کابل یونیورسٹی فائرنگ: 19 افراد ہلاک، 22 زخمی

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی میں کتابوں کی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا اور جس وقت فائرنگ ہوئی موقعے پر کئی اہم شخصیات موجود تھیں،دولت اسلامیہ خراسان نے ذمہ داری قبول کرلی۔

(اے ایف پی)

افغانستان میں حکام کے مطابق پیر کی صبح کابل یونیورسٹی میں فائرنگ کے نتیجے میں  کم از کم 19 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوگئے جبکہ واقعے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ خراسان گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغان وزارت برائے صحت عامہ کے ترجمان اکمل سمسور نے فائرنگ کےنتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق کی۔

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی میں کتابوں کی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا اور جس وقت فائرنگ ہوئی موقعے پر کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔

مقامی ٹیلی ویژن طلوع اور آریانہ نیوز نے بتایا کہ یہ کتابوں کی افغان اور ایرانی مشترکہ نمائش تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونیورسٹی کے پروفیسر ذبیح اللہ حیدری نے مقامی ٹیلی ویژن آریانہ کو بتایا کہ جب فائرنگ شروع ہوئی اس وقت کلاسز ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اور سکیورٹی حکام نے طلبہ کو بحفاظت یونیورسٹی سے باہر نکالا۔

سکیورٹی فورسز نے یونیورسٹی کی  طرف جانے والی سڑکیں بند کردیں جبکہ پریشان حال خاندان یونیورسٹی میں زیرتعلیم اپنے بچوں تک پہنچنے  کی کوشش کرتے نظر آئے۔

واقعے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ خراسان نے قبول کرتے ہوئے 80 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔

دوسری جانب صوبہ ہلمند کے گورنر عمر زواک نے کہا ہے کہ پیر کو ایک گاڑی سڑک کے کنارے نصب بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد اس میں سوار سات شہری ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا