پیرس کا تاریخی نوٹراڈام گرجا گھر آگ کی لپیٹ میں

فرانسیسی صدر ایمینویل میکرون کا گرجا گھر کو دوبارہ بنانے کا اعلان۔

نوٹراڈام کا مینار گرتے ہوئے۔ تصویر: اے ایف پی

صدیوں سے  پیرس کی رکھوالی کرنے والے نوٹرا ڈام کیتھڈرل نے اپنے آٹھ سو سے زائد سالوں کی زندگی میں کئی انقلابات اور سلطنتوں کے ابھرنے اور گرنے کا گواہ رہا ہے۔ مگر پیر کی رات صرف 63 منٹوں میں دنیا کی سب زیادہ دیکھی جانی والی عمارتوں میں شامل یہ تاریخی  کیتھیڈرل شدید آگ کی لپیٹ میں تھا اور اس کا مشہور لکڑی کا مینار جل کر خاکستر ہو گیا۔

خیال جا رہا ہے آگ حادثاتی طور پر بہالی کے کام کے دوران لگی۔ فائرفائٹرز آگ پر قابو پانے کی جد وجہد میں لگے رہے۔ جیسے جیسے آگ میں لپٹا تاریخی کیتھیڈرل نارنجی ہوتا گیا، ایک پولیس افسر نے صحافیوں سے کہا: ’سب گر رہا ہے۔‘

یہ وہ رات تھی جب فرانسیسی صدر ایمینویل میکرون کو مہینوں سے جاری سٹریٹ احتجاج سے متعلق قوم سے خطاب کرنا تھا۔ اس کی بجائے صدر میکرون نے خود کو دریاے سین کے کنارے اپنے ملک کی تاریخی قدیم ورثے کو جلتے ہوئے دیکھتے پایا۔

مقامی وقت شام سات بجے کے قیرب کیتھیڈرل سے شعلے اور دھواں آٹھنے لگا۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر اس کا مشہور لکڑی کا مینار گر چکا تھا اور پھر چھت بھی۔

کیتھولک چرچ  کے ترجمان نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ بارویں صدی کے گرجا گھر کا پورا لکڑی کا اندرونی فریم جل رہا تھا۔

پیرس کی بلدیاتی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ عبادت کی آس پاس کی جگہ کو آگ بجھانے کے آپریشن کے لیے خالی کروا لیا گیا ہے۔ پیرس کے رہائشی دور سے بس خوف میں دیکھتے رہے۔

پیرس کے ڈپٹی میئر ایمینویل گریگری نے کہا کہ آگ کے پوری طرح سے بجھ جانے سے ہی پہلے ایمرجنسی سرویسز نے کیتھیڈرل میں رکھے فن پاروں کو بچانے کا کام شروع کر دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

آگ لگنے کے کچھ گھنٹوں بعد پیرس کے ایک فائر چیف نے کہا کہ گرجا گھر کی ساخت کو تو بچا لیا گیا ہے مگر کیتھیڈرل کے کچھ حصے تباہ ہو گئے ہیں۔  

نوٹرا ڈام  کے باہر کھڑے حجوم سے مخاطب ہوکر صدر میکرون نے کیتھیڈرل کو دوبارہ بنانے وعدہ کیا۔ انہوں کہا کہ فرانسیسی حکومت گرجا گھر کی دوبارہ تعمیر کے لیے عطیات جمع کرنے کے لیے فنڈ  قائم کرے گی۔  

صدر نے کہا: ’آگ کچھ دنوں تک رہے گی۔ میں قوم کے جانب سے فائر فائٹرز کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘

’اس وقت بد ترین صورت حال ہونے سے بچا لیا گیا ہے۔ اگرچہ پوری عمارت تباہ نہیں ہوئی، آگے کے کچھ گھنٹے بہت مشکل ہوں گے۔ مگر بہت سے لوگوں کی کوششوں سے اس کی ساخت کا بچا لیا گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’نوٹرا ڈام ہماری تاریخ ہے، ہمارا  تصور، جہاں ہم سے نے اپنے بہترین لمحے گزارے ہیں۔ یہ ہماری زندگیوں کا مرکز ہے۔‘

پیرس کے پراسیکیوٹر آفس نے علان کیا ہے کہ وہ آگ لگنے کی وجوہات پتا کرنے کے لیے تحقیقات شروع کررہا ہے۔فرانس میں حالیہ دنوں میں گرجا گھروں میں آتش زنی کے کیسس رپوٹ ہوئے ہیں، مگر ابھی نوٹراڈام میں  جان بوجھ کر آتش زنی کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔

دینا بھر سے پیرس کے لیے خیر خواہوں کے پیغام بھی آنا شروع ہوئے۔ امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر لکھا: ’پیرس کے نوٹراڈام کیتھڈرل میں اتنی بڑی آگ دیکھ کر بہت برا محسوس ہورہا ہے۔ شاید اسے بجھانے کے لیے اڑتے پانی کے ٹینکروں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جلد ہی خود کرنا ہوگا۔‘

فرانسیسی افسران کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے ہوائی جہازوں سے پانی نہیں ڈالا گیا کیونکہ ڈر تھا کہ کہیں اس سے کیتھڈرل کی پوری ساخت نہ گر جائے۔

لندن کےمیئر صادق خان  نے کہا: ’لندن آج پیرس کے ساتھ افسردہ کھڑا ہے اور دوستی میں بھی ہمیسشہ ساتھ ہے۔‘

برطانیوی وزیراعظم نے کہا: ’میں آ ج فرانس کے لوگوں کے بارے میں سوچ رہی ہوں اور ان تمام ایمرجنسی سروسز کے بارے میں  جو نوٹراڈام میں اس ہولناک آگ سے لڑ رہے ہیں۔‘

یورپی کونسل کے صدر ڈانلڈ ٹسک نے کہا: ’پیرس کا نوٹراڈام تمام یورپ کا نوٹراڈام ہے۔ ہم سب آج پیرس کے ساتھ ہیں۔‘

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا: ’پیرس کے تاریخی نوٹراڈام کیتھڈرل میں تباہ کن آگ سے بہت افسردہ ہوں۔ صدیوں سے یہ کیتھولکز کے لیےعبادت کی جگہ تھی۔ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور امید کرتے ہیں فرانس کے لوگ اسے جلد ہی واپس تعمیر کرلیں گے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ