش کی گئیں۔ چیف سیکریٹری پہلی تصویر پر لاحول پڑھ کر پرے ہو گئے۔۔۔ نیک دل حوصلہ مند گورنر نے ساری تصویریں غور سے دیکھیں اور ہر ایک پر باری باری بآوازِ بلند لاحول بھیجی۔ چیف سیکریٹری نے بار بار لاحول پڑھنے اور بھلائی حاصل کرنے کا موقع کھو دیا۔ گورنر سارا ثواب اور ساری تصویریں سمیٹ کر لے گئے۔‘  

ڈرگ روڈ کراچی کے تھانے میں ایف آئی آر کٹی۔ اس وقت کے اخباری تراشوں کے مطابق شہناز نے پولیس کو بتایا کہ مصطفیٰ زیدی اسے پسند کرتے تھے اور اس سے شادی پر اصرار کیا کرتے تھے، مگر میں انہیں ہمیشہ یہی جواب دیتی تھی کہ میں شادی شدہ ہوں، میرے دو بچے ہیں، آپ بھی شادی شدہ اور دو بچوں کے باپ ہیں، میں آپ کے ساتھ کیسے شادی کر سکتی ہوں، لیکن ان کا اصرار ہر ملاقات پر بڑھتا جاتا تھا۔

شہناز نے مزید کہا کہ وہ اتفاقاً مصطفیٰ زیدی سے ملنے کے لیے آئی تھیں، ملاقات کے دوران انہیں پیاس محسوس ہوئی، مصطفیٰ نے انہیں مشروب کا ایک گلاس دیا جسے پی کر وہ بےہوش ہو گئیں۔ ہوش آیا تو خود کو پولیس افسروں کے ہجوم میں پایا۔

اس زمانے میں الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا، ورنہ وہ بجلی کی کڑک کے ساتھ بریکنگ نیوز چلا چلا کر اور نیوز کاسٹر چِلّا چِلّا کر تھک جاتے، سوشل میڈیا نہیں تھا ورنہ ہر دن اس بارے میں ایک نیا ہیش ٹیگ بنتا۔ لیکن اس وقت اخبار ضرور تھے، انہوں نے حسبِ توفیق اس خبر کو مرچ مسالے لگا کر یوں پیش کیا اور یہ کیس پاکستان کی تاریخ کا چٹپٹا ترین قتل کا سکینڈل بن گیا۔

شہناز کی عدالت میں ہر پیشی، اور ہر سماعت کے موقعے پر ضمیے چھپتے، اخباروں میں ان کی قدِ آدم تصویریں چھاپی جاتیں، اور سفید پوش گھرانوں کے بزرگ گھر میں آنے والے اخباروں کو چھپا کر رکھتے کہ کہیں بہو بیٹیوں کی نظریں اس خبر پر نہ پڑیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بطورِ نمونہ ایک رپورٹر کا بیان دیکھیے جس نے شہناز کے بیان کی منظر کشی کچھ یوں کی: ’شہناز لالہ رخ نے، جو خود بھی اپنے حسن پر بہت نازاں معلوم ہوتی ہے، یہ مختصر سا بیان ماہر اداکارہ کی طرح بڑے ناز و انداز کے ساتھ قلم بند کرایا۔ بیان کے دوران وہ کبھی پلو بدلتی اور کبھی اپنی پریشاں زلفوں کے ساتھ خاص انداز سے چھیڑ چھاڑ کرتی تھی۔‘

اسی دوران خبریں ملیں کہ شہناز گل سمگلروں کے کسی بین الاقوامی ریکٹ کا حصہ ہے اور شاید زیدی کو اس گروہ کے خلاف کسی طرح کی معلومات حاصل ہو گئی تھیں، جس کی وجہ سے انہیں قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے شہناز کے خلاف سمگلنگ کے الزام میں بھی تفتیش شروع کر دی۔

دو سال تک مقدمہ چلتا رہا۔ بالآخر 26 مئی 1972 کو ڈسٹرک میجسٹریٹ کنور ادریس کی عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ مصطفیٰ زیدی نے خودکشی کی تھی۔ شہناز گل کو ناکافی ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا۔

شہناز گل کون تھیں؟

شہناز گل کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا۔ اخباری تراشوں کے مطابق وہ کالج کی خوش اخلاق، ہنس مکھ اور ہونہار طالبہ تھیں۔ وہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں اور اس بنا پر بہت مقبول تھیں۔ ابھی انہوں نے ایف اے کا امتحان بھی پاس نہ کیا تھا کہ لاہور کی ایک کاروباری شخصیت سلیم خان سے ملاقات ہوئی، جو 1961 میں اچانک اور خفیہ شادی پر منتج ہوئی۔ بغیر کسی تقریب ہونے والی اس شادی کو اس قدر خفیہ رکھا گیا کہ شہناز کی قریبی سہیلیوں تک کو اس کی اطلاع نہیں دی گئی۔

شادی کے بعد شہناز کی رسائی اونچے درجے کے ہوٹلوں اور کلبوں تک ہو گئی اور جلد وہی ہائی سوسائٹی کی شمع محفل بن گئیں۔ ایسی ہی کسی محفل میں ان کی ملاقات مصطفیٰ زیدی سے ہوئی اور دل پھینک شاعر ان پر فریفتہ ہو گئے۔

مصطفیٰ زیدی نے شادی شدہ ہونے اور دو بچوں کے باپ ہونے کے باوجود کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں رکھی اور شہناز کا نام لے کر خوب خوب شاعری کی۔ ان کے پسِ مرگ شائع ہونے والے مجموعے ’کوہِ ندا‘ میں شہناز کے عنوان سے ایک دو نہیں بلکہ چھ نظمیں ہیں۔ یہ دو شعر تو سب نے سن رکھے ہیں:

فن کار خود نہ تھی، مرے فن کی شریک تھی
وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی
اترا تھا جس پہ بابِ حیا کا ورق ورق
بستر کے ایک ایک شکن کی شریک تھی

لیکن ان کے علاوہ بھی شہناز کے نام اچھے شعر پائے جاتے ہیں:

لے چلی تھی مجھے ذروں کی طرح بادِ سموم
تو نے ہیروں کی طرح مجھ کو سنبھالا رکھا
اس پہ ممنوع تھی اک بوند کی فیاضی بھی
تو نے جس ہونٹ پہ کوثر کا پیالا رکھا

اور یہ بھی:

بزمِ ارواح تھی یا تیرے دہکتے ہوئے ہونٹ
واقعہ ہے کہ گماں تھا کہ یہیں تھا کوئی
شاعرو، نغمہ گرو، سنگ تراشو، دیکھو
اس سے مل لو تو بتانا حسیں تھا کوئی

قتل یا خودکشی؟

عدالت نے تو قرار دے دیا کہ زیدی نے خودکشی کی تھی۔ کہا گیا کہ شاعر آدمی ہے، پہلے بھی دو بار خودکشی کی کوشش کر چکا ہے اور دونوں بار عشق ہی کا معاملہ تھا۔ مسعود اشعر بھی زیدی کے اپنے ہندو ہم جماعت سروج سے عشق کا واقعہ بیان کرتے ہیں جب شاعر کا تکیہ ہجر میں روتے روتے بھیگ جاتا تھا۔

پھر یہ بھی ہے کہ زیدی زندگی اس طرح گزارتے تھے جیسے کہا جاتا ہے کہ موم بتی کو دونوں سروں سے جلانا۔ بظاہر انہیں اپنی زندگی کی کوئی پروا نہیں تھی۔ مسعود اشعر ہی نے لکھا ہے کہ مری کی پرپیچ سڑکوں پر بھی وہ اپنی گاڑی 60، 70 میل کی رفتار سے بھگایا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ کئی بار حادثوں کا بھی شکار ہوئے۔

مزید یہ کہ انہیں جہاز اڑانے کا بھی شوق تھا اور موت سے ایک سال پہلے ان کا جہاز کریش ہو گیا تھا، جس میں وہ معجزانہ طور پر بچ نکلے تھے۔

اخباروں میں مفروضے چھپے کہ شہناز نے جب شادی سے آخری بار انکار کیا تو زیدی اس کی تاب نہ لا سکے، اور انہوں نے زہریلی کافی پی کر موت کے درندے کی آغوش میں پناہ لینے ہی میں عافیت سمجھی۔

مزید یہ کہ زیدی یحییٰ خان کے مارشل لائی احکام کی زد میں آنے والے ان 303 بیوروکریٹوں میں شامل تھے جنہیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا اور ان کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کی جا رہی تھیں۔ زیدی اس سلسلے میں بےحد پریشان تھے، اوپر سے شہناز کا انکار آخری تنکہ ثابت ہوا۔

مزید یہ کہ فلیٹ کا دروازہ بھی اندر سے بند تھا، جسے پولیس توڑ کر اندر داخل ہوئی۔

لیکن اس مفروضے میں کئی جھول ہیں۔

  • موت سے چند گھنٹے قبل ان کے ایک دوست شاہد رضا ان سے ملے تھے اور ان کے بیان کے مطابق زیدی ہشاش بشاش لگ رہے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ شام کو ان کے ساتھ سوئمنگ کے لیے جائیں گے۔
  • زیدی کی بیوی ویرا اپنے دونوں بچوں کے ہمراہ جرمنی میں تھیں، اور زیدی بھی وہاں جا کر گارمنٹس کا کاروبار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ان کا پاسپورٹ مارشل لا سرکار نے ضبط کر رکھا تھا اور وہ سرتوڑ کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح پاسپورٹ انہیں مل جائیں۔ اسی دور میں ویرا اور اپنی بیٹی عصمت کے نام لکھے گئے خطوط سے اظہار ہوتا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں سے ملنے کے لیے کس قدر بےقرار تھے۔  
  • احمد ندیم قاسمی نے رسالہ افکار میں چھپنے والے ایک تعزیتی مضمون میں بھی خودکشی کے مفروضے کو رد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر زیدی نے خودکشی کرنی ہوتی تو وہ اس بارے میں کوئی تحریر ضرور چھوڑ کر جاتے۔
  • لیکن سب سے بڑا جھول تو زیدی کی موت کی وجہ ہے۔ اگر انہوں نے زہریلی کافی پی تھی تو ان کے بستر پر خون کا بڑا دھبہ کیوں تھا جو تصاویر میں بھی صاف نظر آ رہا ہے۔

ہم نے اس سلسلے میں مصطفیٰ زیدی کے بھیتجے حسنین زیدی سے بات کی، جو مصطفیٰ کے چھوٹے بھائی ارتضیٰ زیدی کے صاحبزادے ہیں۔

حسنین صاحب نے سیدھا سیدھا یحییٰ خان کو نامزد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ شہناز گل کے یحییٰ خان سے تعلقات تھے، جس کا پتہ مصطفیٰ زیدی کو چل گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ مصطفیٰ کی برطرفی کی وجہ بھی یہی تھی (اس کے علاوہ زیدی کے مارشل لا کے خلاف کچھ نظمیں بھی لکھی تھیں، جو اضافی وجہ ہو سکتی ہے)۔

حسنین صاحب کے مطابق اس قتل میں یحییٰ خان کا ہاتھ تھا، جنہوں نے اپنے غنڈوں کی مدد سے زیدی کو سر پر کسی بھاری آلے کی ضرب لگا کر قتل کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ پوسٹ مارٹم کے مطابق زیدی کا سر پچکا ہوا تھا، اور اسی لیے بستر پر خون بھی جما ہوا تھا۔

اس قتل کی وجہ وہ رقابت بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یحییٰ خان کی وجہ سے پولیس ڈھنگ سے تفتیش نہ کر سکی اور شہناز کو بری کر دیا گیا، حالانکہ وہ قاتلوں کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور انہی نے ممکنہ طور پر پہلے بےہوشی کی دوا ملی کافی پلا کر زیدی کو بےسدھ کیا تاکہ قاتل آ کر اپنا کام کر سکیں۔

لیکن یہ کہانی بھی اپنے پیچھے سوال چھوڑ جاتی ہے۔ اگر شہناز قتل کے منصوبے میں ملوث تھیں تو وہ واردات کے بعد وہیں کیوں رکی رہیں، قاتلوں کے ساتھ فرار کیوں نہیں ہو گئیں؟

پھر یہ کہ اگر ملک کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جیسے طاقتور شخص کو ایک عام شہری کو قتل کروانا تھا تو اس کے لیے شہناز جیسے آلۂ کار کو استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ کسی بھی کسی بھی طریقے سے زیدی کو اپنے راستے سے ہٹا سکتے تھے۔

اس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ شاید مصطفیٰ زیدی کا یہ سوال ہمیشہ تشنہ ہی رہے گا:

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے 

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ